سدھیر احمد آفریدی

انگریزی کے محاورے کا مفہوم ہے کہ الفاظ سے زیادہ عمل اونچا  بولتا ہے کافی عرصے سے سوشل میڈیا پر حیرانگی کے ساتھ دیکھتا رہا ہوں کہ معاشرہ دانشوروں اور مفکرین سے بھرا پڑا ہے لیکن ہمیں دکھائی نہیں دے رہا تھا اب سوشل میڈیا نے کمال کر دکھایا کہ ہر معاشرے کے مہذب، مفکر اور دانشور حضرات کو ہماری آنکھوں کے سامنے لایا جن کی بہترین پوسٹوں اور اقوال زریں سے صبح و شام مستفید ہو رہے ہیں سوشل میڈیا کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ ایک بے لگام گھوڑا ہے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا کے اوپر ہر کسی کی خبر درست ہوتی ہے اور نہ ہی اس کے سچ ہونے پر یقین کیا جا سکتا ہے سوشل میڈیا کے فوائد اور نقصانات دونوں موجود ہیں جن کو گننا یہاں مقصود نہیں اور یہ بھی درست ہے کہ سوشل میڈیا نے لوگوں کو ایک پیج پر لا کھڑا کر دیا ہے

مثلاً فیس بک اور ٹویٹر وغیرہ پر مختلف الخیال لوگوں کی آراء اور خیالات سے مستفید ہونے کا موقع ملتا ہے جو پہلے ممکن نہ تھا مثال کے طور پر پہلے اخبار کا قاری بمشکل ایک اخبار یا دو پڑھ کر معلومات حاصل کرتا تھا اور مخصوص دانشوروں، کالم نگاروں، سیاسی قائدین اور میڈیا کے رپورٹرز کی خبروں اور معلومات تک رسائی ممکن تھی اب تقریباً سب کچھ سمٹ کر سوشل میڈیا پر آگیا ہے جس نے پڑھنے اور دیکھنے والوں کا کام آسان بنا دیا ہے

یہ بھی سچ ہے کہ سوشل میڈیا جھوٹی خبروں اور غیر مصدقہ معلومات کا منبع بنا ہوا ہے اور زیادہ تر صارفین نے فیک آئی ڈیز بنائی ہوئی ہیں جن کو وہ غلط معلومات، غلط مقاصد، ذاتی بغض اور عناد کے لئے بھی استعمال کرتے ہیں

یہی وجہ ہے کہ اب لوگ کوشش کرتے ہیں کہ دانشمندی کے ساتھ اس کا استعمال کریں اور جعلی قسم کے لوگوں کو اپنی فرینڈ لسٹ سے نکال دیں اور جن رائٹرز کی تحریریں اور معلومات اچھی اور درست ہوتی ہیں انہی کے پیجز دیکھتے اور پڑھتے ہیں اور یہی اچھی بات ہے بنیادی طور پر ہمیں اتحاد و اتفاق اور عمل کی ضرورت ہے


یہ بھی پڑھیں


ہر معاشرے کے اندر اگر سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز کے اوپر ہی لوگ یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے مشترکہ مسائل اور مشکلات اجاگر کیا کریں اور ایک ٹرینڈ بنا کر چلائیں تو اس سے ایک فائدہ یہ ہوگا کہ لوگوں میں شعور اور احساس پیدا ہوگا اور دوسرا یہ کہ حکومت اور متعلقہ سرکاری اور نجی ادارے ان کے مسائل، تحفظات اور خدشات کی طرف متوجہ ہونگے اور اصلاح کی کوشش کرینگے

ذاتی نوعیت کے مسائل اور اختلافات کے بجائے اگر سوشل میڈیا کو اجتماعی مسائل کے حل کے لئے استعمال کیا جائے تو اس کے اچھے اور حوصلہ آفزاء نتائج سامنے آئیں گے سوشل میڈیا کے یوزرز کو اخلاقیات اور دیانتداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے جعلی اکاؤنٹس کے استعمال سے گریز کرنا چاہئے اور جن کو معلوم ہو جائے کہ کسی نہ جعلی فیس بک یا ٹویٹر اکاؤنٹ بنا رکھا ہے اس کی نشاندہی کرنی چاہئے

تاکہ تمام سوشل میڈیا کے یوزرز کو جعلی اکاؤنٹس کے بارے میں آگاہی ہو سکے اور پھر سب لوگ جعلی اکاؤنٹس کے یوزرز کو بلاک کرکے ان کو پیغام دیں کہ جعلی اکاؤنٹ کا استعمال کرنے والا جھوٹا اور بد دیانت ہوتا ہے جس کی بات پر یقین نہیں کیا جا سکتا تاکہ ان کو بھی اپنی غلطی کا احساس ہو سکے بد قسمتی ہماری یہ ہے کہ ہم اجتماعیت کے بجائے من حیث القوم انفرادیت کی طرف زیادہ مائل ہوتے ہیں اس لئے ہمارے مسائل کم ہونے کے بجائے روز بروز بڑھتے ہیں

