Join Our Membership

Advertisement Section
Read Time:4 Minute, 43 Second
اورنگزیب خان ۔ مسلم باغ کوئٹہ

پاکستان میں قومی زبان کے نفاذ کی اہمیت و ضرورت

فرماتے ہیں کہ ‘اگر کسی قوم کو تباہ کرنا ہو تو اسکی زبان کو تباہ کر دو,وہ قوم خود ہی تباہ ہوجاے گی۔
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ ملک و قوم کی بقااِسکی قومی زبان میں ہے۔ اور ملک و قوم کی معاشی, صنعتی اور سماجی ترقی کا دارومدار بھی قومی زبان میں ہے۔ دنیا کے بہت سے ممالک میں تعلیمی نظام انکی اپنی زبان میں ہیں۔ ترقی یافتہ قومیں وہی ہیں جنہوں نے اپنی زبان میں تعلیم حاصل کی, کیونکہ قومی زبان کے بغیر ترقی کا تصور ممکن نہیں۔

اغیار کی زبان سکھانا, سمجھانا خود سیکھنا, سمجھنا الگ تعلیم اور اضافی بوجھ ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں مسلہ یہ ہے کہ ہم اپنے گھروں کے اندر بچوں کو اپنی مادری زبان سھکاتے ہیں, جو ایک نہیں یعنی بلوچستان میں بلوچی, براہوی , پشتو کے علاوہ دوسری زبانے بچوں کہ سھکاتے ہیں۔ جبکہ اردو ہمارا ایک مشترکہ قومی زبان ہےباباے قوم نے فرمایا کہ پاکستان کی قومی زبان اردو اور صرف اردو ہے۔

امہ حال یہ کہ باباے قوم نے ہمیں ایک سنہرا پیغام دیا لیکن اردو سے سوتیلی ماں کا سلوک کر کے کیا ہم اپنے قاید کو بھولے تو نہیں, کیا ہم نے انکی قربانیوں سے انحراف تو نہیں کیا, یقینا ہم نے کیا ہے۔ اسی لیے ہم ترقی کی بجاے تنزل پذیر ہیں۔ اسی لیے ہم مجبور ہے کہ اغیار کی تقلید کر رہے ہیں ہم اپنے مقصد سے دور ہوتے جارہے ہیں۔جسطرح چین, جاپان, جرمنی اور روس سمیت دنیا کے بہت سے ممالک نے قومی زبان میں تعلیم کو فروغ بخش کر اپنی قوموں کیلے ترقی کے دروازے کھول دیے۔ اسی طرح ہمیں بھی چاہیے کہ اردو کو نافذ کر کے ترقی کی طرف میلان کریں۔
پاکستان کی وجود کا پہلا مقصد اگر مذہب تھا تو دوسرا مقصد اردو زبان تھی۔پاکستان میں قومی زبان اردو کی سخت ضرورت ہے اسکی نفاذ کی ضرورت ہے, جوانانِ نسل کو اردو زبان کی اہمیت سمجھانے کی ضرورت ہے, کیونکہ ایک چمپین بننے کیلے جسطرح آپ نے خود پر یقین رکھنا ہوتا ہے اسی طرح ترقی کرنے کیلے ہم نے اپنی قومی زبان اردو کو نافذ کرنا ہوگا۔ یاد رکھیں کسی قوم کا کمال یہ نہیں کہ وہ نہ گِرے بلکہ کمال تو یہ ہے کہ وہ گِرے اور اٹھ جاے۔ ”ایک قوم کا فیصلہ اس قوم کی منزل کا تعین کرتا ہے“ کیونکہ فیصلہ کامیابی اور ناکمی دونوں پر نظر انداز ہوتا ہے۔

