سید عتیق الرحمن ،ایبٹ آباد


فلسطین اسرائیل تنازعے کا مرکزی مقام یروشلم ہے ۔ 637ء میں یروشلم کی چابیاں خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یروشلم کے عیسائی بشپ سوفرونیئس سے حاصل کیں تو شہر مسلمانوں کے قبضے میں آگیا ۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے چابیاں مدینہ کے ایک خاندان کے حوالے کیں ۔

اگلے چار سو چھیاسٹھ سال بعد 1099ء کو پہلی صلیبی جنگ میں یروشلم پر عیسائیوں نے قبضہ کیا جسے اٹھاسی سال بعد 1187ء میں دوبارہ سلطان صلاح الدین ایوبی نے اپنی سلطنت کا حصہ بنایا

اس کے بعد اس شہر کے لیئے متعدد جنگیں ہوئیں مگر عثمانیوں کے قبضے سے لے کر 1918ء تک یروشلم اور فلسطین مسلمانوں کے پاس رہا ۔ فلسطین پر یورپ اور ایشیا کی مرکزی تجارتی گزرگاہ بننے کے بعد یہاں برطانیہ نے بھی یہاں دلچسپی لینا شروع کر دی ۔

ارض فلسطین برطانیہ اور اتحادی طاقتوں کی توجہ کا مرکز کیسے بن گئی ؟

اس سوال کا جواب “الیہود والدولتہ العثمانیہ ” میں ڈاکٹر احمد نعیمی  ” تاریخ دولت عثمانیہ ” میں ڈاکٹر علی حسون ، اور ڈاکٹر الصلابی کے مطابق یہی ہے کہ یہودی اسے اپنا قومی وطن بنانا چاہتے تھے ۔ کیوں کہ یہاں ہیکل سلیمانی اور دیگر یہودی مقدسات تک رسائی ان کا دیرینہ خواب تھا۔

مگر مسئلہ یہ تھا کہ یہودی خطہ عرب سے اخراج کے بعد یورپی ممالک میں آباد تھے ۔ جنگ عظیم اول تک یہودی جرمنی ، برطانیہ اور روس ، آسٹریا ، ہنگری ۔ آرمینیا اور بلقان وغیرہ میں آباد تھے البتہ بلقان وغیرہ جب سلطنت عثمانیہ میں شامل ہوئے تو یہ یہودی بھی عثمانی سلطنت کے شہری بن گئے ۔ جرمنی میں آباد یہودی  اشکنازی اور سپین کے یہودی اسفاردی کہلاتے ہیں۔


یہ بھی پڑھیں 

آل یہود بابل کی اسیری سے صیہونی ریاست کے قیام تک(حصہ اول)

صیہونی ریاست جنگ عظیم اول سے قیام اسرائیل تک (حصہ دوم )


صیہونی تحریک کا بانی تھیوڈور ہرٹزل (1860ء تا 1904ء) تھا جو نہر سویز کے فرانسیسی معمار فرڈیننڈ ڈی لیسپیس سے متاثر تھا ویانا سے اس نے قانون کی ڈگری لی ۔ وہ ہنگری کے دارالحکومت بڈاپسٹ میں پیدا ہونے والا ایک صحافی اور ادیب اور سیاسی کارکن تھا ۔ ہرٹزل 1896ء میں سلطان سے ملاقات کرنے کے لیئے قسطنطنیہ آیا ۔ جہاں اس نے اخبار برید الشرق کے مدیر لیونسکی کی وساطت سےفلسطین میں یہودی ریاست قائم کرنے کی اجازت طلب کی۔

اس بات کی گواہی اس خط سے بھی ملتی ہے جو سلطان نے سلسلہ شاذلیہ کے بزرگ اور اپنے روحانی مرشد شیخ ابو الشامات کو اپنی معزولی کے بعد لکھا ۔ سلطان نے لکھا کہ مجھے فلسطین کے بدلے کثیر مراعات کی پیشکش کی گئی ۔