معاشرہ ظلم، ناانصافی، بد دیانتی، مالی اور اخلاقی کرپشن سے بھر چکا ہے سرکاری اور نجی اداروں،ان کے ذمہ داران اور ماتحت منتظمین کے رویئے بگڑ چکے ہیں ذاتی لالچ، غرض اور فائدے کے لئے لوگ مجبور اور ضرورت مند انسانوں کا استحصال کھلے عام کرتے ہیں نیکی اور خیر منتشر جبکہ فساد، بگاڑ اور برائی منظم ہیں اور یہی ہماری تباہی اور بربادی کے اصل اسباب ہیں

اس لئے میری ذاتی رائے ہے کہ اگر سوشل میڈیا کو اچھے مقاصد کے لئے استعمال کیا جائے تو اس کے دور رس اور اچھے نتائج برآمد ہونگے اور اگر سوشل میڈیا کے اوپر بھی ہر کسی نے اپنی دکان کھول رکھی ہے اور ہر کوئی اپنی بانسری بجاتا ہے تو پھر یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم اپنی تباہی کے گڑھے خود کھودتے ہیں سوشل میڈیا کے اوپر فلاسفروں اور دانشوروں کی کوئی کمی نہیں لیکن اگر اسی سوشل میڈیا کے ذریعے کسی اجتماعی مسئلے کے حل کے لئے یکجہتی اور باہر آکر احتجاج کی کال مل جائے تو پھر میدان عمل میں کوئی دکھائی نہیں دیتا

اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ پہلے ہم سب عملیت پسند بنیں اور پھر دوسروں کو احساس ذمہ داری کا درس دیں کہ جب تک ہم اپنے مسائل کے حل کے لئے باہر نہیں آئینگے تب تک ہمارے اجتماعی مسائل حل نہیں ہونگے خالی باتوں اور عملی کام می زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے سوشل میڈیا پر دانشوری دکھانے سے کچھ نہیں ہوگا لوگوں کو شعور اور تعلیم دیکر ان کو بیدار اور منظم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہر کوئی اچھائی کے لئے اپنے حصے کا کام کریں

بیشک اپنے اپنے دائرے کے اندر چھوٹے کاموں سے آغاز کرنا چاہئے مثلاً ہم سب ملکر عہد اور عزم کریں کہ ہم شجرکاری کے موسم میں خود بھی پودے کاشت کرینگے اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دینگے تاکہ موسمیاتی تبدیلیوں، درجہ حرارت میں اضافے اور ماحولیاتی آلودگی پر قابو پا سکے یا ان کو کم کر سکے اور بیشک اس میں سب کا دیرپا فائدہ ہے

اسی طرح اگر ہم اجتماعی طور پر یہ سوچ اپنائیں کہ ہم اپنے گھروں سے ابتداء کرکے صفائی کا رجحان عام کریں اور پھر گلی اور محلے کی سطح پر صفائی کا خیال رکھیں اور گندگی نہ پھیلائیں تو ایک بڑی سنت بھی ادا ہو جائیگی اور اپنے معاشرے کو صاف ستھرا رکھنے میں کامیابی ملیگی معاشرے میں یہ سوچ عام اور راسخ کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم صفائی پسند بن جائیں ماحول، کپڑے، جسم اور دماغ کے اندر خیالات اور نظریات کو پاک صاف رکھنے کو ہی صفائی کہتے ہیں

حیات آباد پشاور جیسے علاقے میں صفائی کی بد ترین صورتحال دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے اور ہر جگہ دیکھتے ہیں کہ لوگ گندگی پھینکتے اور پھیلاتے ہیں اور پھر ایک خاکروب سے صفائی کی توقع رکھتے ہیں اصل میں پہلے ذہنی اور فکری صفائی کی ضرورت ہے اس کے بعد معاشرے اور ماحول کی صفائی کی باری آتی ہے یہی پاکیزگی اور صفائی پھر ہمارے تمام اداروں اور ڈیپارٹمنٹس کے اندر بھی دکھائی دیگی لیکن عمل کی دنیا کی طرف آنا ہوگا اچھے اور برے میں فرق کو سمجھنا ہوگا اور حق اور سچ کا ساتھ دینا ہوگا برائی کی مخالفت اور اچھائی کی تعریف کرنی ہوگی انفرادیت سے اجتماعیت کی طرف آنا ہوگا پھر کہیں بہتری کی سوچ پروان چڑھے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Translate »