مزمل فاطمہ ، جماعت دہم ، گورنمنٹ گرلز ہائی سکول بدوکی گوسائیاں گوجرانوالہ

زبان کا بلاواسطہ تعلق تہذیب و تمدن کے ساتھ ہوتا ہے۔ کسی زبان کو اپنانے کا مطلب اس زبان سے وابستہ تہذیب و تمدن کو اپنانا ہے۔ تاہم یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ زبان سیکھنا اور زبا ن کو اپنانا دو مختلف چیزیں ہیں۔کسی زبان کو بطور زبان یا بطور علم سیکھنے میں کوئی قباحت نہیں

تاہم اسے قومی زبان کی جگہ دینا اوراپنا اوڑھنا بچھونا بنا لینا نقصان دہ ہے۔ زندہ قومیں اپنی زبان کو زندہ رکھتی اور اس پہ فخر کرتی ہیں۔ترقی یافتہ ممالک اپنی زبان پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرتے۔ چین کی ہی مثال لیجیے جہاں آج بھی غیر ملکی طلبہ کا گزارا چینی زبان سیکھے بغیر نہیں ہوسکتا۔

قومی زبان کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتی ہے اور وطن عزیز پاکستان کا اثاثہ اردو زبان ہے۔یوں تو پاکستان کے وجود میں آتے ہی اردو کو بھی پاکستان میں بطور قو می زبان نافذ ہو جانا چاہیے تھااور کاغذوں میں اس کا اعلان بھی کردیا گیا لیکن یہ اعلان محض کاغذوں تک ہی محدود رہا۔اسے عملی طور پر ابھی تک نافذ نہیں کیا جا سکا۔

قومی زبان کا نفاذ قوم کی کتنی بڑی ضرورت ہے اس کا اندازہ لگانے کے لیے چند اہم نکات پہ غور کیا جا سکتا ہے۔ کسی قوم کی ترقی کا ابتدائی تعلق اس کے تعلیمی میدان سے ہے۔لیکن ہمارے ہاں محکمہ تعلیم اور نصاب کو انگریزی نے اپنا غلام بنالیا ہے جس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ تعلیم میں جو وقت علم کے حصول اور تحقیق پہ لگنا چاہئیے تھا وہ ایک ایسی زبان کو سیکھنے میں لگ گیا جسے سیکھ کر محض ہنس کی چال چلنے والے کووں کی تعداد بڑھی ہے۔

اس کی جگہ اگر محکمہ تعلیم اور خصوصاََ نصاب کو قومی زبان میں کردیا جائے تو نہ صرف تعلیمی معیار میں بہتری آئے گی بلکہ یکسا ں تعلیمی نصاب کو بھی فروغ ملے گا۔ قومی زبان کی مدد سے سائنسی اور دیگر علوم کو عام عوام تک رسائی مل سکتی ہے۔یوں طلبہ محض ایک زبان اور اس کی گرامر سیکھنے کے بجائے اصل علم کو سیکھنے میں اپنا وقت لگاسکتے ہیں۔


یہ بھی پڑھیں


قومی زبان کے نفاذ کی ضرورت نہ صرف طلبہ اور تعلیم کے لیے اہم ہے بلکہ عام عوام کے لیے بھی ملک کے بڑے اداروں، انتظامیہ اور حکومت سے رابطے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ بدقسمتی سے ملکی اداروں میں قومی زبان، دفتری طور پر رائج نہ ہونے کی وجہ سے بہت سی اہم معلومات، قوانین اور اصول و ضوابط عام لوگوں تک پہنچ ہی نہیں پاتے۔

عدلیہ کو ہی لیجیے تو اس کے تمام قوانین اور ضابطے کی دیگر کاروائیاں قومی زبان کے بجائے انگریزی میں پیش کی جاتی ہیں جس سے ایک سادہ لوح ان پڑھ آدمی انجان ہوتا ہے اور وہ قوانین سے ناواقفیت کی وجہ سے اپنے حقوق سے بھی انجان رہتا ہے۔

ملک کے تمام بڑے اداروں میں کسی بھی کام کے لیے درخواست جمع کروانی ہو تو وہ بھی انگریزی میں لکھنے کا چلن عام ہے۔ عوام نہ تو اپنا مدعا وہاں آسانی سے پہنچا سکتے ہیں نہ ہی وہاں کی کاروائی کے طریقہ کار کو سمجھ پاتے ہیں۔ قومی زبان کا نفاذ عوام اور خواص میں رابطے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اس سے دو طرفہ تعلق میں آسانی پیدا ہوسکتی ہے۔

پاکستان میں قومی زبان اردو کا نفاذ اس لیے بھی انتہائی اہم ہے کہ ہمارے معاشرے میں قومی زبان کے حوالے سے ایک ایسا احساسِ کمتری پیدا ہو چکا ہے جو نوجوان نسل کی سوچوں کو دیمک کی طرح کھائے جارہا ہے۔اردو سے ناواقفیت بجائے اس کے کہ شرم کی بات ہوتی، ایک سٹیٹس کی علامت اور فخر کا ذریعہ بن چکا ہے۔

اس میں ایک ہاتھ ہمارے ایسے تعلیمی اداروں کا بھی ہے جو ”انگریزی میڈیم“ کا بورڈ ایک احساسِ برتری کے طور پہ لگا تے ہیں اور جہاں اردو کی ترویج تو کیا کی جاتی، اردو بولنے پہ جرمانہ کیا جاتا ہے۔ یہ رویہ بچوں کے ذہنوں میں قومی اور مادری زبان کے حوالے سے احساسِ کمتری کو پروان چڑھارہا ہے۔ اسے اگر بروقت نہ روکا گیا تو نئی نسل کی ایک ایسی کھیپ تیار ہوگی جو اپنی تہذیب و تمدن سے دور ایک غیر تہذیب کی ذہنی غلام ہوگی۔

داغستان کے شاعر رسول حمزہ توف

نے کہا تھا کہ ”ہمارے ہاں اگر کسی کو بددعا دینی مقصود ہو تو اسے کہا جاتا ہے جا تو اپنی مادری زبان بھول جا۔“ گویا مادری اور قومی زبان کو ترک کردینا ایک ایسا طعنہ ہے جو زندہ قوموں کی غیرت پہ تازیانے کی طرح لگتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم قومی زبان کو نہ صرف فخر کا ذریعہ بنائیں بلکہ اس کے نفاذ کے لیے بھی انفادی و اجتماعی طور پر حتی الامکان کوشش کریں۔ٍ

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Translate »