Join Our Membership

Advertisement Section
Read Time:7 Minute, 26 Second

سدھیر احمد آفریدی


16 اکتوبر کو پی ٹی آئی کی خالی کردہ 8 نشستوں پر دوبارہ ضمنی الیکشن ہوا کراچی ملیر اور ملتان سے پی ٹی آئی کے چئیرمین عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی بیٹی مہربانو قریشی پیپلز پارٹی کے امیدواروں عبدالحکیم بلوچ اور علی گیلانی کے مقابلے میں ہار گئے جبکہ باقی چھ نشستوں پر پی ٹی آئی کامیاب قرار پائی ہے جن میں سے پانچ نشستوں پر عمران خان بذات خود امیدوار تھے

یہ تو ایک کھلی حقیقت ہے کہ اگر پی ڈی ایم جلد بازی نہ کرتی اور چند مہینے اور صبر اور برداشت سے کام لیکر عمران خان کی حکومت کو کام کرنے کا موقع دیتی تو پھر پی ٹی آئی اور اس کے چئیرمین عمران خان کی یہ پوزیشن نہ ہوتی جو آج ہے تاہم دوسری طرف پی ڈی ایم اور خاص کر مسلم لیگ ن کا مؤقف ہے کہ اگر وہ مرکزی حکومت قبول نہ کرتے اور عدم اعتماد کے ذریعے قبل از وقت عمران خان کو رخصت نہ کرتے تو ملک بہت بڑے معاشی اور اقتصادی بھنور میں پھنس جاتا اور اس کے دیوالیہ ہونے کا خطرہ تھا

مسلم لیگ ن کی قیادت سمجھتی ہے کہ انہوں نے ریاست بچانے کے لئے سیاست قربان کر دی تاہم وہ چند مہینوں کی حکومت میں مشکل فیصلے تو کر گئی جس سے واقعی ملک وقتی طور پر دیوالیہ ہونے سے بچ گیا لیکن عوام کی بھی چیخیں نکال دیں اور کوئی قابل زکر اور نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ پی ڈی ایم کی حکومت نہیں کر سکی اگر صرف مہنگائی کو کنٹرول کرتی، غریب عوام کو بجلی اور گیس کی مد میں سہولت دیتی اور غیر ترقیاتی اخراجات کو ختم کر دیتی تو اس سے ملک اور قوم کو بہت بڑا فائدہ ملتا اور اس کے نتیجے میں پی ٹی آئی کے چئیرمین عمران خان کا گراف بڑی حد تک نیچے آجاتا

لیکن پی ڈی ایم کی حکومت ان حوالوں سے بھی بری طرح ناکام رہی اتحادی مرکزی حکومت کے مقابلے میں عمران خان کا بیانیہ سچا یا جھوٹا تاہم واضح ہے اور مسلسل اپنے بیانئے کو گراس روٹ لیول تک پہنچانے میں کامیاب رہے ہیں اور بچے بچے کے ذہن پر یہ نقش کر دیا ہے کہ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور جمعیت علماء اسلام ف کرپٹ، نااہل اور بیرونی ایجنڈے پر کارفرما ہو کر اس ملک اور عوام کے خلاف سازشوں میں شریک ہیں اور بیرونی ایجنڈے پر چل کر عمران خان کی حکومت کو چلتا کر دیا

جس کے لئے وہ سازشی خط کا سہارا لے رہے ہیں مجھے یاد ہے کہ جماعت اسلامی کے سابق مرحوم امیر قاضی حسین احمد بھی مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اور کرپٹ ترین جماعتیں ہیں جنہوں نے سارا سرمایہ بیرون ملک کے بینکوں میں جمع کر رکھا ہے


