سدھیر احمد آفریدی

وادی تیراہ ضلع خیبر تحصیل باڑہ کا دور آفتادہ اور خوبصورت علاقہ ہے گھنے جنگلات نے بلند و بالا پہاڑوں کی خوبصورتی میں اضافہ کر دیا ہے نہ صرف وادی تیراہ میدان کے پہاڑ بلند و بالا ہیں بلکہ خود وادی تیراہ میدان بھی سطح سمندر سے کافی بلندی پر واقع ہے اور یہی جنت نظیر علاقہ آفریدی اقوام کا مضبوط گڑھ اور تاریخی مرکز رہا ہے جس کے پہاڑی سلسلے اور سرحد ایک طرف مغرب میں افغانستان سے ملتے ہیں جنوب مغرب میں ضلع کرم،جنوب مشرق میں اورکزئی اور شمال میں ذخہ خیل اور کوکی خیل قبائل سے ملتے ہیں

سعید خان آفریدی کے مطابق وادی تیراہ میدان کے علاقے کی چوڑائی 18 کلو میٹر اور لمبائی 17 کلو میٹر ہے وادی تیراہ کے میدان علاقے میں آفریدی قبائل کے چھ قبیلے آباد ہیں جبکہ باقی دو قبائل خاص میدان علاقے میں آباد نہیں اور نہ ہی ان کی وہاں پدری زمین ہے آفریدی اقوام کی تاریخ تو بہت پرانی بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ قبل از مسیح ہے تو غلط نہیں ہوگا تاہم یہاں مقصود وادی تیراہ کی تعمیر و ترقی اور وہاں کے لوگوں کی خوشحالی ہے وادی تیراہ اور خاص طور پر میدان کا علاقہ زرعی علاقہ ہے اور کاشت کاری کے علاوہ وہاں کے لوگوں کا دوسرا کوئی خاص ذریعہ معاش نہیں

گل شلوبر نامی شخص کے مطابق وادی تیراہ میدان کے مرد حضرات بے کار اور سست ہو رہے ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ وہ سالہا سال صرف بھنگ کاشت کرکے اس فصل کے پک جانے اور کاٹ کر معمولی مالی فوائد حاصل کرتے ہیں مقامی لوگوں اس بات سے متفق تھے کہ تیراہ کے علاقوں میں ہر قسم کی فصل اگائی جا سکتی ہے جس سے بہت زیادہ فائدہ ہو سکتا ہے اور پورا سال پھر ان کو فضول بیٹھنے کی فرصت نہیں ملے گی

دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران مقامی قبائل کو بے پناہ نقصانات کا سامنا کرنا پڑا اگرچہ بحالی کا عمل جاری تو لیکن منصوبوں کی تکمیل کی سست روی کی وجہ سے مطلوبہ نتائج کے حصول میں بہت سا وقت لگ سکتا ہے ۔جبکہ متاثرہ علاقوں کی بحالی اور عوام کیلئے روزگار کے مواقع کی فراہمی کیلئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے (تصویر سدھیر احمد آفریدی )

قدرتی جنگلات اور بلند و بالا سرسبز و شاداب پہاڑوں کی وجہ سے تیراہ کے علاقوں پر بارشیں بھی بکثرت ہوتی ہیں پہلے بھنگ کی فصل زیادہ ہوا کرتی تھی لیکن اب اس کی قیمت فروخت بہت زیادہ گر گئی ہے عمران خان کی حکومت میں یہ پالیسی پائپ لائن میں زیر غور تھی کہ بھنگ کی فصل کو قانونی شکل دیکر اس کے لئے وہاں فیکٹری قائم کیا جائے تاکہ اس فصل کو مثبت انداز میں علاج معالجہ کے لئے استعمال کیا جا سکے جس طرح ہمارے صوبے کے کچھ اضلاع کے اندر تمباکو کو قانونی شکل دی گئی ہے جس سے حکومت کو ٹیکس کی صورت میں اور کاشت کاروں کو تمباکو کی فصل سے براہ راست فائدہ ملتا ہےلیکن پی ٹی آئی کی حکومت وہ بھی نہیں کر سکی

