0 0
Read Time:9 Minute, 42 Second

جہانداد خان تنولی

سولہویں صدی میں گجو خان یوسفزئی اور علی اصغر خان کی زیر سیادت یوسفزئی قبیلے نے دو مرتبہ تناول کی زمینوں پر چڑھائی کی جس کے نتیجے میں بونیر سے ملحقہ مہابن کی اترائیاں تنولی قبیلے کے ہاتھ سے نکل گئیں
پھر سترہویں صدی کے وسط میں معروف صوفی بزرگ اخوند سالاک کابلگرامی نے مغلوں کے بڑھتے ہوئے خطرے کو بھانپتے ہوئے دونوں قبیلوں کے درمیان اتحاد کروا دیا ۔
احمد شاہ ابدالی کے دور میں صوبہ خان تنولی کی قیادت میں تناول کو زبردست سیاسی ،فوجی اورمعاشی فروغ ملا .جس کے نتیجے میں یوسفزئی قبائل نے دریائے سندھ کو دونوں فریقین کے مابین قدرتی سرحد مان کر خود کو دریا کے اس پار محدود کرلیا ۔
سکھ سرکار کے ساتھ دو عشروں پر محیط جدجہد کے دوران پائندہ خان تنولی نے یوسفزئی قبائل کے ساتھ مضبوط تعلقات استوار رکھے ۔سید احمد بریلوی کی وفات کے بعد مختلف یوسفزئی قبیلوں نے پائندہ خان کو بونیر پر حکومت کی دعوت دی جو کہ دوطرفہ اعتماد کا مظہر تھا ،اور خوشگوار تعلقات کا یہ سلسلہ 1844 میں پائندہ خان کی وفات تک قائم رہا

یہ بھی پڑھیں 

سکھ سرکار کا باغی سردار پائندہ خان تنولی جو بالآخر دھوکے اور زہر کا شکار ہوا

احمد شاہ ابدالی کی ہندوستان مہم اور خطہ تناول میں‌نئے دور کا آغاز

یوسفزئیوں کا شمار بڑے پختون قبائل میں ہوتا ہے جو زیادہ تر موجودہ خیبرپختونخواہ میں آباد ہیں ،دیر،سوات ،شانگلہ ،مالاکنڈ ،بونیر ،تورغر ،صوابی اور مردان میں ان کی اکثریت ہے یہ شمالی لہجے کی پشتو بولتے ہیں ۔1965 کی مردم شماری کے مطابق ان کی تعداد اندازاً پانچ لاکھ تھی

جبکہ تنولی قبیلہ زیادہ تر ایبٹ آباد ،مانسہرہ اور ہریپور کے اضلاع میں آباد ہیں ،جو تناول لہجے کی ہندکو بولتے ہیں ۔ 1950 کی مردم شماری کے مطابق ان کی تعداد 80 ہزار تھی ،تنولیوں کی ہندوال شاخ نے اپنی آزاد ریاست قائم رکھی جس کا وجود 1970 تک برقرار رہا

موجودہ صوبہ خیبر پختونخواہ میں شامل ہونے والی ریاستوں میں صرف تناول اور چترال ایسی ریاستیں تھیں جس کے حکمران غیر پشتون تھے ۔اور جنہوں نے کئی صدیوں تک اپنا وجود قائم رکھا ۔
تنولی اور یوسفزئی قبائل کے درمیان ایک طویل سرحد رہی ہم اس مضمون میں دونوں قبائل کے درمیان مغل ،درانی اور سکھ ادوار میں تعلقات کے اتار چڑھائو کا عمیق جائزہ لیں گے جبکہ اگلے مرحلے میں انگریز دور میں دونوں قبائل کے تعلقات کا جائزہ لیا جائےگا

16 ویں صدی میں یوسفزئیوں کی تناول پر چڑھائی

یوسفزئی قبیلہ سن 1450 سے 1520 کے درمیان بتدریج اپنے موجودہ علاقوں میں افغانستان کے علاقے قندھار سے آ کر آباد ہوئے ۔
اخوند درویزہ کی کتاب تذکرہ ابرار و الاشرار کے مطابق 16 ویں صدی میں جب یوسفزئیوں نے علی اصغر کو اپنا سردار مقرر کیا تو اس نے علماء کی خواہش کے مطابق تناول کی زمینوں پر تباہی و بربادی پھیلا دی اور ان پہاڑوں پر قبضہ کرلیا جہاں اس سے قبل اس کا پیشرو سردار نہ پہنچ سکا تھا