یہ بھی پڑھیں 


لیکن قاضی حسین احمد مرحوم اور جماعت اسلامی کو اس میں کوئی خاص اور قابل ذکر کامیابی نہیں ملی اور نہ ان کو لوگوں نے متبادل قوت کے طور پر تسلیم کیا کہ وہ قوم کو سمجھانے میں کامیاب ہوتے اور ان دو جماعتوں کے مقابلے میں اس طرح کامیابی حاصل کرتے جس طرح عمران خان نے ان دونوں جماعتوں کو ناک آؤٹ کر دیا ہے یہ درست ہے کہ 2018 میں عمران خان کو بام عروج کے اس مقام تک پہنچانے میں اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ تھا اور بیرون ملک سے ان کو فنڈز کی صورت میں بہت بڑی امداد ملی تھی اور قومی میڈیا نے بھی ان کو پروان چڑھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی

لیکن اب اقتدار سے محرومی کے بعد جب اس کا گراف نیچے نہیں آرہا تو اس کی کئی وجوہات ہیں سب سے پہلے تو ان کی شخصیت ہے جسے لوگ پسند کرتے ہیں طلاق جیسے ناپسندیدہ عمل سے وہ گزرے ہیں غلطی کس کی تھی یا کون حق پر تھا اور اسی طرح بہت سارے مواقع پر اپنا مؤقف چھوڑ کر یو ٹرن لیتے رہے اور یو ٹرن خان کے طور پر ان کی پہچان بنا دی گئی اور اسلامی موضوعات پر بھی وہ نہیں سمجھتے تھے یا ان کی زبان دوران تقریر پھسل جاتی رہی

لیکن لوگ پھر بھی ان سے نفرت نہیں کرتے اور ان کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں بلکہ اگر یوں کہا جائے تو واقعی بے جا نہ ہوگا کہ عمران خان کو پاکستانیوں کی اکثریت مذہبی جماعتوں کے قائدین سے زیادہ مذہبی اور اسلام پسند سمجھتے ہیں حالانکہ یہ درست نہیں

صحت انصاف کارڈز سے لوگوں کے علاج معالجے کا انتظام کرکے واقعی بہت بڑا کام کیا ہے جس کی وجہ سے عام غریب لوگوں کی مشکلات اور پریشانیوں کا خاتمہ کیا گیا ہے حالانکہ بعض ناقدین کہتے ہیں کہ صحت سہولت کارڈز کی خطیر رقم سے صوبے کے تمام ضلعی ہسپتالوں کو اپ گریڈ کیا جا سکتا تھا جس سے ہسپتالوں میں علاج کی تمام سہولیات فراہم کی جا سکتی تھیں

لیکن وہ یہ نہ کر سکے بی آر ٹی وغیرہ ان کی صوبائی حکومت کے کچھ کارنامے ہیں جو تنقید اور کرپشن کے اعتراضات سے بھی محفوظ نہیں رہے ہیں لیکن ان چند منصوبوں سے لوگوں کو فائدہ ہوا ہے اور سب سے بڑھ کر جس چیز نے عمران خان کے بیانئے اور ان کی حالیہ جیت کو یقینی بنا دیا ہے وہ ہے سوشل میڈیا کا جاندار اور جارحانہ کردار اور اس میں نوجوانوں کا سرگرم عمل رہنا پی ٹی آئی کی یوتھ نے آندھی تقلید کہہ لیں یا اس کو جنون کا نام دیں لیکن انہوں نے اپنی پارٹی اور چئیرمین کے مؤقف کو سوشل میڈیا کے ہر پلیٹ فارم پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا

اور پی ٹی آئی کی یوتھ کا سوشل میڈیا پر یہی کردار اور یلغار ہے جس کے سامنے مین سٹریم میڈیا کو بےاثر ثابت کر دیا گیا اور معاشرے کے تمام طبقات کے ذہنوں پر سوار رہے۔ پی ٹی آئی کی یوتھ اور لیڈرشپ کے سوشل میڈیا پر یلغار اور مسلسل پروپیگنڈے کے مقابلے میں باقی تمام جماعتیں ڈھیر ہوگئی تھیں اور مجبور ہو کر مخالفین صرف پی ٹی آئی کے لوگوں کی پوسٹیں اور ٹویٹس دیکھ کر آگے بڑھ جاتے اور یہ کہتے پائے گئے کہ ان بے وقوفوں کے ساتھ بحث مباحثہ کا کوئی فائدہ نہیں لہٰذا انہوں نے بڑی حد تک سوشل میڈیا کا میدان پی ٹی آئی کے لئے کھلا چھوڑ دیا جس پر پی ٹی آئی کے یوزرز کا قبضہ رہا اور اس کے نتیجے میں انہوں نے مخالفین کو نیچا دکھانے کے لئے جائز اور ناجائز، اخلاقی اور غیر اخلاقی سب کچھ کیا جس کا ان کو فائدہ ہوا

باقی جماعتوں کے قائدین اور کارکنان سوشل میڈیا کے تیز ترین، مدلل اور مؤثر استعمال میں بری طرح ناکام رہے رہی بات عام انتخابات کی تو اس میں کوئی شک نہیں کہ نوجوانوں یا پاکستانیوں کی اکثریت عمران خان کے شیدائی ہیں اور جنون کی حد تک ان کو پسند کرتے ہیں اور یہ عمران خان کا کمال کہہ لیجئیے کہ انہوں نے ملک اور عوام کو درپیش مشکلات اور مسائل کا ذمہ دار مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کو ٹھہرا دیا ہے

جس میں ان کو خاطر خواہ کامیابی ملی ہے اور جمعیت علماء اسلام ف اور اس کے قائد مولانا فضل الرحمن کو بھی اس قدر رگڑا دیا ہے کہ ان کی جماعت کے بڑے اور نامور علماء مولانا محمد خان شیرانی کی قیادت میں جاکر عمران خان سے ملے ہیں اور اپنے اکابرین کے فلسفے کو ہی فراموش کرکے ہمیشہ کے لئے خیر باد کہہ دیا اب رہی بات عام انتخابات کی تو ناچیز کی رائے ہے کہ عمران خان تمام حلقوں سے الیکشن لڑ نہیں سکتے اور ان کی پارٹی کے اندر جب ٹکٹ بانٹ دئے جائینگے تو بڑی بڑی سیاسی شخصیات کو اگر ٹکٹ نہیں ملے تو وہ پارٹی اور عمران خان کے وفادار نہیں

بلکہ مفاد پرست اور ابن الوقت ہیں اور الگ ہونگیں اگر پارٹی کے وفادار اور مخلص افراد کو ٹکٹ جاری کرتے ہیں تو وہ اتنے سرمایہ دار نہیں کہ الیکشن میں پانی کی طرح پیسہ بہا کر کامیابی حاصل کریں اور لازمی بات ہے کہ ارب پتی افراد کو ہی ٹکٹ ملیں گے اور پھر مخلص اور پارٹی کے وفادار لوگ کنارہ کشی اختیار کرینگے تو اس طرح دکھائی نہیں دیتا کہ عام انتخابات میں پی ٹی آئی کلین سویپ کر سکے گی

پی ٹی آئی کے ذمہ دار اور پرانے کارکنوں سے سنتے آرہے ہیں کہ اب پارٹی پر سرمایہ داروں کا قبضہ ہے تو اس طرح کی صورتحال اگر واقعی ہے تو پھر عام انتخابات میں پی ٹی آئی اپنی مقبولیت بمشکل برقرار رکھ سکے گی اور یہی حال باقی جماعتوں کا بھی ہوگا جہاں سرمایہ لگانے والے کم ہونگے وہاں وہ یہ توقع نہ رکھیں کہ کامیابی ان کے قدم چوم لیگی اور یہی سوچنے کی بات ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Previous post ٹیکنالوجی کی یلغار ،ٹیکنیکل ایجوکیشن اور ہمارا مستقبل ؟سدھیراحمد آفریدی
Next post غریبو! دولت سب کچھ نہیں!!!تحریر سدھیر احمد آفریدی
Translate »