0 0
Read Time:2 Minute, 49 Second

آزادی ڈیسک
بدھ کے روز اسرائیل میں ہونے والے انتخابات میں وزیراعظم بنیامین نتن یاہو کی پارٹی سمیت تمام جماعتوں کو ایک بار پھر مشکل میں ڈال دیا کیوں کہ کوئی بھی جماعت تنہا حکومت بنانے کی پوزیشن حاصل نہیں کرسکی ،جس کے بعد وہاں دیگر جماعتوں پر مشتمل اتحادی حکومت قائم ہونے کا امکان ہے

البتہ ان انتخابات میں پہلی بار اسلام پسند جماعت ایسی پوزیشن میں آگئی ہے جو مستقبل کی اسرائیلی حکومت کے قیام میں اہم ترین کردار ادا کرسکتی ہے


معاہدہ لوزان اور 2023 کے بعد کا ترکی

شام کی داستان خون آشام اور حوصلوں‌کاقصہ

اسراٸیلی جیل میں قید فلسطینی شہری کے سمگل شدہ نطفے سے بیٹے کی پیداٸش


Francesco Mazzucotelli

بدھ کے روز ہونے والے انتخابات میں منصور عباس کی جماعت القائمہ العربیہ الموحدۃ یا راعم کو اسرائیلی پارلیمان کنیسٹ کی 120 نشتستوں میں سے اب تک 5 نشستیں حاصل ہوچکی ہیں ،جس کے بعد منصور عباس نے واضح کیا کہ وہ کسی کے ساتھ بھی اتحاد کیلئے تیار ہیں ،تاہم وہ اپنا فیصلہ کرنے میں آزاد ہیں

گذشتہ سال ہونے والے انتخابات کے دوران منصورعباس کی جماعت راعم عرب جماعتوں کے اتحاد کا حصہ تھی ،لیکن نظریاتی اختلافات کی بنیاد پر یہ اتحاد جلد ہی ختم ہوگیا تھا
قدامت پسند نظریات کے حامل منصور عباس کے عرب اسرائیلی جماعتوں اور کیمونسٹ جماعتوں کے ساتھ بھی اختلافات رہے ہیں
انتخابات سے ایک ہفتہ قبل منصور عباس نتن یاہو کے ساتھ اشتراک عمل کا اشارہ دے چکے ہیں حالانکہ وزیر اعظم بنیامین نتن اپنے سیاسی کیریئر کے دوران متعدد موقعوں پر اسرائیلی عربوں کی تضحیک کرتے آرہے ہیں

تاہم منصور عباس کا خیال ہے کہ اسرائیلی عرب رہنمائوں کو اقتدار میں موجود جماعتوں کے قریب ہونا چاہے تا کہ عرب لوگوں کے خلاف ہونے والے جرائم کی روک تھام ممکن ہوسکے

اس وقت تک انتخابی نتائج کے مطابق نتن یاہو اور ان کی حامی جماعتیں مجموعی طور پر 55 نشستیں حاصل کرپائی ہیں جبکہ ان کی مخالف جماعتوں کے پاس 56 نشستیں ہیں ،ایسی صورت میں 61 نشستوں کا ہدف حاصل کرنے لئے نتین یاہو کو مذہبی و قوم پرست رہنما نفتالی بینت کے ساتھ اتحاد کرنا ہوگا ،جن کے پاس 7 نشستیں ہیں ،جبکہ منصور عباس کی جماعت کو بھی اس اتحاد میں شامل کرنا ہوگا

لیکن نجیب الطرفین نظریات کی حامل جماعتوں کا اتحاد ممکنہ طور پر زیادہ پائیدار ثابت نہ ہوپائے

حالیہ انتخابات کے بعد نتن یاہو کے حامیوں میں شدت پسند صیہونی ووٹ بھی شامل رہا جو عربوں کے ساتھ شدید مخاصمانہ نظریات کے حامل ہیں ،ایسی صورت میں شدت پسند صیہونی نظریات کے حامیوں اور منصور عباس کا بھی نتن یاہو کی قیادت میں ایک جگہ بیٹھنے کا امکان کم نظر آتا ہے
ایسی صورت میں منصور عباس کو اپنے ساتھ ملانے پر نتن یاہو کو بہت سی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے

اس لئے سیکولر جماعت عیش اتید اور لیکوڈ پارٹی سے علیحدہ ہونے والا دائیں بازو کا دھڑہ ہی ممکنہ اتحاد میں شامل ہوسکتے ہیں
تل ابیب یونیورسٹی سے وابستہ تجزیہ نگار امل جمال کے مطابق اسلام پسند منصور عباس اور ان کی جماعت کیلئے کوئی بھی سرخ لکیر نہیں وہ اپنے مقاصد کے حصول کیلئے کسی بھی اتحاد میں شامل ہوسکتے ہیں ،اور اس مقصد کیلئے وہ فی الوقت تمام جماعتوں کیساتھ پینگیں بڑھائیں گے اور جہاں انہیں اپنا مقصد پورا ہوتا نظرآیا وہ ان کے ساتھ شامل ہوجائیں گے

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
Translate »