Join Our Membership

Advertisement Section
Read Time:11 Minute, 13 Second

صفدرحسین

ایبٹ آباد 03 مئی 2021


2 مئی 2011کو ایبٹ آباد میں القاعدہ رہنما اسامہ بن لادن کو امریکی فوج نے ایک آپریشن کے دوران مبینہ طور پر مار دیا ۔آج اس واقعہ کو گزرے دس سال پورے ہوچکے ہیں ۔

اس دوران پاکستان اور امریکہ دونوں میں سیاسی و فوجی قیادتیں تبدیل ہوچکی ہیں ،عالمی منظرنامے پر کئی تبدیلیاں رونما ہوچکی ہیں

نئی صف بندیاں اور اتحاد وجود میں آرہے ہیں ،دہشت گردی کے معانی تبدیلی ہوچکے ہیں اور دہشت گردی کےخلاف جنگ نئے انداز کو اپنا رہی ہے

لیکن اسامہ بن لادن کی موت سے جڑے دس سوال ایسے ہیں جن کے جواب ابھی بھی ملنا باقی ہیں ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اسامہ کے مارے جانے کے بعد کئی ایسی عالمی تنظیمیں وجود میں آئیں ،جنہیں امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک نے القاعدہ کےبعد سب سے بڑا خطرہ سمجھا یا وہ واقعی اپنے اپنے دائرہ کار میں بڑے پیمانے پر دہشت و تباہی کا سبب بنیں ۔جن میں داعش ،تحریک طالبان پاکستان اور القاعدہ کے وجود سے جنم لینے والی اس کی ہم خیال تنظیمیں شامل ہیں


یہ بھی پڑھیں


گذشتہ پندرہ سولہ سال کے دوران ان تنظیموں کا وجود بڑی حد تک ختم یا محدود ہوگیا ۔پاکستان نے ہزاروں جانوں کی قربانی دیکر تحریک طالبان یا چھوٹی علاقائی دہشت گرد تنظیموں سے نجات حاصل کی

شام و عراق میں بدترین خونریزی کے بعد داعش کا وجود کسی حد تک تحلیل ہوا ۔مشرق وسطیٰ میں کئی ایسی تنظیمیں ابھی بھی فعال و سرگرم ہیں جو پراکسیز کی حیثیت سے ابھی بھی کام کررہی ہیں

لیکن امریکہ ،یورپ ،ایشیاء یعنی دنیا کے تین براعظموں تک پھیلی اس کہانی کےمرکزی کردار یعنی اسامہ بن لادن جس کی کہانی کا آغاز سعودی عرب سے ہوا ،جس نے افغانستان میں نشوو نما پائی اور جس کے اثرات امریکہ و یورپ تک پہنچے اور بالآخر اس داستان کا پراسرار طور انجام پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں ہوا

ایبٹ آباد میں اسامہ کی موجودگی کا ثابت ہونا آج بھی بہت سے حلقوں میں شک و شبہ کا باعث بنا ہوا ہے:فوٹو صفدرحسین

اسامہ بن لادن کی موت کو دس سال بیت چکے ہیں لیکن یہ دس سوال ابھی بھی جواب طلب ہیں 

1:اسامہ بن لادن کو پاکستان میں کون لایا ،جہاں وہ کئی سال تک اپنے اہلخانہ کے ہمراہ  خاموشی اور امن زندگی بسر کرتے رہے

2:امریکہ کو اپنے ایک اتحادی ملک پر رات کی تاریکی میں چڑھائی کرنے اور اس کی سالمیت کا مذاق اڑانے کی ضرورت کیوں کر پیش آئی

3:کیا امریکہ کو اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی کا پہلے سے علم تھا؟

4:پاکستان کا ردعمل کیا تھا اور کیا ہونا چاہیے تھا ؟

5:کیا واقعی امریکہ نے اسامہ بن لادن کو 2 مئی کو ایبٹ آباد میں مار دیا تھا ؟

6:اگر امریکی دعویٰ سچا ہے تو وہ آج تک اس کا کوئی ٹھوس ثبوت پیش کیوں نہیں کرسکا ؟

7:پاکستان کی سالمیت کو پامال کرنیوالے امریکہ کو اسامہ کو مارنے کا مقصد کیا تھا اور وہ اپنا مقاصد کس حد تک حاصل کرپایا؟

8:ایبٹ آباد میں واقع کمپائونڈ کو منہدم کرنیکا مقصد کیا تھا ؟

9:   2 مئی کے واقعہ میں امریکی آمد ورفت کو روکنے میں غفلت کے ذمہ داروں کے تعین کیلئے بنایا جانے والا ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ کو عام نہ کرنا اور ذمہ داروں کےخلاف کاروائی نہ ہونا کس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے ؟

