مسرت اللہ جان

سرکار کے مال پر کس کا دل دکھتا ہے صرف ان لوگوں کا جن کے جیبوں سے ٹیکسوں کی بھر مار ہوتی ہیں، ہاں ان لوگوں کو کچھ نہیں ہوتا جو ٹیکس کی مد میں وصول ہونیوالی یہ ساری رقمیں تنخواہوں کی مد میں لے جاتے ہیں.اب تو یہ ہمارے معاشرے میں یہ چلن عام ہوگیا ہے کہ اگر کسی کو کسی غلط بات پر ٹوکا جائے تو اوپر سے بدمعاشی ہوتی ہے اور اگر کچھ نہ ہو تو پھر کہا جاتا ہے ” مڑہ پریگدہ پاکستان دے” ، یعنی چھوڑ دو یہ پاکستان ہے ، یعنی پاکستان میں ٹھیک کام ہونا ہی نہیں اور غلط کام کرنا یہاں پر رواج ہی ہے.

ہم دوسروں کو ٹھیک کرنے کے چکر میں اپنے آپ کو بھول جاتے ہیں. آخر ہم بھی اسی معاشرے کا حصہ ہے ، اگر ہم ٹھیک ہونگے تو ہمارا گھر ٹھیک ہوگا ، محلہ ٹھیک ہوگا ، علاقہ ٹھیک ہوگا اور پھر یہی سلسلہ سوسائٹی اور ملک تک پہنچے گا ،

مگر یہاں پر جب ہماری باری آتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ دوسرا بھی یہ کررہا ہے مجھے کیا ضرورت ہے وہ ٹھیک ہوگا تو ہم ٹھیک ہونگے.ٹھیک ہم کب ہونگے جب ہم ہمارے اداروں خصوصا کھیلوں سے وابستہ اداروں میں غلط کام ٹھیک کرنے کے نام پر ہوتا ہو اور اس میں سب ملے ہوئے ہوں کوئی مذہب کی آڑ لیکر دکانداری کررہا ہے کوئی علاقے کی وابستگی اور رشتہ داریوں کو استعمال کرکے اپنے آپ کو ان کرنے کے چکروں میں ہیں اور کوئی ” بڑے بڑے افسران”کے آگے پیچھے ہو کر اپنے آپ کو قانون کے مطابق کروانے کے چکر میں لگا ہوا ہے.

اتنی لمبی تمہید پشاور سپورٹس بورڈ اینڈ کوچنگ سنٹر جو کہ وفاق کے زیر انتظام ادارہ ہے اور اس کابنیادی کام کھلاڑیوں کو سہولیات کی فراہمی ہے تاہم ابھی یہ ادارہ اپنا اصلی کام چھوڑ کر صرف رقم پیدا کرنے کے چکروں میں مصروف عمل ہیں .


یہ بھی پڑھیں


خیبر پختونخواہ سے تعلق رکھنے والی شخصیت کی بطور ڈائریکٹر جنرل آمد پراس بات کااظہار کیا گیاکہ ملک میں کھیلوں کا نظام بہتر ہوگا لیکن ٹھیک کرنے کے چکر میں اس ادارے میں سالہا سال سے بیٹھے مافیا رہے سہے نظام کو بھی برباد کرنے کے چکر میں مصروف عمل ہے.

حال ہی میں کئے جانیوالے تبادلوں کاسلسلہ اس ادارے میں شروع کیا گیا اور یہ ظاہر کیا گیا کہ ادارے کے بہترین مفاد میں یہ اقدام اٹھایا جارہاہے . بہترین مفاد کس کا ہوا ؟ یہ تو سب کو پتہ ہے لیکن ڈائریکٹر جنرل آصف زمان کے حکم پر ہونیوالے ان تبادلوں کے بعد پی ایس بی کوچنگ اینڈ ٹریننگ سنٹر پشاور کا حال کیا ہوا ، اس کا ذکر کون کرے گا؟

تبادلوں کے بعد پشاور سنٹر میں آنیوالے ایسے صاحب بھی دیکھے گئے ہیں کہ ہفتے میں صرف ایک دن ان کی حاضری ہوتی ہے باقی مینوئل طریقے سے حاضری ہونے کی وجہ سے ان کی حاضری سٹاف لگا رہا ہے کیونکہ ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ نہیں اور انگوٹھے لگانے کا کوئی تصور نہیں اس لئے اسلام آباد سے آنیوالے ایک صاحب ہفتے میں ایک دن حاضری لگاتے ہیں اور پھر پورا ہفتہ غائب رہتے ہیں اور پشاور کا سٹاف ان کی حاضری لگاتا ہے

