صائمہ بنت خیبر زمان ، جامعہ ام حبیبہ للبنات اسلام آبا

بات کرنے کا حسین طور طریقہ سیکھا
ہم نے اردو کے بہانے سے سلیقہ سیکھا

ہر قوم کو کسی نہ کسی شناخت کی ضرورت ہوتی ہے ۔زبان ہر قوم کی شناخت کا سب سے بڑا نشان ہے ۔اردو ہماری قومی زبان ہے۔ہماری پہچان ہماری شناخت ہماری قومی زبان اردو ہے ۔
معنی و مطلب :
اردو زبان لشکری زبان ہے ۔یہ کئی زبانوں کو ملا کر بنائی گئی ہے ۔ترکی میں موجود ایک شہر کا نام اردو ہے ۔لفظ “اردو ” ترک زبان کے لفظ “اوردو ” سے نکلا ہے ۔اس کا معنی “لشکری ،فوجی ” کے ہیں ۔
اردو کی ابتداء: _
ترک زبان کے کچھ ہی الفاظ اردو زبان میں بولے جاتے ہیں ۔کیوں سلطنت عثمانیہ میں اس شہر کو “اوردو “کا نام دیا گیا تھا جس میں حکومت کے فوجی آباد تھے ۔اور یہ ایک ایسی زبان بولتے تھے جو مختلف زبانوں کا مجموعہ تھی ۔جن میں فارسی ،عربی ،سنسکرت ،ہندی ،ترکی اور کچھ مزید زبانیں شامل تھیں ۔اردو کی ابتداء یہیں سے ہوئی اور پھر آہستہ آہستہ پوری دنیا میں پھیل گئی ۔

یہ بھی پڑھیں

 

اردو زبان کی ضرورت و اہمیت

اردو یوں ہی ایسی شیریں ،وسیع اور علمی و ادبی زبان نہیں بن گئی اس نے بہت سی مصیبتیں جھیلی ہیں ۔کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے یہ ضروری ہوتا ہے کہ اس ملک میں اس کی قومی زبان کو اہمیت دی جائے ۔جتنے بھی ترقی یافتہ ممالک ہیں انہوں نے ہمیشہ اپنی زبان میں ہی ترقی کی ۔اگر امریکہ کی بات کی جائے تو انہوں نے اپنی زبان کی بدولت پوری دنیا پر قبضہ کیا ہوا ہے ۔

ہماری قوم کی بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے اپنی قومی زبان بولنا سمجھنا اور سیکھنا چھوڑ دی ہے ۔ اردو زبان زوال کا شکار ہے ۔ انگریزی کو اردو پر فوقیت دینا شروع کر دی ہے ۔بچوں کو انگلش میڈیم اسکولوں میں بھیج کر ہم مطمئن رہتے ہیں کہ بچے تہذیب یافتہ بنیں گے اور تہذیب سیکھیں گے ۔

آج کل کے دور میں ہر شخص کے لیے انگریزی بولنا ضرورت ہی نہیں بلکہ مجبوری بن گیا ہے جو شخص انگریزی بول لیتا ہے وہی مہذب کہلاتا ہے ۔ ہمارے دفاتر میں بھی انگریزی زبان ہی بولی اور سمجھی جاتی ہے اردو بولنے والے کو حقیر اور جاہل سمجھا جاتا ہے ۔اور آج کی نوجوان نسل اردو بولنے کو اپنی توہین اور بے عزتی سمجھتی ہے ۔
اردو وہ زبان جس کے فروغ کے لیے سرسید احمد خان نے دن رات محنت کی جس زبان نے ہمیں علامہ اقبال جیسا عظیم شاعر دیا وہی زبان اپنی اہمیت کھوتی جا رہی ہے ۔ہر ملک کی میں اس کی زبان کو سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہوتا ہے ۔لیکن ہمارے ملک میں اردو سے زیادہ انگریزی کو اہمیت دی جاتی ہے اور سرکاری زبان کے طور پر بولا جاتا ہے ۔

اس وقت اشد ضرورت یہ ہے کہ ہم اپنی قومی زبان کو فروغ دیں اسے سیکھیں ،سمجھیں گھروں میں بچوں سے نگریزی کے بجائے اردو بولیں ،خط و کتابت اردو میں کریں تاکہ یہ زبان زندہ رہ سکے ۔ انگریزی سیکھنے میں بھی کوئی ہرج نہیں مگر ہمیں اپنی قومی زبان سیکھنے، سمجھنے اور بولنے میں بھی شرم محسوس نہیں کرنی چاہیے ۔ کیوں کہ دراصل یہی زبان ہر پاکستانی کا کل اثاثہ ہے ۔

بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے 1948 میں ایک جلسہ عام میں کہا کہ !
“میں واضح الفاظ میں بتا دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان کی قومی زبان اردو صرف اردو ہی ہو گی ۔جو شخص آپ کو اس سلسلے میں غلط راستے پر ڈالنے کی کوشش کرے وہ پاکستان کا پکا دشمن ہے ۔ ایک مشترکہ زبان کے بغیر کوئی قوم نہ تو پوری طرح متحد رہ سکتی ہے ۔ اور نہ ہی کوئی کام کر سکتی ہے

“۔چینی صدر کے سامنے جب انگریزی زبان میں سپاس نامہ پیش کیا گیا تو انہوں نے جواب میں ایسا جملہ بولا جو کہ ضرب المثل کی حیثیت اختیار کر گیا ۔ان کے الفاظ تھے کہ
“چین ابھی گونگا نہیں ہوا “

اب اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ حکومت ،میڈیا ،اور عوام کا باشعور طبقہ قومی زبان کی اہمیت کا ادراک کریں ۔اسے زندہ رکھنے اور اس کا اصل مقام دلانے کی مخلصانہ کوشش کریں ۔لیکن میڈیا اور قوم کے بااثر اداروں کو اردو کے تحفظ کے لیے بھر پور کردار ادا کرنا چاہیے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Translate »