10: اس واقعہ سے پاکستانی مقتدرہ نے کیا سبق حاصل کیا ؟

ان سوال کا جواب کھوجنے کیلئے ہم نے چند صحافیوں سے بات چیت کی ہے جو گذشتہ ڈیڑھ دو دہائیوں سے صحافت سے وابستہ ہیں اور خطے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں پر گہری نظر رکھتے ہیں


سید کوثر نقوی

کے مطابق اسامہ بن لادن سے جڑے تمام سوالوں کے جواب کسی حد تک معلوم ہیں ،لیکن شاید یہ ایسا معاملہ ہے جس پر ہر کوئی خاموشی اختیار کرنا چاہتا ہے

اس کا سب سے بہتر طریقہ تو یہی تھا کہ ایبٹ آباد واقعہ کی چھان بین کے لئے قائم ہونے والے ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ کو عام کیا جاتا

اسامہ کے معاملہ پر بہت سے جاننے کے باوجود کبھی کھل کر بات کرنے سے گریزاں رہے ،سید کوثر نقوی

تاکہ اس کہانی سے جڑے تمام کردار سامنے آپاتے اور ان کے ذمہ داروں کا تعین ہوپاتا

لیکن قرائن تو یہی ہیں کہ سرکاری سطح پر اس معاملے کو فراموش کرنا ہی زیادہ بہتر سمجھا جا رہا ہے ۔

کیوں کہ کچھ حقیقتیں ایسی ضرور ہیں جن کا پاکستان جیسا ملک متحمل نہیں ہوسکتا

اگرچہ ہمارے پاس اس حوالے سے کوئی ایسے ٹھوس شواہد موجود نہیں صرف قیاس کی بنیاد پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ امریکی سیاسی قیادت نے اپنے سیاسی مفادات کیلئے یہ ایڈونچر کھیلا اور جس کا انہوں نے وقتی طور پر سیاسی فائدہ بھی حاصل کیا

کیوں کہ اسامہ زندگی کے اس حصے میں تھے جہاں وہ عملی طور پر زندہ رہ کر شاید کسی کےلئے نقصان کا باعث نہیں بن سکتے تھے

لیکن اس کے باوجود امریکہ نے ایک ایڈونچر کیا جو دہشت گردی کےخلاف عالمی جنگ میں اس کے اہم اتحادی کیلئے عالمی و مقامی سطح پر سبکی کا باعث بنا

اسامہ کے واقعہ کے بارے میں ابھی بھی کئی شکوک و شبہات موجود ہیں اور شاید آنے والے وقت میں بھی یہ برقرار رہیں کیوں کہ اس معاملے کا اصل فریق اسامہ کے معاملے سے کہیں آگے نکل چکا اور یہ واقعہ اب اس کیلئے محض ماضی ہے

اسے افغانستان میں فوجی ہزیمت کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر نئی معاشی و سیاسی صف بندیوں کا سامنا ہے،اسے کئی ایسے چیلنجز درپیش ہیں جہاں اسامہ کا ایشو اس کے لئے اب بے معنی ہو چکا ہے

جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ اس واقعہ کے بعد اسے دہشت گردی پر قابو پانے میں کس حد تک مدد ملی یا پہلے سے اس کی گرفت مضبوط ہوئی ہے

تو میں سمجھتا ہوں کہ بین الاقوامی سطح پر جاری کھیل میں نئے کھلاڑی داخل ہوچکے ہیں جس سے طاقت کا توازن امریکہ کے ہاتھوں میں مرتکز ہونے کے بجائے منتشر ہوا ہے

جنگی صلاحیتوں کے معنی بدل چکے ہیں ،اب معیشت ہی اصل جنگ ہے ،جس میں چین حالیہ ڈیڑھ دو عشروں کے دوران انتہائی تیزی کے ساتھ نئی طاقت کے طور پر سامنے آرہا ہے

جہاں تک افغانستان سے امریکی پسپائی کا تعلق ہے تو اس میں اسامہ یا القاعدہ سے بڑھ کر وہاں کا جغرافیائی اور تاریخی پس منظر زیادہ اہمیت کا حامل ہے

21 ستمبر 2012 کو ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے حق میں ہونے والے ایک مظاہرے میں نوجوان شریک ہیں ،فوٹو صفدرحسین