اس سے قبل 1530 میں یوسفزئی سردار گجو خان جو کہ ملک احمد کی جگہ منصب پر فائز ہوا تھا نے پہلی مرتبہ دریائے سندھ کے مشرقی کنارے کی جانب پیش قدمی کی ۔اور تناول کی جنوبی سرحد پر واقع بھاروکوٹ کے مقام اس نے پکھل سرکار کے ترک راجہ غیاث الدین کیساتھ ملاقات کی اور خانپور کے گگھڑ راجہ کے ہمراہ انہوں نے پکھلی سرکار جو کہ علاقہ میں مغل سلطنت کی نیابت کررہے تھے سے خراج وصول کیا ۔

لیکن ممکنہ طور پر تناول کی جانب سے خراج نہ ملنے پر گجو خان نے تناول کے علاقوں پر بھی حملہ کردیا
اگلے چند سالوں کے دوران سندھ کے مغربی کناروں پر آباد تنولی قبائل کو مسلسل یوسفزئیوں کی جارحیت کا سامنا تھا۔ کیونکہ  شہنشاہ اکبر کے دور میں یوسفزئیوں کیساتھ مغل سلطنت کے تعلقات اچھے نہ تھے ۔جبکہ اس وقت تنولی قبائل زیادہ تر مغل سلطنت کی نمائندہ پکھلی سرکار کے حامی تھے

جس کے نتیجے مغل سلطنت اور یوسفزئیوں کے درمیان ہونے والی لڑائیوں کے اثرات کا براہ راست سامنا سندھ کے مغربی کناروں پر آباد تنولیوں کو کرنا پڑااور ان میں سے 1592 میں سلطان علی اصغر یوسفزئی کی قیادت میں ہونے والا دوسرا بڑا حملہ تھا مقامی روایات کے مطابق ان جنگوں کے نتیجے میں تنولی قبائل مہابن اور بونیر کے کچھ علاقوں سے محروم ہوگئے ۔

مغل سلطنت کے خلاف اتحاد
مغل بادشاہ شاہ جہان کے دور میں پکھلی کے ترک راجائوں کی طاقت میں زبردست اضافہ ہوا اور انہوں نے اپنی حدود تناول کےدور اندر تک پہنچا دیں ۔اور بڑی تعداد میں اعوان اور دیگر قبائل کو لاکر یہاں کی زرعی زمینوں میں آباد کردیا ۔
جس کے نتیجے سردار میمرا خان اور چاڑا خان کے زیر کنٹرول اشرہ ،امب اور مغربی کنارے پر بیٹ گلی کے علاقے رہ گئے
جہاں انہیں ایک طرف پکھل سرکار کا خطرہ تھا تو دوسری جانب یوسفزئی انہیں دھکیل رہے تھے ۔1644 کے لگ بھگ میمارا خان پلال اور چاڑا خان ہندوال نے معروف صوفی بزرگ اخوند سالاک کابلگرامی کو اشرا کے مقام پر دعوت دی ۔اخوندسالاک یوسفزئی سردار بہاکو خان کے روحانی مرشد تھے ،جن کی ہدایت پر یوسفزئیوں نے کوہستانیوں سے تورغرکا علاقہ چھین لیا اور پکھل سرکار کے زیراثرعلاقے بٹگرام پر حملے کئے

سترہویں صدی میں اخوندسالاک کابلگرامی کی دونوں تنولی سرداروں سے ملاقات تناول کی تاریخ کا ایک فیصلہ کن موڑ تھا ۔اس وقت حالات یہ تھے کہ تنولی قبائل مغل اور یوسفزئیوں کے دوطرفہ حملوں سے مدافعت کی سکت نہیں رکھتے تھے

اس ملاقات میں ممکنہ طور پر اخوندسالاک نے دونوں سرداروں کو یہ یقین دہانی کروائی کہ اگر وہ مغل سلطنت کے خلاف یوسفزئیوں کی جدوجہد میں شامل ہوجائیں تو یوسفزئی ان پر حملے بند کردیں گے ۔اس ملاقات میں اخوند سالاک نے دونوں سرداروں کو تلواریں دیں اور پکھل سرکار کے ہاتھوں غصب علاقوں کی بازیابی کیلئے ان کی جدوجہد کی کامیابی کی دعا کی
اس ملاقات کے بعد چاڑا خان ہندوال اور میمارا خان پلال نے لالو گلی میں مغل چوکی پر حملہ کرتے ہوئے علاقہ واپس لیتے ہوئے اپنے چھینے گئے علاقوں کی واپسی کا سلسلہ شروع کردیا