جس میں عثمانی سلطنت کے تمام قرضے ادا کرنے کے علاوہ عثمانی بینک کا یورپ میں قیام بھی شامل تھا نیز سلطان کو بیس لاکھ ترک لیرا ارض فلسطین کی قیمت دینے کی پیشکش بھی ہوئی مگر سلطان نے انکار کر دیا ۔
1897 ء میں ہرٹزل نے دنیا بھر سے تین سو بااثر یہودیوں کو دعوت دے کر سوئٹزرلینڈ میں بلایا جہاں یہودیوں کی قومی ریاست فلسطین میں بنانے کا منصوبہ منظور ہوا۔ بائبل میں اسی علاقے کو کنعان کہا گیا ہے۔

تصویر بشکریہ ottomanimperialarchives.com

صیہونی تنظیم کے قیام کے بعد فلسطین میں یہودیوں کی آباد کاری کے لیئے سلطان عبد الحمید ثانی ( خلافت 1876۔ 1909ء) سے اجازت لینا ضروری تھی ۔ تھیوڈور ہرٹزل نے جرمن بادشاہ ولیم ثانی اور فرانسیسی و برطانوی حکومتوں کی تائید تو حاصل کر لی مگر عثمانی سلطان اس تجویز کے سخت خلاف تھے۔

ہرٹزل کو 1901 ء میں سلطان سے ملاقات کا موقع ملا تو اس نے ایک بار پھر فلسطین میں یہودیوں کی آباد کاری کا منصوبہ پیش کیا جسے سلطان نے سختی سے مسترد کر دیا ۔ ہرٹزل کا کہنا تھا کہ یہودیوں کو فلسطین میں کھیتی باڑی اور زراعت کے لیئے زمین دی جائے

مگر سلطان جو اس سارے پس منظر سے واقف تھا نے کہا کہ یہودی کھیتی باڑی پر رکیں گے نہیں یہ یہاں اپنی قومی ریاست بنانا چاہتے ہیں اور میری موجودگی میں یہ ہو نہیں سکتا۔ اس ناکامی کے بعد ہرٹزل نے دوسرا راستہ اختیار کیااور وہ راستہ سلطان کو راہ سے ہٹانے کا تھا ۔ اس نے لکھا کہ موجودہ حالات میں عثمانیوں سے فائدہ اٹھانا ناممکن ہے ۔ اس کی صرف یہ صورت ہے کہ ترکی کے سیاسی حالات بدل جائیں یا اسے ایسی جنگوں میں الجھایا جائے جن میں اسے شکست ہو ، یا اسے مشکلات میں ڈالا جائے ۔

ہرٹزل نے خلیفہ کے انکار کے بعد کہا کہ فلسطین پہنچنے کے لیئے جلد بازی نہیں کی جا سکتی ۔ الیہود والعثمانیہ میں ہرٹزل کی ڈائری کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ “ہم ارض فلسطین پر تدریجاً قبضہ کریں گے۔ ہم فلسطین کے قریبی علاقوں سے یہودیوں کو مزدوروں کے بھیس میں داخل کریں گے جنہیں وہاں روزگار فراہم کرنا کمپنی کی ذمہ داری ہو گی ۔

1875 میں نہر کے مالکانہ حقوق خدیو مصر کو قرضوں میں جکڑ کر برطانوی وزیر اعظم لارڈ بیکنس فیلڈ نے انتالیس لاکھ چھہتر ہزار پانچ سو بیالیس پونڈ میں خرید لیئے ۔ خدیو نے مصر کو بری طرح قرضوں میں جکڑ دیا تھا ۔ مالی مشکلات سے نکلنے کا اور کوئی راستہ نہ سوجھا تو اس نے مصر کا حصہ برطانیہ پر بیچ دیا۔

اب فرانس اور برطانیہ نہر کے مالک بن بیٹھے۔ 1878ء میں مصر کا تمام مالیاتی نظام فرانس اور برطانیہ نے سنبھال لیا۔ اور اپنی مرضی کی وزارتیں تشکیل دینے لگے۔ 1879ء میں خدیو کو باب علی سے معزول کروا کے اس کے بیٹے توفیق پاشا کو مصر کا حاکم بنا دیا۔

