سید عتیق الرحمان شاہ

جو لوگ انگریزی کو علمی زبان سمجھتے ہیں وہ اس حقیقت سے بے خبر ہیں کہ انگریزی کی کل علم دانی کا انحصار جرمن ، سپینش ، لاطینی ، یونانی ، عربی اور فارسی ، کے تراجم پر ہے ۔ ہیگل ، کانٹ ، نیٹشے ، گوئٹے ، البرٹ آئن سٹائن ، اور کارل مارکس وغیرہ کا سب کام جرمن میں ہے ۔

انگریزی میں علوم کی مںتقلی اور پھیلائو کا سفر صرف گزشتہ دو سو سال میں ہوا ۔ اس سے قبل انگریزی کے پاس صرف ادبی سرمایہ موجود تھا علمی اور ادبی سرمائے میں فرق کو ملحوظ خاطر رکھا جائے

بدقسمتی سے یہاں رینے والے ڈیکارٹ سے شوپنہار تک کو انگریز سمجھا جاتا ہے ۔ میری نظر میں انگریزی سے صرف آئزک نیوٹن، مائیکل فیراڈے، ڈالٹن ایڈم سمتھ ، ڈارون ، ٹی ایس ایلیٹ ، برٹرینڈ رسل اور یوال نوا حریری یا سٹیفن ہاکنگ ،جیسے علم کے میدان کے بیس بڑے نام نکال دیئے جائیں تو انگریزی میں تخلیق یا دریافت ہونے والے علم کی مقدار پچاس فیصد سے بھی زیادہ کم ہو جائے گی ۔

اگر علم تک رسائی کے لیئے جرمن پڑھنے کی تلقین کریں تو بھی جواز پیدا ہوتا ہے کہ گزشتہ ایک ہزار سالوں کے دوران سب سے زیادہ علمی کام جرمن میں ہوا ہے۔ فلسفہ ، منطق ، ریاضی ، کیمیا ، طب ، طبیعات ، یا دیگر سائنسی علوم و فنون میں ناموری کی سطح پر سب سے زیادہ جرمن پہنچے یا اطالوی اور لاطینی ۔لہٰذا یہ غلط فہمی دور کر لیجیئے کہ انگریزی علم کی زبان ہے ۔

ہر گز نہیں ! دنیا کے جتنے علوم ہمیں انگریزی میں ملتے ہیں وہ سب تراجم ہیں ۔ انگریزی کا اپنا حصہ اس میں گزشتہ دو سو سال پہلے تک دس فیصد بھی نہ تھا ۔ اٹھارہویں صدی عیسوی تک انگریزی کی تاریخ میں سازشیں رقابتیں ، دوسروں کو محکوم بنانا ، استحصال اور لوٹ مار تھا ۔ آج یوٹیوبی نسل یہ سمجھتی ہے کہ انگریزی کوئی بہت بڑی علمی زبان ہے ۔یہ محض ان کی علم یا دنیائے علم سے عدم واقفیت کے باعث ہے

علامہ اقبال نے 1908 میں اپنا پی ایچ ڈی مقالہ میونخ یونیورسٹی میں جمع کروایا ۔ اس وقت جرمنی کی یونیورسٹی انگریزی کا مقالہ قبول ہی نہیں کر رہی تھی علامہ نے جرمن سیکھ کر اپنا مقالہ لکھا اور اس کا انگریزی میں ترجمہ ہوا جسے ہم لوگ علامہ کی انگریزی تصنیف سمجھتے ہیں۔


یہ بھی پڑھیں


ڈویلپمنٹ آف میٹا فزیکل ان پرشیا  یعنی ایران میں مابعد الطبیعیات کا ارتقاء کا اصل متن جرمن میں ہے۔ یہ اوقات تھی سو سال پہلے انگریز اور انگریزی کی جسے یورپ کی میونخ یونیورسٹی بھی قبول نہیں کرتی تھی ۔ کیوں کہ وہ سمجھتے تھے انگریزی علمی اعتبار سے جرمن زبان جیسی وسعت نہیں رکھتی ۔ مگر آج انگریزی کے سامنے مرعوبیت کا یہ عالم ہے کہ ہم علم کو انگریزی کی میراث سمجھ رہے ہیں