سیاحت و زراعت کے فروغ کیلئے بے پناہ مواقع

وادی تیراہ کے مختلف علاقوں کو اگر سیاحت کی غرض سے بھی ترقی دی جائے تو اس سے مقامی لوگوں کے روزگار میں اضافہ ہوگا معاشی لحاظ سے وہ مستحکم ہونگے بے روزگاری اور نشوں سے ان کو دائمی نجات مل سکتی ہے اور خود حکومت کو بھی ٹیکس کی مد میں بڑا مالی فائدہ ملیگا اکثر دیکھا گیا ہے کہ نشوں میں مبتلا بے روزگار نوجوان انتہاء پسند تنظیموں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں جس کے برے اثرات اور نتائج ہم دیکھ اور بھگت چکے ہیں وادی تیراہ میدان کیطرف اورکزئی اور باڑہ شین کمر کی طرف سے سڑک کی تعمیر پر کام تو جاری ہے لیکن کچوے کی رفتار سے اور وہ بھی غیر معیاری اور کم چوڑی ہے جس کی عمر بہت کم ہوگی وہاں چونکہ ہر موسم میں بارشیں زیادہ اور سردی میں برف زیادہ پڑتی ہیں اس لئے اگر تیراہ جانے والی سڑک سیمنٹ کی بنائی جائے تو پائیدار ہوگی اور آئے روز اس کے لئے بجٹ نہیں رکھنا پڑیگا


یہ بھی پڑھیں


کچھ علاقوں میں تو جیسے میدان کے بنیادی مرکزی علاقے میں پانی زیادہ ہے اور چشمے کی صورت میں بہتا ہے تاہم اونچائی پر واقع بالائی علاقوں میں زیر زمین پانی کی سطح بہت نیچے ہے اس لئے خواتین اور بچے مجبوراً دور دراز پہاڑی قدرتی چشموں سے پانی لانے پر مجبور ہوتے ہیں اس لئے حکومت اور متعلقہ محکموں جیسے زراعت،پبلک ہیلتھ اور سول انتظامیہ اگر ملکر پہاڑوں کے دامن اور طویل دروں میں بارانی ڈیمز بنائیں تو اس سے زیر زمین پانی کی سطح اوپر آسکتی ہے جس سے لوگ مستفید ہونگے

وادی کے کئی علاقوں میں زندگی کی بنیادی سہولتوں کی فراہمی کا تصور بھی نہ ہونے کے برابر ہے جہاں آج بھی پینے کے پانی کے حصول کیلئے لوگوں کو کئی کلومیٹر دور کا سفر کرنا پڑتا ہے (تصویر :سدھیر احمد آفریدی )

پہاڑوں پر جنگلات میں اضافہ ہو سکتا ہے اور آلودگی سے صاف ماحول میسر ہوگا جس کے انگنت فائدے ہیں لیکن اگر بااختیار حلقے توجہ دیں وادی تیراہ کو اگر ترقی دی گئی،لوگوں کو زراعت اور معاش کے متبادل ذرائع فراہم کئے گئے تو وادی تیراہ نہ صرف قدرتی خوبصورتی میں بلکہ سیاحت کے حوالے سے بھی ایک نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے اور آجکل دنیا میں سیاحت ہی منافع بخش انڈسٹری کی صورت اختیار کر گئی ہے

لیکن بد قسمتی سے قدرتی وسائل سے مالا مال اس مملکت خداد میں ہمارے حکمران وہ سب کچھ کرنے کے لئے تیار نہیں جس سے ملک ترقی کریں اور قوم خوشحال بنے وادی تیراہ کے پہاڑوں پر گھنے اور خوبصورت جنگلات کو محفوظ بنانے کے لئے ضروری ہے کہ محکمہ جنگلات ہر سال نئے اور مختلف قسم کے پودے اور درخت کاشت کریں اور مقامی لوگوں میں یہ احساس اجاگر کریں کہ وہ خود بھی اپنے پہاڑوں پر اور ان کے دامن میں چھوٹے بڑے پودے کاشت کریں تاکہ اس قدرتی ماحول کو محفوظ بنایا جا سکے اور درختوں کی کٹائی پر سرکاری اور غیر سرکاری یعنی مقامی سطح پر پابندی ہونی چاہئے

