آزادی ڈیسک


غزہ کی پٹی پر گیارہ روزہ جنگ کے بعد ہونے والے امن معاہدے کو ایک بار پھر توڑ دیا ،اسرائیلی فضائیہ کے طیاروں کی منگل کی رات کو محصور غزہ کی پٹی پر ایک بار پھر بمباری شروع کردی

یہ بمباری اس وقت شروع کی گئی جب شدت پسند یہودی آبادکاروں کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں ہونے والے پرچم مارچ کیخلاف غزہ سے بڑی تعداد میں احتجاج مغربی اسرائیل کی جانب فضا میں غبارے چھوڑے گئے


یہ بھی پڑھیں

  1. عربوں کی پہلی سیاسی جماعت اسرائیلی حکومت کا حصہ بن گئی
  2. اسرائیل کے زیراثرمغربی دنیا کا بیانیہ اور مزاحمت کرنے والی فسلطینی تنظیمیں
  3. مسلم دشمنی کی بنیاد پر استوار ہونیوالا بھارت اسرائیل معاشقہ
  4. صیہونی ریاست جنگ عظیم اول سے قیام اسرائیل تک (حصہ دوم )

تازہ جارحیت 21 مئی کو ہونے والے سیز فائر معاہدے کے بعد کی گئی جب اسرائیل اور حماس کے درمیان 11 روزہ یکطرفہ جارحیت کے بعد بین الاقوامی برادری کی مداخلت سے فائربندی ہوئی تھی

جبکہ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں 260 فلسطینی شہید ہوئے تھے جبکہ حماس کے راکٹ حملوں میں 11 اسرائیلی بھی مارے گئے تھے

حماس کا ردعمل

غزہ میں قائم حماس کے ایک ریڈیو سٹیشن نے اطلاع دی کہ اسرائیلی طیاروں نے غزہ میں ایک تربیتی مرکز پر فضائی حملہ کیا ہے
جبکہ اسرائیلی فوج نے بھی حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردانہ حملوں کے خلاف بھرپور جوابی کاروائی کی جائے گی

دوسری جانب اسرائیلی فائربریگیڈ نے تصدیق کی ہے کہ غزہ سے چھوڑے جانے والے آتش گیر مادے سے بھرے غباروں کی وجہ سے سرحدی علاقوں کے قریب 20 مقامات پر آتشزدگی کے واقعات رونما ہوئے ہیں

قبل ازیں حماس نے مقبوضہ مغربی کنارے میں ہونے والےشدت پسند یہودیوں کی جانب سے پرچم مارچ کےخلاف سخت ردعمل کا اعلان کیا تھا

واضح رہے کہ مغربی کنارے کے شدت پسند یہودی ہر سال 1967 میں اردن سے بیت المقدس کو چھینے جانے کے واقعہ کی یاد میں خوشی مناتے ہیں

اقوام متحدہ نے فریقین کو مارچ کے حوالے سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی تھی،جبکہ نومنتخب اسرائیلی وزیر اعظم بینٹ نفتالی نے اس مارچ کی اجازت دی ہے

Translate »