کے ٹو حادثہ نیپالی کوہ پیماؤں کی مُجرمانہ غفلت ؟
On February 27, 2021 by adminعمران حیدر تھہیم کے۔ٹو کی حال ہی میں ختم ہونے والی سرمائی کوہ پیمائی کی مُہم جُوئی کے دوران کے۔ٹو پر ہونے والے حادثات خصوصاً پاکستان کے شُہرہء آفاق کوہ پیما مُحمّد علی سدپارہ اور دیگر دو کوہ پیماؤں آئس لینڈ کے جان سنوری اور چلی کے جے۔پی۔موہر کے لاپتہ ہوجانے کے واقعے کے بعد
کے ٹو حادثہ اور شرپائوں کا کردار، کچھ کھوجنے کی ضرورت ہے
On February 25, 2021 by adminعمران حیدر تھہیم جیسا کہ مَیں نے چند دن قبل کچھ دوستوں کے استفسار پر عرض کیا تھا کہ گورے کوہ پیماؤں کی عادت وہ کسی بھی مُہم جُوئی کے دوران کسی بھی ناخُوشگوار واقعے یا حادثے کے متعلق بالکل نہیں بولتے اور خاموشی اختیار کرلیتے ہیں۔ لیکن جُونہی سیزن ختم ہو جاتا ہے یا
سدپارہ کی یاد میں ادارہ، 30لاکھ امداد کا اعلان
On February 24, 2021 by adminآزادی نیوز گلگت بلتستان حکومت کا بین الاقوامی شہرت یافتہ کوہ پیما علی سدپارہ کی یاد میں کوہ پیمائی کا ادارہ قائم کرنے اور ان کی بیوہ کیلۓ 30 لاکھ روپے امداد دینے کا اعلان کیا ہے ۔ حکومتی ترجمان علی تاج کے مطابق قائم ہونے والے یادگاری ادارے میں علی سدپارہ کے بیٹے ساجد
علی سد پارہ کے ٹو کی آغوش میں ہمیشہ کیلیےسو گیے، بیٹے کا باضابطہ اعلان
On February 18, 2021 by adminآزادی ڈیسک موسم سرما میں کے-2 کی چوٹی سرکرنے کی کوشش کے دوران لاپتا ہونے والے کوہ پیماؤں محمد علی سد پارہ، جان اسنوری اور جان پابلو مہر کی موت کی سرکاری طور پر تصدیق کردی گئی۔ لاپتا کوہ پیماؤں کی موت کی تصدیق گلگت بلتستان کے وزیر سیاحت راجا ناصر علی خان نے محمد
کے ٹو حادثہ کےکونسے پہلو فوری اور مستند تحقیقات کے متقاضی ہیں ؟
On February 12, 2021 by adminعمران حیدر تھہیم تادمِ تحریر K2 پر مُہم جُوئی کےلیے آئی نیپال کی مشہور کمپنی سیون سمٹ ٹریکس (SST) چھانگ داوا شرپا کی قیادت میں K2 بیس کیمپ سے اپنی بساط لپیٹ کر واپس سکردُو روانہ ہو چُکی ہے لیکن پاکستانی ٹُور آپریٹر جیس میں ٹُورز کی ٹیم لاپتہ کوہ پیماؤں کی تلاش کےلیے سرچ
کے ٹو سد راہ ،سدپارہ کی واپسی کی امیدیں دم توڑنے لگیں
On February 10, 2021 by adminعبیدالرحمن عالمی شہرت یافتہ کوہ پیما محمد علی سد پارہ، آئس لینڈ کے جان اسنوری اور چلی کے جان پابلو موہر کی واپسی کی امیدیں دم توڑنے لگیں،کے ٹو کو موسم سرما میںفتح کرنے کا عزم لیے محمد علی سدپارہ اور ان کے ساتھیوںکا چار روز قبل بیس کیمپ سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا انہوں