ہمارے عہد کا سحر سامری

1982  میں یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں پی ٹی وی کراچی سے بہ طور معاون پروڈیوسر وابستہ تھا۔
دفتر کے دروازے پر دستک ہوئی، دروازہ کھلا تو محمد یوسف میرے کمرے میں داخل ہوئے۔ اپنے عہد کے نامورٹی وی فن کار، ریڈیو کے صداکاراور پی ٹی وی سے آن ایئر ہونے والے تاریخی ڈرامے ”شاہین“ کے اہم ترین فن کار۔ شاہین میں ان کاکردار ابو داؤد کے نام سے کافی شہرت پاچکا تھا۔

ابوداؤد اسپین اور غرناطہ کے حوالے سے مسلمانوں کی صفوں کا ایک ایسا منفی کردار تھا جس نے مسلمانوں کو اپنی سازشوں سے بہت نقصان پہنچایا۔ محمد یوسف نے ایک غدار اور سازشی کا کردار جس کامیابی سے نبھایا، سچ مچ کمال کردیا۔ کسی عیار اور مکار شخص کے کردار کی ایسی اداکاری کہ جس پر حقیقت کا گمان ہونے لگتا۔


میں نے یوسف بھائی کو خوش آمدید کہا اور ان سے بیٹھنے کو کہا۔
یوسف بھائی بیٹھتے ہی کہنے لگے ”سلیم میاں تم سے ایک کام آن پڑا ہے اور یہ کام ابھی کرنا ہے۔“
جی حکم کیجئے… میں نے کہا۔
یوسف بھائی نے بتایا کہ شاہین کی تمام اقساط آن ایئر ہوچکیں، اب اس تاریخی ڈرامے کے حوالے سے ایک تعارفی پروگرام آج رات کو ریکارڈ ہورہا ہے، مجھ سے کہا گیا ہے کہ میں اس سیریل کی بابت اور اپنے مخصوص کردار کے حوالے سے کچھ گفتگو کروں… مگر میری سمجھ میں نہیں آرہا کہ میں کیا کہوں؟ یہ کہتے کہتے پہلے تو ان کی آواز بھر ائی… پھر آنکھوں سے کچھ آنسو ٹپکے اور پھر یوسف بھائی نے ہچکیوں کے ساتھ رونا شروع کردیا۔


یہ بھی پڑھیں


میری پریشانی کا کچھ نہ پوچھیں، میں انہیں چپ بھی کروارہا تھا اور بار بار پوچھ بھی رہا تھا کہ ”یہ اچانک آپ کو ہوا کیا؟ بات کرتے کرتے رونا کیوں شروع کردیا؟“

مگر یوسف بھائی دیر تک کچھ بھی نہ کہہ سکے۔خدا خدا کرکے ان کے آنسو تھمے اور انہوں نے کہنا شروع کیا۔
”میں ابوداؤد کا کردار لے کر ذلیل ہوگیا، کہیں کا نہیں رہا، جہاں سے گذرتا ہوں گالیاں پڑتی ہیں۔ کل مجھ پر کچھ لوگوں نے چھلکے پھینکے، بہت بُرے ناموں سے مخاطب کیا، میری عزت گویا خاک میں مل کے رہ گئی۔ گلی سے گزرنا، بازار جانا مشکل ہوگیا ہے۔“یہ کہتے کہتے وہ ایک بار پھر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔

میں نے انہیں چپ کروایا اور کہا کہ ”یوسف بھائی! آپ نے تو اپنا مسئلہ خود ہی حل کردیا۔ یہ سب کچھ جو آپ نے میرے سامنے کیا اور کہا اگر یہی سب کچھ اس پروگرام میں بھی کہہ دیں تو آپ ایک بار پھر best performerہوجائیں گے۔“

ہم نے دیر تک باتیں کیں اور مجھ سے جو کچھ ممکن ہوا، ان سے کہہ دیا…. لیکن بات یہاں ختم نہیں ہوئی، بات تو یہاں سے شروع ہوتی ہے۔ زرا غور کیجئے… یہ وہ دور ہے جب پی ٹی وی کے علاوہ کوئی اورٹی وی چینل نہ تھا۔ سوشل میڈیا کا تو دور دور تک کوئی وجود نہ تھا۔ اکلوتا چینل ہونے کی وجہ سے پی ٹی وی ملک کے طول و عرض میں خوب دیکھا جاتا۔ان دنوں ڈرامہ سیریل تو مقبولیت کے آسمانوں پر ٹنگے رہتے تھے۔

تاریخی ڈرامہ سیریل”شاہین“ نے شہرت کے نئے ریکارڈ بنائے مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ محض 26 ہفتوں کے اندر اس کا کوئی کردار اس قدر قابل نفرت کیسے ہوجاتا ہے کہ عام زندگی میں اس شخص کاجینا دوبھر ہوجائے۔

محمد یوسف نہایت نیک، شریف النفس، محبت کرنے والے اور نہایت عاجز انسان تھے مگر وہ جہاں سے گذرتے انہیں برے لہجوں، برے القابات اور دشنام طرازیوں کا سامنا کرنا پڑتا؟ یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ ایک غیر حقیقی کردار تھا۔یہ سب کچھ تو محض اداکاری تھی،

محمد یوسف حقیقی ابو داؤد نہ تھے مگر پھر بھی انہیں ہر جگہ ایسی شدید نفرت کا سامنا کرنا پڑتا جیسا کہ فی زمانہ ہماری آنکھوں کے سامنے سیاست کے افق پر کچھ لوگوں کو کرنا پڑ رہا ہے۔

آج میڈیا کس قدر طاقت ور ہے، ان گنت طلسماتی چینل، سوشل میڈیا کا بے لگام گھوڑا، نادیدہ قوتوں کی پس پردہ موجودگی، غیر ملکی فنڈنگ اور ٹیکنالوجی ایکسپرٹس کے علاوہ حکمت عملی مرتب کرنے والے ماہرین جب یک جا ہوجاتے ہیں تو کیسا حشر اٹھا دیتے ہیں۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ میڈیا جادو ہے جو اپنے اندر ہپناٹائز کرنے کی بھرپور قوت رکھتا ہے۔ پروپگینڈہ اس جادو کا سب سے مؤ ثر ہتھیار ہے….

آپ یقین کریں کہ میڈیا کا جادو سحر سامری سے کہیں بڑا اور مؤثر ہے۔ اس کے ڈسے ہوئے لوگ رشتوں کا احترام بھول جاتے ہیں، اس کے سحر میں آئے ہوئے لوگوں کی آنکھوں کا پانی مرجاتا ہے، میڈیا چاہے تو پاکیزہ ذہنوں کو غلیظ اور میٹھی زبانوں کو ترش بنا دیتا ہے۔

سانپ کا ڈسا تو شائد پانی مانگ لے مگر میڈیا کا ڈسا تو ایک سانس کی مہلت بھی نہیں مانگتا۔ نئے عہد کے اس غیر معمولی فتنے کا ادراک کیجئے اور یقین کیجئے کہ میڈیا ہم کو، ہماری قدروں کو، ہمارے تہذیب و تمدن کواور ہمارے آفاقی نظریات کو ڈسنے کے در پہ ہے۔

ہم آئندہ کچھ دنوں تک میڈیا اور پروپگینڈہ کے موضوع پر بات کریں گے اوریہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ دھوکے کی یہ دیوار ہمارے اطراف کس طرح بنا دی جاتی ہے اور مطلوبہ نتائج کامیابی سے کس طرح حاصل ہوجاتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Translate »