محمود فیاض


"لیسٹر میں سارے اچھے مرد یا تو شادی شدہ ہیں یا ہیجڑے”، اینجلا نے جھلا کر انیسٹیزیا سے کہا۔ انیسٹیزیا نے کنکھیوں سے میری جانب دیکھا اور اسکی ہاں میں ہاں ملائی۔ ۔ "اسی مخمود کو دیکھ لو، ۔ ۔ ۔ جب میں اس سے ملی، تو اس کی پولائٹنیس سے لگا یہ گے ہے، مگر یہ شادی شدہ نکلا۔ ۔ ۔

دونوں نے قہقہہ لگایا اور میری طرف دیکھنے لگیں، اشارہ یہ تھا کہ ہم نے بندر کو پتھر مار دیا ہے، اب جوابی کھیل شروع کرو۔ ۔ ۔


پرانے رشتے اور پرانے درخت کی گھنیری چھاٶں

شوگر سے نجات کا نسخہ،خود نہ تھکیں بیماری کو دوڑائیں

پہلے سمیسٹر کا آخری ہفتہ چل رہا تھا۔ یونیورسٹی کی کینٹین ہر اس وقت ہم تینوں کے علاوہ دوسرے کونے کی ٹیبل پر بیٹھا ایک پروفیسر تھا، جو ہوا میں گھورے جا رہا تھا۔ ۔

یونیورسٹی میں چہل پہل کم تھی، زیادہ تر اسٹوڈنٹس لندن کسی مظاہرے میں شرکت کے لیے گئے ہوئے تھے، یا پھر آنے والے ایگزام کی تیاری میں ہوسٹلوں میں اپنے اپنے کمروں میں بند تھے۔

مجھے لائبریری سے کچھ نوٹس کاپی کروانا تھا، کینٹین پر چائے پینے کو رکا تو انسٹیزیا اور اینجلا بھی لائبریری سے ادھر ہی چلی آئیں، اور نہ جانے کیوں یہ موضوع شروع ہو گیا ۔ ۔ ۔ اچھے لڑکے یا تو موجود ہی نہیں ہیں، یا پھر پہلے سے ہی ریلیشن شپ میں ہیں۔

اینجلا یونان سے آئی تھی، اور یونیورسٹی میں میوزیم اسٹڈیز میں ماسٹرز کر رہی تھی۔ ایوریج اسٹوڈنٹ تھی، مگر دیگر سرگرمیوں میں کافی ایکٹو تھی۔ ہر ویک اینڈ پر ڈاؤن ٹاؤن بارز میں جانا، ہلا گلا کرنا اس کا فیورٹ مشغلہ تھا۔

اچھا، ۔ ۔ ۔ تو تم یہاں اپنا لائف پارٹنر تلاش کرنے آئی ہو یونان سے، پڑھنے نہیں؟

میں نے بڑی بوڑھیوں والا طعنہ اینجلا کی طرف پھینکا۔ مگر یورپی کڑیوں کو اس سے زرا فرق نہیں پڑتا، نہ ہی وہ ہماری چارجڈ فیمنسٹ کی طرح پر پھلا کر چونچ سیدھی کرتی تھیں ۔ ۔ ۔ اس نے ہنستے ہوئے کہا،

کیا ہرج ہے ایک تیر میں دو شکار ہو جائیں، ویسے بھی میرا ٹارگٹ ہے کہ گریجویشن کے دو سال کے اندر میں نے شادی کر لینی ہے۔

مجھے انسٹیزیا کی طرح چالیس سال کی عمر میں تھیٹر پروڈیوسر نہیں بننا۔ میں ہاؤس وائف ہی بننا چاہتی ہوں، چند سال کی جاب بس ۔ ۔ ۔

اینجلا منہ پھٹ، تھی، اینسٹیزیا نے اپنے ہاتھ میں پکڑے سگرٹ کا گل اور اسکی بات دونوں کو جھاڑ کر ایک لمبا کش لیا اور دور فضا میں خود کو پروڈیوسر بنے دیکھنے لگی۔

اینجلا، تمہیں کیسا ساتھی چاہیے؟ میں نے غیر متوقع طور پر سنجیدہ سوال کر دیا، اس نے حیرانی کے ساتھ اپنی بات جاری رکھی ۔ ۔ ۔ کیسا کیا مطلب؟ مخمود ۔ ۔ ۔ مجھے ایک نارمل بندہ چاہیے بس ۔ ۔

