سماوہ سلطان ، کپس کالج، بحریہ کیمپس لاہور

پاکستان میں قومی زبان کے نفاذ کی اہمیت اور ضرورت

کسی ملک کی ترقی اور پہچان اس کی قومی زبان سے ہوتی ہے۔ اسی سے تہذیب و تمدن کی عکاسی کی جاتی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
“اور ہم نے نہیں بھیجا کسی بھی رسول کو مگراس کی قوم کی زبان میں تاکہ وہ احکام اچھی طرح واضح کر دیں”. (سورہ ابراہیم:4)۔ تاریخی پس منظر سے معلوم ہوتا ہے کہ مغلیہ دور میں فارسی کے ساتھ اردو کو بھی سرکاری زبان کا درجہ ملا۔ اس کے بعد ہی اردو کا فروغ عام ہونے لگا۔مگر بدقسمتی سے ہم آج تک اردو کے نفاذ کو پاکستان میں کامیاب نہیں کر سکے۔

ہماری پستی کی ایک بڑی وجہ بھی یہی ہے۔ اگر ہم ترقی یافتہ ممالک کو دیکھیں تو امریکہ، فرانس، جاپان اور جرمنی ایسے ممالک ہیں جنہوں نے اپنی قومی زبانوں کو سرکاری زبان کے طور پر رائج کیا ہوا ہے۔ چین جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی چینی زبان ہی رائج ہے اور آج چین دنیا کی طاقتور قوتوں کے برابر آ چکا ہے۔ 1942ء میں ‘آل انڈیا مسلم’ کے دیباچے میں قائد اعظم کا یہ بیان شائع ہوا:

“پاکستان کی کی سرکاری زبان اردو ہوگی”. قیام پاکستان کے بعد 1948میں ڈھاکہ میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا: “اس صوبے کے لوگوں کو حق پہنچتا ہے کہ وہ فیصلہ کریں گے اس صوبے کی زبان کیا ہوگی لیکن میں آپ کو واضح طور پر بتا دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہو گی اور صرف اردو ہوگی. جو آپ کو اس سے گمراہ کرتا ہے وہ پاکستان کا دشمن ہے. جہاں تک پاکستان کی سرکاری زبان کا تعلق ہے تو وہ بھی اردو ہو گی”.


یہ بھی پڑھیں


ناصرف قائد اعظم کے یہ بیانات بلکہ آئین پاکستان 1973ء میں بھی اردو کو دفتری زبان بنانے کا اعلان ہوا لیکن عمل آج تک نہ ہو سکا۔ ہم ہمیشہ سے ہی اردو کے عملی نفاذ کو یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

قومی زبان کی اہمیت سے انکار ممکن ہی نہیں۔ ماضی پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جب مسلمان سائنس کی دنیا میں اپنا لوہا منوا رہے تھے تو ان کی تمام کتب اور تحقیق ان کی قومی زبانوں میں ہی ہوتی تھی۔ ابو القاسم ذاہراوی ہوں یا بو علی سینا، الخوارزمی ہوں یا ابنِ خلدون، عظیم سائنسدان گزرے ہیں جنہوں نے طب، ریاضی، فلکیات اور مختلف سائنسی شعبوں میں انقلاب برپا کر دیا تھا۔

چونکہ ان کی تمام کتب انکی ہی زبانوں میں تھی اس لئے انگریزوں نے انکے تراجم کیے۔ یہ تراجم کئی کئی جلدوں پرمشتمل ہیں۔ مگر ہمارے ہاں ان کتب کے اردو تراجم ملنا ناممکن ہے کیونکہ کسی نے کبھی زحمت ہی نہیں کی۔

کہنے کو تو ہم آزاد ملک ہے لیکن ہم اب بھی ذہنی غلام ہیں۔ دستور پاکستان میں انگریزی زبان کو وقتی ضرورت کے تحت 13 اگست 1988ء تک کے لئے عارضی طور پر اردو کی جگہ دی گئی تھی اور 14 اگست 1988ء کو اردو کو سرکاری زبان کا مرتبہ مل جانا تھا لیکن آج تک کوئی سنجیدہ حکمت عملی سامنے نہیں آئی۔

اگر ہم اپنی پہچان کو بھول کر دوسروں کی کی زبان اپنا کر ترقی حاصل کرنے کا سوچ رہے ہیں تو اس طرح ہم مذید غلامی میں جکڑتے جائیں گے۔ کیونکہ چلنا اپنے پیروں پر ہی پڑتا ہے، دوسروں کے سہارے صرف جنازے اٹھتے ہیں۔ہمارا تو تعلیمی نظام بھی انگریزی پرہی منحصر ہے۔

بقول اکبر الہ آبادی

‘دل بدل جاتے ہیں تعلیم بدل جانے سے’۔

ہم آہستہ آہستہ اپنی اقدار کھوتے جا رہے ہیں۔

پاکستان اور نظریہ پاکستان سے محبت کرنے والے لوگ اب بھی موجود ہیں اور وہ کوششیں بھی کر رہے ہیں کہ نفاذ اردو کو یقینی بنایا جائے۔ لیکن اشرافیہ انگریزی رعب میں اس قدر غرق ہے کی وہ سمجھتے ہیں کہ انگریزی کے بغیر ترقی ممکن ہی ںہیں۔ کیا چین نے بھی انگریزی کی بنیاد پر ترقی کی؟

ضرورت آج اس امر کی ہے کی آئین کی دفعہ 251 کو نافذ کر کے قائد اعظم کے احکام کی تکمیل کی جائے۔ بحیثیت قوم ہمیں قومی زبان کا نفاذ یقینی بنانا ہوگا کیونکہ اس کے بغیر ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔ یہ ہماری ضرورت بن چکی ہی کیونکہ اگر کسی ملک سے اسکی قومی زبان چھن جائے تو اس کی شناخت بھی باقی نہیں رہتی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Translate »