سید صیام بخاری
گورنمنٹ ہائی سکول چھتر کلاس ، مظفر آباد، آزاد کشمیر

پاکستان میں اردو زبان کی ضرورت و ضرورت

دنیا بھر کے ماہرین تعلیم اس بارے میں یک زبان ہیں کہ تعلیم و تربیت کے لیے وہی زباں موضوع ہوتی ہے جسے تعلیم پانے والے آسانی سے سمجھ سکیں ۔اس مقصد کے لیے ہر قوم تعلیم و تربیت کے لیے ایسا نظام مرتب کرتی ہے۔جس میں کم سے کم وقت میں لوگوں کو اچھی تعلیم دے کر عملی میدان میں لایا جا سکے ۔اسی طرح ایک قوم کا ذریعہ تعلیم بھی اس قوم کی تعمیر و تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔چنانچہ جو قومیں اپنی زبان کو ذریعہ تعلیم کے طور پر نہیں اپناتیں،ان کے نونہالوں میں وہ قومی کردار پیدا نہیں ہو سکتا جو اس قوم کی اومنگوں اور عزائم کا آئینہ دار ہوتا ہے۔اور نہ ان میں وہ صفات پیدا ہوسکتی ہیں جو ان قوموں کی انفرادی شناخت کا حوالہ بنتی ہیں ۔

اس لحاظ اس بارے میں تو یقینا دو رائیں نہیں ہو سکتیں کہ پاکستان میں ذریعہ تعلیم پاکستان کی قومی زبان اردو کے لئے ایک ہونا چاہیے۔ مگر المیہیہ ہے کہ پاکستان غالبا دنیا کا واحد ملک ہے ۔جہاں اس کی قومی زبان کے بجائے ایک غیر ملکی زبان ذریعہ تعلیم ہے ۔اس افسوسناک صورتحال کا نتیجہیہ نکلا ہے کہ سرکاری دفاتر اور کاروبار مملکت انگریزی زبان کی گرفت مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جا رہی ہے ۔

چونکہ ہمارے ہاں اعلیٰ طبقہ انگریزی ہی کے ذریعے عوام پر اپنی برتری جتانے اور قائم رکھنے کی کوشش کرتا ہے ۔اس لیےعلی ملازمتوں پر اپنی اجارہ داری قائم رکھنے کے لیے وہ اپنے بچوں کو تعلیم انگلش میڈیم اسکولوں میں دلواتا ہے۔ان کی دیکھا دیکھی دوسرے لوگ بھی اپنے بچوں کو انگریزی ذریعہ تعلیم والے اسکولوں میں تعلیم دلوانے کی کوشش کرتے ہیں۔


یہ بھی پڑھیں


دنیا کے قریبا سبھی ملکوں میں قومی زبان ذریعہ تعلیم ہے۔ ایک صرف ہمارا پاکستان ہی ایسا ملک ہے جس نے دور غلامی کییادگار انگریزی زبان کو ذریعہ تعلیم کے طور پر سینے سے لگا رکھا ہے۔ اور نہ صرف تعلیم بلکہ سرکار کا سارا کاروبار اسی زبان میں ہو رہا ہے ۔اردو کو اس کا جائز مقام سے محروم کرنے اور محروم رکھنے کی خاطر ہمارا انگریزی سے طبقہ کبھی تو اردو کی کم مائیگی اور پسماندگی کا رونا روتا ہےاور کبھی اردو زبان میں مروجہ علوم اور جدید سائنسی و فنی اصطلاحات کی کمی کا بہانہ بناتا ہے۔

حالانکہ اس طبقے کے یہ دونوں اعتراض بدیہی طور پر غلط ہیں۔ دنیا کے متعدد ممالک ایسے ہیں جن کی زبانیں اردو کے مقابلے میں کہیں کم مایہ اور زیادہ پسماندہ ہیں ۔مگر انہوں نے اپنی اپنی قومی زبان کو انگریزی جیسی ترقی یافتہ زبانوں پر ترجیح دیتے ہوئے اسے قومی زبان اور ذریعہ تعلیم کا درجہ دے رکھا ہے ۔

جہاں تک جدید علوم اور سائنسی و فنی اصلاحات کی کمیکے اعتراض کا تعلق ہے ، حیدرآباد دکن کی جامعہ عثمانیہ کا تاریخی تجربہ اس کے بطلان کے لیے کافی ہے۔ جہاں اردو کو ذریعہ تعلیم بنانے کے لیے فلسفہ، ریاضی، کیمیا، طبعیات ،طب اور دیگر علوم کی بے شمار کتابیں انگریزی سے اردو میں ترجمہ کی گئیں ان کتابوں کی مدد سے کالج کی ابتدائی سطح سے لے کریونیورسٹی کے انتہائی درجے تک تعلیم و تدریس کا سلسلہ اردو میں اس کامیابی سے ہوتا رہا ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ قومی زبان کے بجائے کسی غیر زبان کو ذریعہ تعلیم بنانا اردو ترجمہ کر کے سوا کچھ نہیں۔ہخواہ یہ زبان اپنی جگہ کتنی ہی ترقی یافتہ کیوں نہ ہو۔ جاپان جیسے چھوٹے سے ملک کو دیکھ لیجئے اس کی حیرت انگیز معاشی ترقی اور مالیاتی استحکام سے امریکہ اور یورپ تک خائف ہیں۔

