Spread the love

آزادی ڈیسک


فلسطین میں اسرائیل کو کن گروپوں سے مزاحمت کا سامنا ہے ؟
مغربی ذرائع ابلاغ عموماً اسرائیلی نکتہ نظر کے تحت فلسطینی مزاحمت کو چند مذہبی گروپوں کیساتھ منسلک کرتا ہے ،کیوں کہ اسرائیلی بیانیہ کے مطابق فلسطین کا معاملہ شدت پسند اسلامی گروہوں مثلاً اسلامک جہاد اور حماس کے ہاتھوں یرغمال بن چکا ہے

حالانکہ ایسا نہیں بلکہ اسرائیل کو فلسطین میں جہاں مذہبی خیالات کی حامل حماس ،اسلامک جہاد جیسی تنظیموں کی مزاحمت کا سامنا ہے وہیں سیکولر نظریات کی حامل فتح ،سوشل پاپولر فرنٹ اور دیگر کئی طبقات کی جانب سے بھی اس کی شدید مخالفت کی جاتی ہے

اصل حقائق کیا ہیں ؟
امریکہ ،یورپی یونین اور برطانیہ حماس کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ہیں ۔ 2006 میں حماس نے فلسطینی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی ،جو اس کی عوامی پذیرائی کا ثبوت تھا ۔لیکن مغرب کے حمایت یافتہ محمود عباس کی زیر قیادت فلسطینی اتھارٹی نے اقتدار حماس کے حوالے کرنے سے انکار کردیا

مغربی بیانیہ کے مطابق فلسطین اسرائیل تنازعہ کے ذمہ دار صرف حماس اور اسلامک جہاد ہیں جو اسرائیل کی مخالفت کرتے ہیں ۔جبکہ مذکورہ دونوں گروپ ہی قومی سطح پر اور بالخصوص غزہ میں چلنے والی مزاحمتی تحریک کے سرخیل ہیں ۔


یہ بھی پڑھیں 

غزہ کا دنیا کے قدیم وخوشحال ترین شہرسے ایک محصور پٹی کا سفر

صیہونی ریاست جنگ عظیم اول سے قیام اسرائیل تک (حصہ دوم )


تاریخی طور پر ماضی میں کئی گروپ صیہونی ریاست کے خلاف برسرپیکار رہے ہیں ۔جن میں سیکولر نظریات کی حامی الفتح اور فلسطینی مسیحی رہنما جارج حباش کی قائم کردہ پاپولرفرنٹ برائے آزادی فلسطین نمایاں رہی ہیں

باوجودیکہ اسرائیلی سیاسی قیادت فلسطینی مزاحمت کو اسلامی شدت پسندی سے جوڑنے کی ہر ممکن کوشش کرتی رہی لیکن حقیقت یہ ہے کہ نہ صرف مسلمان آبادی بلکہ مسیحییوں نے بھی اسرائیل کے خلاف مزاحمت کی ہر موقع پر حمایت کی

حالیہ دنوں میں بھی نہ صرف غزہ بلکہ الفتح کے زیر اثر علاقوں مقبوضہ مشرقی بیت المقدس ،مغربی کنارے میں بھی شدید مزاحمت دیکھنے میں آئی ہے ۔اسی طرح شیخ جراح کے علاقے میں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے زبردستی بے دخل کئے جانے کے فیصلے کے خلاف خود اسرائیلی عربوں کی جانب سے بھی شدید ردعمل دیکھنے میں آیا اور تمام علاقوں میں موجود عرب آبادی اس ظالمانہ فیصلے کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہے

حالانکہ اسرائیل میں موجود عرب اسرائیلی انتخابات میں باقاعدہ حصہ لیتے ہیں،حالیہ ردعمل فلسطینی مزاحمت کی ہمہ جہتی اور پیچیدگیوں کو اجاگر کرتی ہے ،جس کا اظہار نہ صرف فلسطین بلکہ اسرائیلی علاقوں میں بھی دیکھنے میں آیا ہے

Image by WikimediaImages from Pixabay

فلسطینی جدوجہد کو اسرائیل اور اس کے حامی مغربی ممالک اسلامی شدت پسندی سے جوڑنے کی کوشش کررہے ہیں ،جبکہ فلسطینی جدوجہد کو تمام نظریات کی حامل جماعتوں اور عوام میں پذیرائی حاصل ہے

فلسطینی تنظیموں کا تعارف
الفتح
الفتح کی بنیاد 1959 میں یاسر عرفات نے اپنے چند دوستوں صالح خلاف ،خلیل وزیر اور خالد یشورتی کے ساتھ ملکر کویت میں رکھی ،ان میں سے صالح خلاف اور خلیل وزیر کو تیونس میں قتل کردیا گیا جبکہ یشورتی کی بیروت میں پراسرار حالات میں موت واقع ہوئی ۔

اسی طرح 2004 میں فتح کے سربرا ہ یاسر عرفات کی موت اس وقت مشکوک انداز میں ہوئی جب دوسرا انتفادہ اپنے عروج پر تھا ۔عالمی برداری اور فلسطینی خود بھی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ یاسر عرفات زہرخورانی کا شکار ہوئے

الفتح کے قیام کا بنیادی مقصد عربوں کی ناکامی کے بعد اسرائیل کیخلاف فلسطینی مزاحمت کو مقامی سطح پر منظم کرنا تھا ۔جس میں زیادہ تر فلسطینی شامل تھے ۔

