سید عتیق الرحمان شاہ

ہم نے ہر چوک چوراہے ، گلیوں اور سڑکوں کو ، محلوں اور پلازوں کو ، دیہاتوں اور شہروں کو ، الغرض جو بے جان چیز بھی ہمیں ملی اسے مشرف بہ اسلام کر دیا ۔ لیکن انسان کو چھوڑ دیا ۔۔ انسانوں کے کفر پر سینکڑوں نہیں ہزاروں فتاویٰ مل جائیں گے لیکن انسانوں کو مسلمان کرنے کا کوئی فتویٰ نہیں ملے گا ۔ مملکت خداداد کے جس شہر میں جائیں آپ کو سڑکیں مشاہیر اسلام اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نام سے منسوب ملیں گی ، کم و بیش ہر دوسرا چوک ، ہر دوسری گلی ، ہر دوسرا محلہ مقدس و برگزیدہ ہستیوں کے نام سے موسوم ملے گا ۔ اسلام کی اتنی ڈھیر ساری خدمت کے نتیجے میں ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ معاشرہ پاک صاف ہو جاتا ۔ کہ صحابہ کرام ( رضوان اللہ علیہم اجمعین ) کے ناموں کی لاج رکھنا اور ان کی اتباع ہر مسلمان کے لیئے دائرہ اسلام میں رہنے کے لئے ضروری ہے ۔

کیا جن مارکیٹوں کے نام صحابہ کرام یا مشاہیر اسلام پر رکھے گئے ان میں ذخیرہ اندوز تاجر یا ملاوٹی بنیئے رہ سکتے ہیں ؟ ہر گز نہیں کہ نام کی نسبت کی لاج رکھنا ضروری تھا لیکن ہو اس کے بلکل برعکس رہا ہے

سب سے پہلے مملکت خداداد کو ہی لیجیئے ۔ اس کو بھی ایک عرصے سے مشرف بہ اسلام کیا جا چکا ہے ۔۔ لیکن انصاف کہیں نہیں ۔ کوئی تو یہ سوال اٹھائے کہ آخر اسلام کو بدنام کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ ۔ یہی کام تو سوشلسٹ اور سیکولر ریاست میں بھی ہو سکتا تھا اس کے لیئے ریاست کے اوپر اسلام کا لیبل لگانے کی کیا ضرورت تھی ؟

بقول شخصے بھوکا مرنے کے لئے ریاست کی ضرورت نہیں ہوتی ، ریاست کے بغیر بھی بھوکا مرا جا سکتا ہے !
میرا مخاطب اسلام نہیں مسلمان ہیں ۔ اسلام سے مجھے کوئی گلہ نہیں گلہ تو مسلمانوں سے ہے کہ وہ انہی سڑکوں پر غلط پارکنگ کر کے ٹریفک بلاک کر دیتے ہیں جن سڑکوں کو مسلمانوں نے مشرف بہ اسلام کر رکھا ہے ۔ گلہ اہل مذہب سے ہے کہ انہوں نے جتنی توانائیاں ان شاہرات اور چوکوں چوراہوں کو مشرف بہ اسلام کرنے پر صرف کیں اگر اتنی محنت ان چوکوں چوراہوں سے گزرنے والوں پر کی ہوتی تو آج گدھے اور کتے کھانے کے سکینڈل سامنے نہ آتے ۔ صحابہ کے نام پر قائم مارکیٹوں میں بیٹھے ذخیرہ اندوز نیک اور متقی ہوتے بھلے مارکیٹوں کے نام اسلامی نہ ہوں کم از کم لوگوں میں اسلامی اقدار تو زندہ ہوتیں


یہ بھی پڑھیں


آپ کو یہ حق ہے کہ مجھ پر سوال اٹھائیں کہ میں ان بے جان چیزوں کی اسلامائزیشن کو کیوں نشانہ بنا رہا ہوں؟

ان ناموں نے تو لوگوں کو ایسا نہیں بنا رکھا بلکہ وہ لوگ اپنی فطرت کے باعث ایسے ہیں
یہ اعتراض بنتا بھی ہے اور کیا بھی جانا چاہیئے

میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ جب ہماری دعوت کا مرکز بدل گیا تو اس کا نتیجہ یہی ہونا تھا اسلام کی دعوت کا مرکز انسان تھا لیکن ۔۔۔۔۔ ہم نے انسان کے بجائے سڑکوں اور چوکوں کو مسلمان کرنا شروع کر دیا ۔