فلسطین عہد عثمانی 1900 تصویر بشکریہ ottomanimperialarchives.com

فلسطین میں برطانوی اور فرانسیسی ملٹی نیشنل کمپنی کے ذریعے یہودیوں کو داخل کیا گیا ہرٹزل نے لکھا کہ “کمپنی کے مزدور یہاں زمینیں خرید کر کمپنی پر فروخت کریں گے اور کمپنی یہودیوں کو لا کر یہاں بسائے گی” کمپنی کے مزدوروں کی شکل میں یہودی فلسطین میں داخل ہوئے اور نسبتاً غیر آباد مقامات پر اپنے کیمپ بنا کر خیموں میں رہنے لگے۔
اب ہرٹزل نے سلطان کے دشمنوں سے روابط استوار کر کے انہیں منظم کیا ۔ خلافت کے خاتمے کے لیئے عالمی صحافت کی تحریک چلائی۔ پھر سالونیک میں خلافت کے خاتمے اور جمہوریت کی بحالی کی تحریک چلائی۔

1904 میں ہرٹزل کا انتقال ہو گیا مگر سلطان کے خلاف پروپگنڈہ عروج پر رہا۔ یہاں تک کہ 1907 میں بلقان کے علاقوں میں سخت شورش برپا ہو گئی ۔ یہودی اس تحریک کے ساتھ تھے ۔ باغی دستوری پارلیمان کا قیام چاہتے تھے

سلطان کو مجبور کر کے مجلس ملی(ترک پارلیمینٹ) کے قیام کا اعلان کروایا گیا۔ جس نے بعد میں خلیفہ کو 1909 میں معزول کر کے سالونیک میں جلاوطن کر دیا جہاں 1918ء میں سلطان کا انتقال ہوا۔

سلطان عبدالحمید ثانی (1842-1918) کو تاریخ میں بہت زیادہ متنازع اور ان کی زندگی کو افراط و تفریط کا شکار بتا کر پیش کیا گیا ہے۔ جن مورخین نے اس دور کے دستاویزی ثبوتوں کا سنجیدگی سے مطالعہ کیا ان میں ایک نام عرب مورخ ڈاکٹر حسان علی حلاق کا بھی ہے۔

جنھوں نے ایک کتاب ’’دور اليهود والقوى الدولية في خلع السلطان عبدالحميد الثاني عن العرش” (سلطان عبد الحمید ثانی کو معزول کرنے کی سازش میں یہودیوں اور بین الاقوامی طاقتوں کا کردار ) لکھی ۔ اس کتاب کے مطابق صہیونیوں نے سیکولرسٹوں اور ماسونی تحریکوں کے ساتھ مل کر سلطان عبدالحمید ثانی کو خلافت سے معزول کرنے کی سازش رچائی تھی۔

حلاق کے مطابق سلطان عبد الحمید کے آخری زمانے میں صہیونی مغربی ممالک سے ہجرت کر کے فلسطین آنے لگے۔ یہ لوگ کشتیوں اور جہازوں کے راستے یہودی مقدسات کی زیارت کی غرض سے فلسطین میں داخل ہوتے تھے لیکن خود کو وہیں چھپا لیتے تھے اور واپس جانے کا نام نہیں لیتے تھے۔

سلطان عبدالحمید ثانی
تصویر بشکریہ ottomanimperialarchives.com

اس کام میں انھیں برطانیہ کی حمایت حاصل رہتی تھی۔ سلطان عبدالحمید ثانی کو اس بات کا علم ہوا تو انھوں نے یہودی زائرین کے لیے ایک سرخ کارڈ جاری کرنے کا حکم دیا

جس کی رو سے یہودی زائرین کو فلسطین میں ایک ماہ سے زیادہ رکنے کی اجازت نہیں تھی۔ زائرین سے 50 ترکی لیرے بھی وصول کیئے جاتے ۔ سرخ کارڈ کے اجراء کی وجہ سے یہودیوں نے سلطان کو سلطان احمر کہنا شروع کر دیا۔

1909 میں ان سازشیوں نے اسلحے کی نوک پر عالم اسلام کے مفتی محمد ضیاء الدین سے سلطان سے نجات پانے کا ’شرعی فتوی‘ بھی حاصل کر لیا تھا۔ اس کے بعد سلطان کو ملک بدر کرکے یونان کے جزیرہ سالونیک میں بھیج دیا گیا ۔