چین کو دیکھ لیجئے جس نے سامراجی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ترقی کے سارے مراحل طے کیے ہیں ۔ کیا ان کییہ عظیم الشان ترقی ذریعہ تعلیم کی مرہون منت ہے ؟نہیں، ہرگز نہیں۔جاپان میں جاپانی زبان ہی ذریعہ تعلیم اوراہل چین تمام جدید علوم انگریزی میں نہیں ،اپنی چینی زبان میں حاصل کیے ۔

ارباب اختیار رات دن یہ شکوہ کرتے نہیں تھکتے ہمارا معیار تعلیم روز بروز پست سے پست تر ہوتا جا رہا ہے۔ اور غیر ملکی یونیورسٹیاں ہمارے تعلیمی اداروں اور یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے والے نوجوانوں کی اسناد کو پہلے کی طرح تسلیم نہیں کر رہیں۔میں نے تعلیم کی اس روز افزوں پستی کے اسباب و علل کی تحقیق کے لیے وقتا فوقتا کمیٹی بھی بنائی جاتی ہیں،

کمیشن بھی تشکیل دیے جاتے ہیں ۔اور ان کی طرف سے رپورٹیں بھی پیش کی جاتی ہیں جن میں کبھی اساتذہ کو موردالزام ٹھہرایا جاتا ہے ۔کبھی طلبہ پر تعلیم میں عدم دلچسپی کا الزام لگایا جاتا ہے اور کبھی گرتی ہوئی معاشرتی اقدار کو الزام دیا جاتا ہے۔مگر اس روشن حقیقت سے نہ جانے کیوں آنکھیں چرائی جاتی ہیں کہ معیار تعلیم کییہ پستی صرف اور صرف اس وجہ سے ہے کہ ہمارے ہاں قومی زبان کو زریعہ تعلیم کے طور پر اختیار نہیں کیا جا رہا۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت حیدرآباد دکن کی جامعہ عثمانیہ کی مثال کو سامنے رکھتے ہوے نیچے سے اوپر تک ہر سطح پر تعلیم کے لیے قومی زبان اور صرف قومی زبان کو اختیار کرے۔جس طرح ہائی سکول کی سطح پر جملہ سائنسی اور فنی مضامین کے لیے اردو میں تدریسی کتابیں تیار کرواتی ہے،اسی طرح کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر ماہرین سے کتابیں لکھوائی جائیں ۔

عثمانیہ یونیورسٹی ایک روشن مثال

اس مقصد کے لیے عثمانیہ یونیورسٹی کے ذخیرہ اصلاحات سے استفادہ کیا جا سکتا ہے ،اردو کے لیے تالیف و ترجمہ کا کام کرنیوالے مختلف سرکاری و غیر سرکاری اداروں سے مدد لی جا سکتی ہے، نئے وسیع المقاصد دارالترجمہ کا قیام عمل میں لایا جا سکتا ہے اور وہ تمام روکاوٹیں ایک ایک کر کے دور کی جا سکتی ہیں ۔جو قومی زبان، اردو کو بطور ذریعہ تعلیم اختیار کرنے کی راہ میں حائل ہیں یا ہو سکتی ہیں ۔

غرض اردو ذریعہ تعلیم کی بدولت ہم ایک نہیں متعدد فائدے حاصل کر سکتے ہیں ۔اس سے قومییکجہتی کے حصول میں مدد ملے گی،قیام پاکستان کے مقاصد کی تکمیل آسان ہو گی اور ہمارے طلبہ انگریزی کے ناردابوجھ سے نجات حاصل کر کے مقابلتا کم مدت میں مختلف علوم و فنون کی تعلیم مکمل کر سکیں ۔اس طرح ہمارا معیار تعلیم بھی بلند ہو گا،ہمارے طلبہ کی فکری و تخلیقی صلاحیتیں پروان چڑھیں گی،ان کے ذہنوں کو جلا ملے گی اور وہ زندگی کے عملی میدان میں اپنی ذہنی و عملی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوۓ وطن اور اہل وطن کی ترقی میں اپنی شاندار کارگردگی کے جوہر دکھا سکیں گے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Translate »