اختصار سے کام لیتے ہوئے صرف اتنا کہنا کافی ہو گا کہ پورے انگریزی ادب میں اتنا بڑا نام آج تک کوئی نہیں جسے حافظ شیرازی کے مقابلے میں رکھا جا سکے ۔ کیٹس ، ولیم شیکسپیئر ، جان ملٹن ، شیلے ، بائرن ، ملٹن ، ورڈز ورتھ اور دیگر بڑے انگریزی شعراء اور ادیب دانش رومی و سعدی کی گرد کو بھی نہیں پہنچتے ۔

اور یہ بات بہت سے مستشرقین نے بھی کہی۔ بطور خاص پروفیسر آرنلڈ اور گوئٹے بھی حافظ کو سب سے اوپر دیکھتے ہیں ۔

علامہ اقبال کو رومی اور حافظ کی ادبی قدر و منزلت کا اندازہ پروفیسر آرنلڈ سے ہوا تھا ۔یہ کہنا غلط نہیں کہ جتنا علمی کام صرف فارسی میں ہوا ہے اتنا انگریزی میں شائد آج بھی نہ ہو ۔ باوجود اس کے کہ دنیا کی بڑی جامعات انگریزی میں تحقیق کروا رہی ہیں ۔

انگریزی کو اہمیت نوبل انعام کے ذریعے حاصل ہوئی۔ نوبل انعام ڈائنامائیٹ کے موجد نے 1900 میں جاری کیا ۔ بارود کی تجارت سے دنیا کو امن کا انعام دینا نوبل انعام کہلاتا ہے ۔ جس نے انگریزی کو بام عروج تک پہنچایا۔
غالباً 1915 کے بعد جب رابندر ناتھ ٹیگور کو ادب کا نوبل انعام ملا ۔ وہ پہلا انعام تھا جو کسی غیر انگریز کو ملا مگر ٹیگور کو بھی یہ انعام بنگالی پر نہیں ملا بلکہ اس کے انگریزی ترجمے پر دیا گیا۔ اسی طرح یہاں سے آگے انگریزی کا غلغلہ بلند ہوا ۔

ادبی و علمی پہلوئوں سے تہی دامن انگریزی

انگریزی کے علمی زبان ہونے کے وکیل دسویں صدی عیسوی سے اٹھارہویں صدی تک کے آٹھ سو سال میں دس ایسے انگریز علماء کے نام بتائیں جنہوں نے علم کی وسعت اور پھیلائو میں اپنا کردار ادا کیا ہو۔ آئن سٹائن کو انگریز سمجھنے والے پہلے اس بات کی تحقیق کر لیا کریں کہ یہ لوگ کون تھے؟ اور ان کی تحقیق کس زبان میں تھی ؟ علوم کو وسعت دینے میں کس زبان کا کتنا کردار ہے ۔ اس سوال کا جواب علم کی دنیا کے اماموں کی زبانوں سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

ازمنہ قبل از مسیح کے یونانی علماء فیثا غورث سقراط ، افلاطون، ارسطو ، بقراط ،ارشمیدس اور ایپی کیورس تک کسی کو معلوم ہی نہ تھا کہ انگریزی نام کی بھی کوئی زبان دنیا میں کہیں موجود ہے ۔ حکیم جالینوس رومن تھا ۔ باوجود اس کے آج تک انہیں علماء کا امام تصور کیا جاتا ہے ۔ مغرب میں علوم کا احیاء عربی کی علمی تحریک کا نتیجہ تھا۔

جب کہ عربی میں یونانی علوم کی منتقلی نے بغداد کو عروس البلاد کا نام دیا گیا۔ یورپ میں سائنسی علوم کا احیاء کرنے والے اولین نام برونو ، گیلیلیو اور کوپر نیکس وغیرہ ہیں ۔ برونو اور گلیلیو اطالوی تھے۔ گیلیلیو نے تعلیم قرطبہ کے اساتذہ سے حاصل کی تھی ۔ کوپرنیکس پولش تھا ۔ رینے ڈیکارٹ ، والٹیئر اور روسو فرانسیسی تھے۔ ان سب کا کام انگریزی میں ترجمہ شدہ ہے عربی میں انگریزوں اور جرمنوں نے مہارت حاصل کی تو مستشرقین پیدا ہوئے جنہیں یہاں علم کی دنیا کے امام سمجھ کر ہم انگریزی کو علمی زبان سمجھ بیٹھے ہیں ۔