کیوں کہ افغانستان اپنی پوری تاریخ میں بیرونی طاقتوں کیلئے ناقابل تسخیر رہا ،تاج برطانیہ کی پسپائی کے قصے ہم نے کتابوں میں پڑھے تھے ،لیکن دو عالمی طاقتوں کو وہاں سے پسپا ہوتے ہماری نسل اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ چکی ہے ۔لہٰذا اسامہ فیکٹر کا شاید افغانستان سے پسپائی کے ساتھ کوئی زیادہ تعلق نظر نہیں آتا ۔

البتہ یہ ضرور ہوا کہ اسامہ واقعہ کے بعد امریکہ اور پاکستان کے درمیان کئی مواقع پر عدم اعتماد کی فضا ضرور دیکھی گئی ،اور ماضی میں جو اتارچڑھائو ہوتا تھا وہاں اس واقعہ کے بعد اعتماد کم ترین سطح پر آگیا اور جس کا وقتاً فوقتاً مظاہرہ بھی ہوتا رہا ۔


سینئر صحافی زبیر ایوب

کہتے ہیں جہاں تک میں سمجھا ہوں امریکہ اسامہ بن لادن کی موجودگی سے نہ صرف باخبر تھا بلکہ میرے خیال میں انہیں یہاں پر لانے اور بسانے میں اس کا پورا کردار تھا

اسامہ کو مارنے کیلئے امریکہ نے آپریشن ضرور کیا لیکن وہ اس کی لاش کی کوئی تصویر یا ویڈیو بطور ثبوت آج تک نہیں پیش کرسکا ،

غالب امکان یہی ہے کہ اگر تو اسامہ یہاں موجود تھے اور وہ امریکی فوجیوں کے ہاتھوں مارے گئے تو ان کی لاش تباہ ہونے والے ہیلی کاپٹر میں تھی جو جل کر بھسم ہوگئی

میرے خیال میں امریکہ اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں موجودگی سے پہلے آگاہ تھا ،زبیر ایوب

 

کیوں کہ ہیلی کاپٹر کی خرابی کے باعث امریکی ٹیم کو عجلت میں یہ مقام چھوڑنا پڑا ،اور انہیں اپنا خرابی کا شکار ہونے والا ہیلی کاپٹر خود تباہ کرنا پڑا ،

اور جلدی میں لاش ساتھ نہ لے جا سکے ۔کیونکہ  ہیلی کاپٹر میں بھڑکنے والی آگ اتنی شدید اور تباہ کن تھی کہ اس میں ہر چیز جل کر راکھ ہوگئی اور وہاں کسی چیز کا نام و نشان ملنا بھی ممکن نہ تھا

بظاہر یہ سب کچھ امریکی سیاسی قیادت نے اپنے وقتی سیاسی فائدے کیلئے کیا ،اور اس واقعہ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان عدم اعتماد کی خلیج مزید وسیع ہوئی ۔

یہ آنے والے دور میں ثابت ہوگا کہ دونوں ممالک کے درمیان دوریاں یا بداعتمادی کس کے حق میں کس حد تک سود مند یا نقصان دہ ہوگی

ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ اگر شائع کردی جاتی تو کئی معاملات پر جمی شکوک وشبہات کی گرد چھٹ جاتی لیکن شاید پاکستانی مقتدرہ کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں رہی

اس وقت ابتدائی طور پر جو شواہد فوری طور پر ہمارے سامنے آئے ان سے تو یہی واضح ہوتا ہے کہ فوجی و سول قیادت اسامہ کی موجودگی سے کلی طور پر لاعلم تھی

پاکستانی حکومت نے ایبٹ آباد آپریشن کے چند ماہ بعد ہی اسامہ بن لادن کے کمپائونڈ کو زمین بوس کردیا ،تصویر:صفدر حسین

لیکن یہ سوال ہمیشہ حل طلب رہیں گے کہ اسامہ کو ایبٹ آباد میں کون لایا ،انہیں یہاں کس نے رہنے میں مدد دی ،اور سب سے بڑھ کر یہ کہ انتہائی حساس علاقے میں وہ کئی سال تک بغیر کسی کے علم میں آئے موجود رہے ؟


محمد صداقت حسن کے بقول 

اسامہ کا واقعہ پاکستان اور امریکہ دونوں کی تاریخ کا ایک بڑا واقعہ ہے ،جس میں ثانی الذکر نے پاکستان کی ساکھ اور عزت کی قیمت پر اپنے اہداف حاصل کیے

امریکہ دنیا کو جتانا چاہتا تھا کہ وہ دنیا کی سپر پاور ہے جو کہیں بھی اور کسی بھی مقام پر اپنے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے

کیوں کہ امریکی قیادت کو اپنے ووٹروں اور شہریوں کو بھی مطمئن رکھنا تھا کہ انہوں نے نائن الیون کا بدلہ لے لیا ہے اور اپنی مرضی اور مقام پر لیا ہے

امریکہ نے اسامہ کی لاش جان بوجھ کر غائب کی تاکہ اس کا کوئی نشان مزاحمت پسندوں کیلئے استعارہ نہ بن جائے ،محمد صداقت حسن

البتہ پاکستانی قیادت کا معذرت خواہانہ رویہ اس بات کا اظہار تھا کہ یہ معاملہ کہیں نہ کہیں کسی سطح پر باہمی رضامندی تھی

اور اس بات کو بعدازاں امریکی صدر باراک اوبامہ اور وزیر دفاع نے بھی تسلیم کیا کہ اسامہ کے تعاقب میں انہیں پاکستانی قیادت کا تعاون حاصل تھا

دیکھا جائے تو یہ سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد ملکی سلامتی کے حوالے سے دوسرا بڑا واقعہ تھا ،جب ایٹمی صلاحیت کے حامل ملک میں سینکڑوں میل اندر جا کر کسی دوسرے ملک نے آپریشن کیا ہو اور اپنے ہدف کو حاصل کرلیا ہو ۔

لیکن شاید ہم نے بحیثیت قوم اپنے ماضی کی کوتاہیوں اور غلطیوں سے سبق نہ سیکھنے کا تہیہ کررکھا ہے ۔کیوں کہ اس سے قبل سانحہ مشرقی پاکستان کے ذمہ داروں کے تعین کے لئے قائم ہونے والے جسٹس حمود الرحمن کمیشن کو جس طرح تہہ خانوں میں دبا دیا

بالکل اسی طرح ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ بھی طاق نسیاں کی زینت بنا دی گئی

اگر یہ رپورٹ شائع ہوجاتی اور ذمہ داروں کا تعین ہوجاتا تو شاید ہم مستقبل میں اس طرح کی ہزیمت و پشیمانی سے بچ پاتے

جہاں تک اسامہ بن لادن کی لاش کے حوالے سے سوالات ہیں ،یا ہر بار ثبوت کی بات کی جاتی ہے

تو میرے خیال میں امریکی مشرقی مزاج سے بخوبی آگاہ ہیں ۔اور انہوں نے جان بوجھ کر اس کی لاش کو نہیں دکھایا ۔یا اس کا کوئی ایسا نشان نہیں چھوڑا جو لوگوں کےلئے مزاحمت کا استعارہ بن جاتا

اس لئے انہوں نے جان بوجھ کر اسے غائب کردیا ۔اور اس کا کوئی ثبوت نہیں چھوڑا ،تاکہ رفتہ رفتہ وہ لوگوں کے وہم و خیال سے محو ہوجائے

ایبٹ آباد میں ایک مظاہرے کے دوران مظاہرین امریکی پرچم کو نذرآتش کررہے ہیں فائل فوٹو 14 ستمبر 2012

امریکہ کی افغانستان سے پسپائی کا القاعدہ یا اسامہ سے کوئی تعلق نہیں ،وہ اس کی اپنی معاشی یا سیاسی مجبوریاں ضرور ہو سکتی ہیں

کیوں کہ اس وقت عالمی سطح پر معاشی جنگ تیز ہورہی ہے جہاںزیادہ طویل عرصہ تک  فوجی کاروائیاں کسی بڑی طاقت کیلئے بھی قابل برداشت نہیں

اس لئے امریکہ کا افغانستان سے نکلنے کا فیصلہ بلکل اسی طرح کا ہے جس طرح ایک وقت میں برطانیہ کو اپنی ہندوستان کی نوآبادی کو چھوڑنا پڑا تھا

البتہ یہ ضرور ہے کہ مستقبل میں شاید امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات یا اعتماد میں وہ گرمجوشی نہ رہے اور وہ ماضی کی طرح ایک دوسرے کے قریب نہ آسکیں

یہی وجہ ہے کہ حالیہ عرصہ کے دوران امریکہ کا خطے میں بھارت کے ساتھ لگائو بڑھا ہے اور وہ افغانستان سے خود نکلنے کے باوجود افغانستان میں بھارت کے کردار کو برقرار رکھنے کیلئے کوشاں دکھائی دیا ہے

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
Previous post وفاقی محتسب اداروں کے خلاف شکایات کے ازالے میں کس حد تک کامیاب رہا؟
Next post دو مئی 2011 کی روداد ،صحافیوں کی زبانی
Translate »