وہ اسلام جو انسانوں کے لئے آیا تھا ہم نے اٹھا کر اسے ملک ، گلیوں ، چوکوں چوراہوں پر مسلط کر دیا ۔ بجائے اس کے کہ ہم اسے اپنی اصلاح کے لئے بروئے کار لاتے ہم نے اسے دوسری بے جان چیزوں پر تھوپنا شروع کر دیا ۔ اور جو مسلمان تھے انہیں دائرہ اسلام سے خارج کرنے کی روش اپنا لی ۔ مسلمانوں کو مختلف منجن بیچنے والوں کی فرنچائزوں کے حوالے کر دیا گیا ۔ جس نے اتحاد کی بات کی وہ معتوب ٹھہرا اور جس نے نفرت کا پرچار کیا وہ معتبر اور قابل احترام بن گیا ۔

زرا سوچو میرے بھائیو ! کتنا ظلم کیا ہے ہم نے اپنے ساتھ
وہ مسلمان جو اپنے کردار کی وجہ سے زمانے میں معزز و محترم ہونا چاہیئے تھا آج دنیا بھر میں راندہ درگاہ ہے  تو اس لیئے کہ اس نے اسلام کی دعوت کا حلیہ ہی بگاڑ کر رکھ دیا ۔

وہ اخوت اور مساوات جس کا ہر مسجد میں ہم پانچ بار مشاہدہ کرتے ہیں ہمیں عملی زندگی میں کہیں دکھائی نہیں دیتی ۔ مسجد میں پہلے آنیوالا ریڑھی بان اگلی صف میں اور دیر سے آنیوالا ارب پتی پچھلی صف میں جگہ پاتا ہے ۔

عملی زندگی میں وہی ارب پتی اس ریڑھی بان کو منہ لگانا بھی کسر شان سمجھتا ہے ۔ کیوں ؟
اس لیئے کہ اسلام کی دعوت کا مرکز انسان کی جگہ گلی محلہ تصور کر لیا گیا

پلازے کا نام عمر فاروق پلازہ ہو گا اور اندر انصاف کا قتل عام ہو رہا ہو گا ۔
ابو بکر (رضی اللہ تعالیٰ عنہہ) روڈ پر دو نمبر اور ملاوٹ شدہ اشیا فروخت ہو رہی ہوں گی
محلہ عثمان غنی (رضی اللہ تعالیٰ عنہہ) میں سود خور رہائش پزیر ہو گا
علی (رضی اللہ تعالیٰ عنہہ) سٹریٹ میں سب بے نمازی رہتے ہوں گے

ابو زر غفاری (رضی اللہ تعالیٰ عنہہ) ٹائوں میں کروڑوں روپے کا بنگلے بنے ہوں گے اور زکواۃ ادا کرنے والا شائد ہی کوئی ملے
الغرض ہر ہر جگہ یہی داستان ملے گی ۔ اگر میری باتوں پر کسی کو آج یقین نہ بھی آئے تو ایک دن اسے خود انہی حالات کا مشاہدہ ضرور ہو گا

کیوں کہ ہم نے کردار کی تبدیلی اور بہتری کے بجائے دنیا کو اپنا مطمع نظر اور مقصد حیات بنا رکھا ہے ۔ اور دعویٰ ہے کہ ہم اسلام کی خدمت پر مامور من اللہ ہیں ۔

سوچنے کی بات ہے کہ ہم دوہرے گناہ کے مرتکب تو نہیں ہو رہے ۔
العیاذ بااللہ

( پس نوشت ! حضرت اشرف علی تھانوی رح فرماتے ہیں کہ اسلام اور مسلمان کوئی دو الگ الگ چیزیں نہیں اسلام مسلمان کے ہی عمل کا نام ہے ۔ حضرت تھانوی نے مختصر الفاظ اور دلنشیں پیرائے میں مسلمان کو اسلام کا مطلوبہ کردار اختیار کرنے کی پرحکمت دعوت دی ۔ انہی کے فرمان سے متاثر ہو کر یہ تحریر لکھی ہے ۔ جو لوگ مجھے غلط سمجھتے ہیں ان سے گزارش ہے کہ مجھے بے شک غلط سمجھیں پر خدا را میرے دین کا اپنے کردار کے ذریعے اپنے معاشرے میں احیا کریں ۔۔۔ ان سے درخواست ہے اسلام کی جنگ فیس بک پر نہیں لڑی جاتی ۔۔ اپنے نفس کے شیطان سے لڑی جاتی ہے )

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Translate »