کیونکہ اگر ہم آج ملک میں اردو نافذ کرنے کا فیصلہ کرے تو ہم کامیابی سے ہمکنار ہوسکتے ہیں۔ اس دنیا میں نہ وہ قوم کامیاب ہوتی ہے جو طاقتور ہو , نہ وہ قوم جو ذہین ہو بلکہ وہ قوم کامیاب ہوتی ہے جو اپنے قاید کے افکار پر عمل کرتی ہے۔ اردو ہی ہماری قومی زبان ہے یہ فکر ہمارے قاید نے ہمیں ٧٢ سال پہلے دی تھی لیکن ہم اردو کو نافذ نہ کر کے اپنی قوم کے مسقبل کو خراب کر رہے ہیں۔ لوگوں کی اکثریت یہ تو جانتی ہے کہ وہ کس طرح کامیاب ہو سکتے ہیں لیکن ان میں سے چند لوگ ہی جان پاتے ہیں کہ کامیابی حاصل کرنے کیلے کون کونسی اقدامات ضروری ہےاور یادرکھیں کامیابی کی طرف پہلا قدم اردو زبان کا نفاذ ہوگا۔

خواب دیکھنا بہت آسان ہے لیکن خوابوں کو عملی جامہ پہنانا بہت مشکل ہے۔ بولنے میں تو ہم زمین وآسمان کی قلابیں ملاتے ہیں لیکن ہماری عملی اقدامات کا نتیجہ تو صفر سے بھی نیچے ہے۔ اور میں آپکو بتاتا چلوں کہ ایک غیر مسلم جب جج بن جاتا ہے تو وہ یہ فیصلہ کرتا ہے کہ اردو کے نفاذ پر فیصلہ سپریم کورٹ سے صادر کرتا ہے۔ ہم اس قدر گِرگے ہیں کہ ہم اپنے عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے پر بھی عمل نہیں کر سکتے۔ کیا یہ سراسر ظلم نیہں کیا یہ توہین عدالت نہیں کیا یہ غداری نہیں۔ سوچنا پڑے گا کہ ہم اپنے ملک وملت سے اپنی آنے والے نسلوں سے کتنے مخلص ہیں۔
ایک قوم اپنے مثبت احساسات کی کی مدد سے ہی اپنے لیے ایک شاندار مستقبل کا بنیاد رکھ سکتی ہے۔ اور پھر اسی مستقبل ک کی تعاقب میں اہک دن منزل کو پہنچ جاتی ہے۔ اور اسی قسم کے متبت احساسات کی بنیاد پر ہم نے اس ملک کیلے اپنی آنے والی نسلوں کے لیے اردو زبان کی نفاذ کو اہمیت دینی ہوگی۔ اپنی زبان کی ناقدری بہت خطرناک چیز ہے جو ایک قوم کو ناکامی کی منہ میں دھکیل دیتی ہے کیونکہ اپنی زبان جو مٹھاس ہے جو اخلاقی تبصرے اپنی زبان میں کیے جا سکتے ہیں وہ کسی دوسری زبان میں ممکن نہیں۔

اردو زبان میں تو پوری پاکستانی قوم کی روح موجود ہے کیونکہ یہ پاکستان کی دہاتوں اور شہروں میں وسیع پیمانے پر بولی اور سمجھی جاتی اور یہی ایک زبان کے جس کے ذریعے سب ایک دوسرے کے احساسات کو سمجھ سکتے ہیں۔
آجکےدورمیں اپنی قومی زبان "اردو” کوزندہ رکھنےاور اسے بگڑنے سے بچانے کے لئے نہایت ضروری ہے کہا سکی محبت اورعزت کا جذبہ نئی نسل کے دلوں میں پیدا کیا جائے۔ ابتدائی جماعتوں میں ہے اردو زبان دانی کا معیار بلند کیا جائے، اسکا شعور پیدا کیا جائے، اردو سکھائی جائے اور اسے ذریعہ تعلیم بنایا جائے۔ نئی نسل کو باورکرایا جائےکہ دین ا سلام کے بعد اگر کوئی چیز وطن عزیز پاکستان کی سالمیت کو برقرار رکھ سکتی ہے تو وہ ہماری قومی زبان اردو ہی ہے۔اللہ ہمیں توفیق دے کہ اپنی قومی زبان کی نفاذ میں اہم کردار ادا کرے اور آنے والی نسلوں کو یہ باور کروائیں کہ اردو کو اپنا کر ہی ترقی سے ہمکنار ہوسکتے ہیں

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Previous post ردیئنہ عبدالخالق جماعت: دہم-اسلامیہ انگلش سکول ابو ظبی’متحد عرب امارات
Next post ہریپورمیں چوری شدہ 2 ہزار سال قدیم بدھا مجسمہ برآمد ،ملزم گرفتار
Translate »