احمد شاہ ابدالی کی ہندوستان مہم
یوسفزئی اور تنولی دونوں قبائل نے ہندوستان پر احمد شاہ ابدالی کی مہم میں بھرپور حصہ لیا ۔تنولی لشکر کی قیادت زبردست خان تنولی کررہے تھے جنہیں بعدازاں احمد شاہ ابدالی نے صوبہ خان کا لقب دیا
جبکہ یوسفزئی دستے میں طورو اور بابوزئی شاخوں کے سردار شامل تھے ۔دونوں قبائل نے درانی سلطنت کی بالادستی قبول کرلی اور اٹھارہویں صدی کے دوران دونوں قبائل امن و آشتی سے اپنے علاقوں میں آباد رہے
صوبہ خان تنولی کے دور میں علاقے کی سیاسی ،فوجی اور معاشی طاقت میں اضافہ ہوا ۔اور یاغستان (گدون امازئی ،بونیر )کے پشتون قبائل نے سندھ کو تناول کے ساتھ اپنی قدرتی سرحد مان لیا

1820 سے 1846 سکھ دور میں تعلقات
موجودہ خیبر پختونخواہ میں تناول واحد علاقہ تھا جس نے پائندہ خان کی قیادت میں لاہور دربار کی بالادستی کو کبھی قبول نہیں کیا اور سکھ غلبہ کے خلاف کئی سال تک برسرپیکار رہا ۔ایک وقت میں پائندہ خان کے پاس 1 ہزار تنخواہ دار سپاہی اور 4 ہزار قبائلی رضاکاروں کا لشکر ہوا کرتا تھا ۔مختلف مواقع پر ضرورت پڑنے پر پائندہ خان نے مختلف پشتون قبائل سے مدد حاصل کی۔

ہزارہ میں سکھ غالب کے دوعشروں کے دوران انہوں نے مداخیل اور اتمان زئی قبائل کے ساتھ روابط استوار کئے اور ان کی فوجی مدد کے بدلے ان قبائل کو مال غنیمت میں معقول حصہ دیا گیا
1825 میں دربند میں سکھ قلعہ کی فتح کے بعد پائندہ خان نے اپنے لشکر میں شامل قبائلی رضاکاروں کو معقول انعامات سے نوازا

اتمان زئیوں کو سزا
تربیلا کا اتمان زئی قبیلہ جزوی طور پر لاہور دربار کا وفادار بن گیا ۔جس پر 1826 میں پائندہ خان نے تربیلا میں سکھ قلعے کو فتح کرنے کے بعد بہت سے اتمان زئیوں اور کھتریوں کو یرغمال بنا کر دربند لے جایا گیا
بعدازاں کایا اور کھبل سے تعلق رکھنے والے حامد خان اور دولا خان کے جرگے کے نتیجے میں ان خاندانوں کو سکھوں سے وفاداری ختم کرنے کی شرط پر رہائی ملی