جابر بن حیان کی الکیمیا ہو یا ابن سینا کی القانون فی الطِب و یا خوارزمی کی الجبر والمقابلہ ۔ سب عربی تصانیف ہیں ۔ البیرونی اور عمر خیام کا سارا کام فارسی میں ہے اور آج تک انگریزی تو درکنار دوسری بھی کسی زبان نے اس درجے کے عالم پیدا نہیں کیئے۔ ہاں انگریزی نے تراجم کے ذریعے عمر خیام کو بے نام و نشان ہونے سے ضرور بچایا ۔

ابن الرشد ، ابن الہیثم ، فارابی ، الکندی ، ابن طفیل ، ابن مسکویہ یہ سب علم کی دنیا کے امام ہیں ۔ ان میں سے کسی کو انگریزی نہیں اتی تھی ۔ مگر ہمارے ذہنی غلام علم کو انگریز کی میراث سمجھ رہے ہیں۔ یہ درحقیقت صرف ان کا خیال ہے ۔ وہ انگریزی کو علمی زبان فرض کیئے بیٹھے ہیں تو ان کی باتوں میں نہ آئیں حقائق جانیں ۔

جدید ٹیکنالوجی میں انگریزی کے استعمال نے بھی یہ مغالطے کو پھیلایا۔ وگرنہ انگریزی سے تراجم کو نکال کر دیکھیں تو اس کے دامن میں اردو جتنا بھی علمی کام باقی نہ رہے ۔
سرسید احمد خان انگریزی کے بہت بڑے حمایتی ہونے کے باوجود اپنا رسالہ تہذیب الاخلاق اردو میں جاری کرتے تھے ۔ ان حقائق سے بے بہرہ لوگ ہی انگریزی کے سامنے سر بسجدہ ہیں ۔

آخری بات

قائد اعظم محمد علی جناح سے زیادہ انگریزی موجودہ دور میں شائد ہی کوئی جانتا ہو۔ان کی انگریزی سمجھنے کے لیئے خود انگریزوں کو بھی ڈکشنریاں دیکھنا پڑتی تھیں ۔ مگر جب پاکستان کی قومی زبان کا سوال آیا تو انہوں نے اردو کو قومی زبان کے طور پر منتخب کیا ۔ درآنحالیکہ کہ وہ اردو میں قابل ذکر دستگاہ نہ کر رکھتے تھے ۔
مگر کیوں؟
اس کی دو وجوہات ہیں پہلی یہ کہ انگریزی سے مرعوبیت ان کے ہاں بالکل بھی نہ تھی۔ اور دوسری وہ جانتے تھے کہ فارسی اور عربی کا تمام ذخیرہ علم و ادب اردو کی پشت پر موجود ہے ۔ اردو ہی پاکستان کے مسلمانوں کو ان علوم تک رسائی دلا سکتی ہے جو دیگر اقوام کو اوج کمال تک پہنچانے کا باعث بنے ۔

زبانوں کی تفریق ایک قوم کو انتشار کا شکار کیسے کرتی ہے اس پر الگ سے اظہار خیال کروں گا اگر موقع ملا تو استشراق کی تحریک نے جس طرح مسلمانوں کو گروہوں میں تقسیم کیا اس کا جائزہ لینا ضروری ہے اور یہ سب کچھ انگریزی کے ذریعے ہوا ۔اس کو سمجھنا بھی ضروری ہے

مگر یہاں اختصار سے کام لیتے ہوئے اس شعر کے ساتھ اجازت چاہوں گا

لفظ تاثیر سے بنتے ہیں تلفظ سے نہیں
اہل دل آج بھی ہیں اہل زبان سے آگے

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Translate »