تجزیہ نگاروں کے نزدیک الفتح کی جانب سے اسرائیلی مفادات پر زبردست حملوں اور یاسر عرفات کی کرشماتی شخصیت نے مسئلہ فلسطین کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔لیکن 1993 میں اوسلو معاہدے کو تسلیم کرنے پر یاسر عرفات اور الفتح کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا ،جس کے نتیجے میں مزاحمتی تحریک پر منفی اثرات مرتب ہوئے اور فلسطین سیاسی طور پر تقسیم ہوگیا

دوسرے انتفادہ کے دوران حماس ،اسلامک جہاد اور الفتح کے مسلح دھڑے الاقصیٰ بریگیڈ نے اہم کردار ادا کیا ۔اور قابض صیہونی افواج کو زبردست زک پہنچائی ۔الفتح کے ایک اہم رہنما ،اوسلو معاہدے کے مخالف اور الاقصیٰ بریگیڈ کے بانی مروان برغوتی 2002 سے اسرائیل کی قید میں ہیں
جبکہ محمود عباس کے نرم اور مفاہمتی طرز عمل کی وجہ سے الفتح کا فلسطینیوں پر رسوخ بڑی حد تک کم ہوگیا

حماس

اوسلو معاہدہ کے بعد الفتح کی سیاسی ساکھ بڑی حد تک کمزور ہوئی ،جس کے نتیجے میں 1990 میں حماس نامی گروپ ابھر کرسامنے آیا ،اور اس نے اسرائیلی قبضہ کیخلاف بھرپور مسلح مزاحمت کے زریعے بڑی تعداد میں فلسطینیوں کو اپنی جانب متوجہ کرلیا ۔
حماس بنیادی طور سیاسی اسلامی نظام کی حامی اخوان المسلمون کی فلسطینی شاخ ہے جس کی بنیاد1987 میں شیخ احمد یاسین نے رکھی ،عبدالعزیز الرنتیسی ،محمود ظاہر،محمد طہٰ اور دیگر اہم فلسطینی شخصیات ان کے ساتھ شریک تھیں

شیخ یاسین احمد کو حماس کا فکری رہنما کہا جاتا ہے ،جو کئی طرح کی معذوریوں کا شکار ہونے کے باوجود حماس کی فیصلہ کن شخصیت تھے ،شیخ یاسین احمد کو 2004 میں اسرائیل نے ایک میزائل حملے کا نشانہ بنایا ۔
اسی طرح حماس کے کئی دیگر اہم رہنما اور کمانڈر اب تک اسرائیلی فضائی حملوں میں مارے جاچکے ہیں ،لیکن اس تنظیم کی جانب سے قیادت کے چنائو کا ایک مربوط،خفیہ اور منظم نظام موجود ہے جس کا مقصد اسرائیل نفوذ کو ہر ممکن روکنا ہے
یہی وجہ ہے کہ شیخ یاسین احمد کے مارے جانے کے بعد اب حماس کی زیادہ تر قیادت غیر معروف ہے ۔2006 میں انتخابات میں کامیابی کے بعد الفتح کی جانب سے اقتدار حماس کے حوالے کرنے سے انکار کے نتیجے میں دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوگئی اور حماس نے غزہ کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا
2006 ،2008،09 اور پھر 2014 میں اسرائیلی جارحیت کےخلاف بھرپور مسلح مزاحمت کے نتیجے میں حماس فلسطینیوں میں نمایاں مقبولیت کی حامل جماعت ہے ۔ایک اندازے کے مطابق حماس کے مسلح جنگجوئوں کی تعداد 40 ہزار کے قریب ہے

پاپولر فرنٹ برائے آزادی فلسطین
سوشلسٹ نظریات کی حامل یہ تنظیم 1967 میں فلسطینی مسیحی رہنما جارج حباش نے قائم کی تھی ۔یہ الفتح کے بعد فلسطینیوں کی دوسری بڑی سیاسی جماعت رہی ۔حماس کی طرح پاپولر فرنٹ بھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتی اور اسرائیل کے ساتھ مذاکرات سے انکار کرتی ہے ،جبکہ اس تنظیم کےنظریہ کے مطابق تنازعہ کے خاتمہ کا واحد زریعہ صرف اور صرف یک ریاستی فارمولہ ہے

اس تنظیم کو بھی امریکہ اور یورپی یونین نے حماس کی طرح دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے ۔جبکہ اس تنظیم کے موجودہ سربراہ احمد سعادت کو 2006 میں گرفتار کیا گیا اور انہیں 30 سال قید کی سزا سنائی گئی

اسلامک جہاد
ایران کا حمایت یافتہ یہ گروپ 1981 میں فتحی شقاقی کی زیرقیادت قائم ہوا ،جس میں عبدالعزیز عودہ ،رمضان صالح اور چار دیگر رہنما شامل تھے ۔دیگر چھ فلسطینی تنظیموں کی طرح یہ گروپ بھی فسلطینی مسلح اتحاد کا حصہ ہے ۔نظریاتی اختلافات کے باوجود متعدد مواقع پر پاپولر فرنٹ اور اسلامک جہاد کا نکتہ نظر یکساں رہا ،

عوامی مزاحمت
دوسرے انتفادہ کے دوران اسرائیلی مزاحمت کا ایک اور پہلو اجاگر ہوا جب عوام نے اسرائیلی مظالم کے خلاف غیر مسلح مزاحمت کا آغاز کیا اور اس تحریک کو بھی عوامی سطح پر کافی پذیرائی ملی

Translate »