اور ان کی جگہ سلطان محمد ششم کو نیا سلطان بنایا گیا جو صرف نام کے سلطان تھے ۔ تمام اختیارات لبرل پارٹی اتحاد و ترقی کے پاس تھے جس کی ایک شاخ یہودی بھی تھی بلقان کی جنگوں کے بعد 1913 میں بلغاریہ ، البانیہ اور رومانیہ وغیرہ کو عثمانی سلطنت سے الگ کر دیا گیا۔ اور یہ سب کچھ اسی گیم پلان کا حصہ تھا جو سلطنت عثمانیہ کو ختم کرنے کے لیئے ترتیب دیا گیا

پہلی جنگ عظیم (1914ء 1918ء )کے فاتح

ممالک انگلستان ، فرانس ، روس اور اٹلی نے عثمانی سلطنت کو جرمنی کا ساتھ دینے کے جرم میں آپس میں بانٹنے کے خفیہ معاہدات کیئے ۔ ڈاکٹر محمد محمد الصلابی نے سلطنت عثمانیہ ” ترکوں کی سیاسی تمدنی اور معاشرتی تاریخ ” میں سلطنت کے خاتمے کو یہودی کارستانیوں کا نتیجہ بتایا ہے ۔

انہوں نے اپنے تحقیقی مقالے میں تمام دستاویزی شواہد پیش کیئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ صیہونی پلان کی تکمیل کے لیئے خلافت کو ختم کیا گیا ۔ مگر ڈاکٹر محمد عزیر اپنی تصنیف ” دولت عثمانیہ ” میں انہدام خلافت کا سبب سلطنت کی داخلی کمزوریوں کو سمجھتے ہیں

اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ڈاکٹر الصلابی نے مسلمان مورخین کو ماخذ بنایا ہے اور ڈاکٹر محمد عزیر نے مستشرقین اور یورپی مورخین کی نظر سے انہدام خلافت کو دیکھا ہے ۔

اگرچہ ” 1916ء کے سائیکو پیک معاہدے کی رو سے عراق برطانیہ ، شام اور لبنان فرانس کو دے کر فلسطین الگ ملک بنائے جانے کا فیصلہ ہوا تھا مگر اختتام جنگ پر برطانیہ نے امریکہ سے مل کر فلسطین پر قبضہ کر لیا ۔ جب کہ یورپ کے روس سے تجارتی راستے روس کے حوالے کرنے کا منصوبہ تیار ہوا تھا۔

https://commons.wikimedia.org

روس کو دیئے جانیوالے علاقوں میں موجودہ استنبول یا سابق قسطنطنیہ ، آبنائے باسفورس اور درہ دانیال کے علاقے شامل تھے ۔ 1916ء کے وسط میں برطانیہ ایک طرف شام فرانس کو دے رہا تھا وہیں شام کی بادشاہت شریف مکہ کو دینے کی یقین دہانی کروا کے عرب قوم پرستوں سے بغاوت بھی کروا رہا تھا ۔

باغی فوجوں کی قیادت کرنے والے شریف مکہ کے بیٹے شاہ فیصل تک پہنچنے کے لیئے برطانیہ نے کیا کیا پاپڑ بیلے وہ ایک الگ داستان ہے ۔ یہ تو اندھے کو بھی معلوم ہو سکتا ہے کہ یا تو برطانیہ فرانس اور شاہ فیصل دونوں کو یا پھر کسی ایک کو دھوکا دے رہا تھا یہ سب برطانوی وزیر اعظم لائیڈ جارج کی نگرانی میں ہو رہا تھا ۔

فلسطین پر تو جنرل ایلن بے نے شدید مزاحمت کے باوجود دسمبر 1917ء میں قبضہ کر لیا مگر قسطنطنیہ یعنی آبنائے باسفورس اور درہ دانیال کا قبضہ عثمانی فوجوں سے نہ لیا جا سکا ۔

ڈاکٹر محمد عزیر کے مطابق روسی انقلاب اکتوبر 1917ء کی وجہ سے معاہدہ کالعدم ہو گیا اور امریکہ چونکہ خفیہ معاہدات کی منسوخی کی شرط پر جنگ میں شامل ہوا تھا امریکہ کی خوشنودی کے لیئے قسطنطنیہ کو ترکی کے پاس رہنے دیا گیا ۔ جب کہ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ ترک فوج نے اتحادیوں کو ناکوں چنے چبوا دیئے تھے۔

جاری ہے

Translate »