ناقص سڑکیں ،بجلی و گیس جیسی بنیادی ضروریات ناپید

دہشت گردی کے خلاف دو طرفہ لڑائی کے دوران مقامی آبادی کو بے پناہ نقصانات کا سامنا کرنا پڑا جس کی تلخ یادیں آج بھی ان کے ذہنوں میں نقش ہیں

تاہم اس حکمت عملی کو موثر بنانے کے لئے حکومت کو وادی تیراہ تک بجلی اور گیس کی سہولت کو پہنچانا ہوگا کیونکہ بجلی اور گیس کی عدم موجودگی میں مقامی لوگ مجبوراً گھروں کو گرم رکھنے کے لئے درختوں کی کٹائی کا سہارا لینگے میں نے خود مشاہدہ کیا کہ بعض جگہوں پر جہاں پانی بہتا ہے وہاں کے قریب گھروں کے لوگوں نے لیٹرین بنائیں ہیں اور اس طرح لیٹرینوں کا گندا پانی اور فضلہ صاف پانی میں شامل ہونے کا اندیشہ ہے جس سے یہ قدرتی طور پر صاف پانی آلودہ ہو سکتا ہے جو مضر صحت ہوگا

دہشت گردی کے دوران تمام قبائلی علاقوں میں ناقابل بیان حد تک نقصانات ہوئے ہیں لیکن وادی تیراہ میں جانی کے علاوہ جو مالی نقصانات ہوئے ہیں لوگوں کے جو سامان سے بھرے گھر جلا دئے گئے تھے وہ داستان سن کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں حالانکہ فصل اور املاک کو نقصان پہنچانے کی اجازت اسلام میں نہیں وہ نقصانات ناقابل برداشت تھے لوگوں کی جس شکل میں جمع پونجی تھی جلا دی گئی اور فورسز اور دہشت گردوں کے مابین خونی لڑائی کی بدولت مقامی لوگوں کو گھر بار چھوڑ کر ہجرت پر مجبور ہونا پڑا اور پھر ہر کوئی اپنے گھر اور املاک کے جلائے جانے کی خبر سن کر پریشان ہو جاتا تھا

دہشت گردی کیخلاف جنگ جس کے اثرات و آثار اب بھی باقی ہیں

لیکن بے چارے کچھ نہیں کر سکتے تھے اب الحمد اللہ وادی تیراہ میں امن قائم ہے ماحول پرسکون ہے اور جگہ جگہ فورسز کی چیک پوسٹیں قائم ہیں جہاں سے گزرتے ہوئے ہر شخص کو انٹری کرنی پڑتی ہے تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ سول انتظامیہ، پولیس اور فورسز کے جوان اکٹھے چیک پوسٹوں پر تعینات ہوں تاکہ شناخت اور ریکارڈ رکھنے کے بعد ہر سیاح کو وادی تیراہ جانے دیں

قدرتی خوبصورت کی حامل یہ سر سبز وادی سیاحت کیلئے انتہائی موزوں ثابت ہوسکتی ہے ۔جس سے مقامی لوگوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں ان کےمعاشی مسائل کا خاتمہ ہوسکتا ہے ،کیوں کہ بیروزگاری کی بڑھتی ہوئی شرح بہت سے مسائل کا سبب بن رہی ہے  (تصویر سدھیر احمد آفریدی)

تاکہ سیاحت کی غرض سے جانے والوں کو مایوس نہ ہونا پڑے یہ بات بلکل غلط ہے کہ جانے والے سیاحوں کو میدان کے علاقے میں کسی مخصوص ملک اور مشر کے توسط سے فورسز کے افراد جانے کی اجازت دینگے کسی کے نقل و حمل پر پابندی نہیں ہونی چاہئے تاہم اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ مسلح اور مشکوک افراد پر کڑی نظر رکھی جائے تاکہ وہاں کے پرسکون اور پرامن ماحول کو دوبارہ خراب ہونے سے بچایا جا سکے وادی تیراہ میدان اور ملحقہ علاقوں کے حوالے سے اور بھی بہت سے موضوعات ہیں جن کو اس ایک تحریر میں سمونا قدرے مشکل ہے اس لئے اگلے دن موقع ملا تو وہ بھی بیان کرینگے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Translate »