زیادہ ہینڈسم نہ بھی ہو مگر کم سے کم کچھ لکس تو ہوں ۔ ۔ گریجویٹ نہ بھی ہو تو سینس آف ہیومر، اور زمہ داری کا احساس رکھنے والا ہو۔ بس ۔ ۔ اور کیا ۔ ۔ اور ۔ ۔ اور ہاں ۔ ۔ انسان کا بچہ ہو ۔ ۔ ۔ ہی ہی ہی ۔ ۔ ۔میرا مطلب ہے اسٹریٹ ہو ۔ ۔ الٹے سیدھے شوق نہ رکھتا ہو جسمانی تعلقات میں ۔ ۔ میں ایک سیدھی لڑکی ہوں ۔ ۔

ویسے زرا شوخیاں مارتی رہتی ہوں ۔ ۔ ۔ اینجلا کے جواب سے لگا وہ مجھے کسی شادی دفتر کا کلرک خیال کر رہی ہے۔

اور تم نے ایسا بندہ تلاش کرنے کے لیے کیا کیا؟ میں نے اپنے چائے کے کپ کو ہینڈل کی بجائے دوسری سائیڈ سے پکڑ کر ماڈرن لک دینے کی کوشش کی۔

میں نے؟ اینجلا نے شہادت کی انگلی اپنی ٹھوڑی پر رکھی اور زرا سا آگے ہو کر پھیلی ہوئی آنکھیں مجھ پر جما دیں۔

سمیسٹر کے اخیر تک میں ایسی نظروں کا عادی ہو چکا تھا ورنہ شروع میں گڑبڑا جاتا تھا۔ میں ایک ٹک اسکی آنکھوں میں دیکھتا رہا۔ ۔ ۔ پہلے دو ہفتوں میں لڑکی مجھے ایسے گھورتی تو میری نظریں زرا سی جھک جاتیں تھیں، جو زاویے کی معمولی غلطی سے لڑکی کو گڑبڑا دیتی تھیں۔

مجھے ہار نہ مانتے دیکھ اینجلا نے اپنی بات جاری رکھی، ۔ ۔ ۔ جیسے تم نہیں جانتے میں نے لیسٹر شہر کا ایک بار نہیں چھوڑا جہاں میں نہ گئی ہوں۔

ہر ویک اینڈ پانچ دس مختلف بارز میں گزرتا ہے۔ اور ابھی تک ملا کیا؟، وہ رک کر انگلیوں پر گننے لگی، ۔ ۔ ایک ڈرم۔بجانے والا، دو چائینیز ایشین، ایک الکوحلک افریقی، اور ایک سائیکو برطانوی، جو مجھ سے زیادہ میری فینٹیسیز سننے میں انٹرسٹڈ تھا۔ ۔ ۔ چند ایک نارمل چہرے نظر آئے مگر سب اپنی گرل۔فرینڈز ساتھ لائے تھے۔

ہمممم، میں نے گہری سوچ میں جانے کی اداکاری کی، تمہاری میوزیم کلاس میں کتنے لڑکے میں، اور ان میں سے کتنے اس ٹائپ کے ہیں جو ٹائپ تمہیں پسند ہے؟

اینجلا۔نے خلا میں دیکھتے ہوئے اپنے کلاس فیلوز گننا شروع کر دیے، آں ں ں ۔ ۔ بیک والی سیٹوں پر پانچ چائینیز اور دو افریقی بیٹھتے ہیں، جن میں سے صرف ایک افریقی مجھے معقول لگتا ہے۔ درمیان والی رو میں دو یونانی، اور تین انگلش لڑکے بیٹھتے ہیں، فرنٹ رو میں سارے انڈینز یا اسپینش ہیں۔ مجھے ان سب میں صرف دو انڈین، دو انگلش اور تینوں اسپینش ۔ ۔ ۔