خدوخیل کیساتھ پیچیدہ تعلقات
یوسفزئی قبیلے کی شاخ خدوخیل کے سردار فتح خان اور پائندہ خان تنولی ہزارہ کے ان چند سرداروں میں شامل تھےجنہیں سکھ ہر لالچ اور حربے کے باوجود زیر کرنے میں ناکام رہے ۔فتح خان ایک بہادر اور پرعزم شخص تھا جس نے سکھ فوجوں کا ہر موقع پر بے جگری سے مقابلہ کیا اور اس کی شجاعت کی داد اس کے مخالفین بھی دیتے تھے ۔اگرچہ پائندہ خان اور فتح خان دونوں کا مقصد ایک تھا لیکن حیرت کی بات ہے کہ وہ کبھی سکھوں کے خلاف مزاحمت کیلئے متحد نہ ہوسکے
تاریخی طور چند ایسی وجوہات تھیں جوان کے ایک مقصد کے باوجود اتحاد کی راہ میں رکاوٹ تھیں
1:دونوں کے درمیان اشراء کے علاقے پر تنازعہ تھا ،جو 1818 سے 1825 کے درمیان پائندہ خان نے فتح خان کے والد الف خان سے چھینا تھا ۔پائندہ خان کے نزدیک یہ علاقہ تناول کا حصہ تھا جبکہ فتح خان اسے اپنی ملکیت سمجھتا تھا
2:فتح خان نے جب سید احمد بریلوی کو اپنے آبائی علاقے پنجتر بونیر آنے کی پیشکش کی تو پائندہ خان کے بہت سے مخالفین جن میں ان کا جانی دشمن سربلند خان بھی شامل تھا پنجتر پہنچ گئے اس واقعہ نے رخنہ مزید گہرا کردیا
۔باوجودیکہ پائندہ خان ہزارہ کا سب سے طاقتور سردار تھا فتح خان اور سید احمد بریلوی نے انہیں 1829 میں ہونے والے دو ہزار علماء اور سرداروں کی اجلاس میں شرکت کی دعوت نہ دی
فتح خان کی حمایت کے صلے میں سید احمد بریلوی نے اسے خدوخیل قبیلے سے عشر (زرعی مالیہ ) وصول کرنے کی اجازت دیدی ۔
تاریخ سید احمد شہید میں مولانا غلام رسول مہر نے لکھا کہ سید احمد بریلوی کی وفات کے بعد فتح علاقے میں ظلم پر اتر آیا ۔اور وہ خدوخیل قبیلے کے علاوہ دوسرے یوسفزئی قبائل سے بھی زبردستی عشر وصول کرنے لگا
جس کے نتیجے میں ٹوپی ،منائی ،کھلابڑ ،مرغز ،پنج پیر اور منارا کے خوانین نے بونیر سے فتح خان کو نکالنے کیلئے پائندہ خان سے مدد طلب کی ۔پائندہ خان چار سو سواروں اور تین سو پیادہ لشکر کے ساتھ امب سے روانہ ہوئے ۔صوابی پہنچنے پر یوسفزئی قبائل نے ان کا پرجوش استقبال کیا

جب پائندہ خان کی فوج بونیر سے پانچ کلو میٹر دور جھنڈا بوکا کے مقام پر پہنچی تو سید احمد بریلوی کے جان نشیں مولوی نصیرالدین نے پائندہ خان سے ملاقات کی اور اس جنگ کو روکنے کی کوشش کی ۔جس کے نتیجے میں دو طاقتور سرداروں کے درمیان تصادم کا خطرہ ٹل گیا اور پائندہ خان واپس امب لوٹ آئے

حسن زئی قبیلے کا دفاع
1840 میں رنجیت سنگھ کی فوج کے افسر کرنل کورٹلنٹ نے چھ سکھ رجمنٹوں کے ساتھ تورغر (کالاڈھاکہ )کے حسن زئی قبلیہ پر حملہ کردیا ۔اس واقعہ کی اطلاع جب پائندہ خان کو ملی تو وہ فوری طور پر اپنے حلیف قبیلے کی مدد کو پہنچے

27 نومبر 1851 میں کمشنر ہزارہ جیمز ایبٹ نے پنجاب انتظامی بورڈ کو بھیجے گئے ایک خط میں لکھا کہ
اس واقعہ میں سکھ فوج کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا اور کرنل کرنل کورٹلنٹ بمشکل اپنی جان بچا کر فرار ہوسکا

چغرزئیوں پر بداعتمادی
1839 میں پائندہ خان سے ملاقات کرنیوالے ایسٹ انڈیا کمپنی کے افسر ایڈورڈ کونولی کے مطابق جب ہم پائندہ خان سے ملے تو انہوں نے چغرزئیوں پر بداعتمادی کا اظہار کیا ۔کیوں کہ ان کے بقول وہ جب بھی کچھ زیادہ دنوں کیلئے اپنے علاقے سے باہر جاتے تو چغرزئی ان کے علاقے پر حملے کرنے کی کوشش کرتے۔


جہانداد خان تنولی نوجوان محقق اور تاریخ دان ہیں جو خطے اور بالخصوص ہزارہ کی تاریخ

پرگہرا عبور رکھتے ہیں

ان کے مزید مضامین https://ambstate.com/ پر بھی ملاحظہ کرسکتے ہیں

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
Translate »