بس بس بس، ویٹ ویٹ ۔ ۔ ۔ میں نے اینجلا کی گاڑی ہاتھ سے روکی۔ مجھے یہ سب بتانے کی ضرورت نہیں۔ تم نے کرنا صرف یہ ہے کہ کل کلاس کے بعد ان سب لڑکوں کے پاس جانا جو تمہیں معقول لگتے ہیں اور ان سے کہنا کہ میں ایک سروے اسائنمنٹ کر رہی ہوں، جس کے لیے آپ نے بتانا ہے کہ آپ اپنا ویک اینڈ کہاں گزارتے ہیں؟ ۔ ۔ ۔ بس وہ جو جواب دیں، وہ لا کر مجھے دکھا دینا۔ میں تمہارا مسئلہ حل کر دونگا۔

اینجلا نے میرے بالوں کی طرف ایسے نظر دوڑائی جیسے سینگ تلاش کر رہی ہو۔ مسٹر مخمود، تمہارے دماغ میں کیا ہے، یہ تم مجھے ابھی کے ابھی بتاؤ گے۔ ۔ سمجھے؟ ۔ ۔ میں کل تک انتظار نہیں کرنے والی۔

مجھے اسکی بےصبری طبعیت کا کچھ اندازہ تھا، میں نے فوری ہاتھ لہراتے ہوئے بتانا شروع کردیا۔ دیکھو اینجلا، میرا خیال ہے تم غلط جگہ اپنا پارٹنر تلاش کر رہی ہو۔ تمہیں ایک سنجیدہ اور کمٹمنٹ کرنے والا پارٹنر چاہیے مگر اسکو تم غیر سنجیدہ اور تفریحی جگہوں پر تلاش کر رہی ہو۔ جبکہ تمہارا مسٹر رائٹ اپنا ویک اینڈ کہیں اور بیتاتا ہے۔ اس لیے کل تم یہ سروے کرو اور مجھے رپورٹ کرو۔

اونہہ رپورٹ کرو، اینجلا نے آنکھیں گھمائیں، انیسٹیزیا البتہ دلچسپی سے ہم دونوں کی نوک جھونک سن رہی تھی، اس نے ہمیں یاد دلایا کہ آخری ہفتہ رہ گیا ایگزام میں، چل کے کچھ پڑھ بھی لیں۔ ہم جانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔

اس گفتگو کے ایک ہفتہ بعد تک میں اپنی مصروفیات میں گم رہا۔ اپنی آڈینس ریسرچ کی پروفیسر کو فائنل اسائنمنٹ جمع کروا کر لوٹ رہا تھا کہ اینجلا نے دور سے دیکھ کر مجھے آواز دی، اور میرے پاس چلی آئی۔

یو آر سم تھنگ، ۔ ۔ آئی ٹیل یو۔ وہ خوشی و حیرت سے بتا رہی تھی۔ میرا اتنا بڑا مسئلہ تم نے حل کر دیا۔ میں نے سروے کیا تو گیارہ میں سے صرف ایک لڑکے نے بارز میں جانے کو اپنا ویک اینڈ قرار دیا۔ باقی سب کسی نہ کسی اور ایکٹوٹی میں بزی رہتے ہیں۔ کسی ہابی میں وقت گزارتے ہیں یا کمیونٹی سروسز کرتے ہیں۔

مجھے تمہارا پوائینٹ اسی روز سمجھ میں آ گیا تھا، مگر یقین نہیں تھا کہ میں اتنا غلط جا رہی ہوں۔ میں اپنی ٹائپ کے پارٹنرز وہاں تلاش کر رہی تھی جہاں وہ کبھی موجود ہی نہ تھے۔ کتنی بیوقوف تھی میں۔ یو آر رئیلی جینئس۔ ۔ ۔ اس نے گرمجوشی سے بازو پکڑ کر مجھے اپنے ساتھ بھینچ لیا۔

میں جو انکساری میں گردن ہلانے والا تھا کہ بندہ کس لائق ہے۔ ۔ ۔ اسکی یہ گرمجوشی دیکھ کر اردہ بدل بیٹھا اور صرف اتنا ہی کہا کہ مجھے چند اور گر بھی آتے ہیں، تم ویک اینڈ پر کیا کر رہی ہو؟


دیس فرنگ سے صحافت کی سند پانے والے محمود فیاض لکھنے پڑھنے کا شغل رکھتے ہیں ،سوشل میڈیا کے میدان پر کھل کر کھیلتے ہیں اور سیاست سمیت تمام موضوعات پر طبع آزماٸی کرتے ہیں

Translate »