چونکہ صاحب کا تعلق پنجاب` یعنی بڑے بھائی سے ہے اس لئے ان پر کوئی قانون لاگر نہیں ہوتا ، ہاں کبھی کبھار چالیس روپے میں ملنے والے درجن مالٹوں کی بوریاں پی ایس بی پشاور کوچنگ سنٹر میں آجاتی ہیں اور تمام اہلکار درجن بھر مالٹے کھا کر اور گھروں کو لے جا کر”الحمد اللہ “کہتے ہوئے نہیں تھکتے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ مالٹوں پر ان کا حق ہے جبکہ مالٹے لانے والے شخص یہ سمجھتے ہیں کہ حرام خوری کی عادت رکھنے والے ان اہلکاروں کو اگر دو سو روپے کے مالٹے کھلائے جائیں تو پھر کوئی بھی نہیں پوچھے گا کہ اسلام آباد سے آنیوالا شخص کتنی ڈیوٹی کررہا ہے.

اور یہ ڈائریکٹر جنرل آصف زمان کے اپنے علاقے پشاور میں ہورہا ہے . جس میں پشاور کا بیشتر سٹاف ملا ہوا ہے.ایسے میںبہترین مفاد کیا ہوگا. یہ صرف پشاور کے پی ایس بی اینڈ کوچنگ سنٹر کا حال ہے ملک کے دوسرے سنٹروں کا کیا حال ہوگا ، یہ اللہ ہی بہتر جانے. ہاں غریب عوام پر ٹیکس پر ٹیکس لگائے جارہے ہیں اور ان حرام خوروں کی تنخواہیں ادا کی جارہی ہیں، کوئی یہ پوچھنے کی جرات نہیں کرتا کہ اگر کوئی شخص ڈیوٹی نہیں کرتا تو پھر تنخواہ کس چیز کی لے رہا ہے .

اندھے قانون کی اور کیامثال ہوگی کہ پی ایس بی پشاور کوچنگ سنٹر پر آٹھ کروڑ روپے سے زائد کی رقم خرچ کی جارہی ہیں لیکن اس کا گذشتہ دس سالوں کا ریکارڈ دیکھا جائے کہ اس نے آخر کون سے کھلاڑی پیدا کئے ہیں ، سرکاری کی سوزوکی کھڑے کھڑے خراب ہورہی ہیں لیکن ان کی مینٹیننس اور اخراجات آرہے ہیں ،

ہاسٹل اور دیگر سہولیات کیلئے رقمیں صوبائی سپورٹس ڈائریکٹریٹ سے یہ کہہ کر کیش اور ذاتی اکاﺅنٹس میں لی جاتی ہیں کہ پی ایس بی کا اکاﺅنٹ بند ہے ، جبکہ مزے کی بات یہ ہے کہ کوئی ریکارڈ دیکھنے کی زحمت بھی نہیں کرتا کہ اکاﺅنٹ کب سے بند ہے ، کہاں پر ہے اور اگر بند بھی ہے تو کیا اسلام آباد کا اکاﺅنٹ بھی بند ہے ،

براہ راست رقوم کی وصولی کا معاملہ کیا ہے ؟

سرکار کا اکاﺅنٹ بند نہیں ہوتا ، لیکن چونکہ رقم نکالنا مسئلہ ہوتا ہے اس لئے سرکار کے وضع کردہ جنرل فنانشل رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے براہ راست رقمیں وصول کی گئی اس بارے میں رپورٹ بھی ہوئی لیکن پوچھنے گا کون ، کیونکہ پوچھنے والے بھی ملے ہوئے ہیں.کارخانو مارکیٹ کے کمبل ، ہیٹر اور پشاور کی کالی چائے میں بڑا زور ہوتا ہے .

ایک اہم بات پوچھنے کی ہے جو کہ صوبائی سپورٹس ڈائریکٹریٹ سے ماہانہ دس ہزار روپے وظیفہ حاصل کرنے والے سینکڑوں کھلاڑی پوچھ رہے ہیں کہ صوبائی حکومت نے کھلاڑیوں کیلئے وظیفہ دینے کاسلسلہ شروع کیا تھا اور گذشتہ چار ماہ سے ان کے وظائف بند ہیں انہیں وہ کب ملیں گے کیونکہ ان وظائف کی بندش سے ان کھلاڑیوں کو مشکلات کاسامنا ہے ،

آسان اسائمنٹ اکاونٹ کب کھولے گایہ وہ سوال ہے جوسینکڑوں کھلاڑی روزانہ پوچھ رہے ہیں لیکن ان کا جواب کوئی نہیں دے رہا حالانکہ سپورٹس ڈائریکٹریٹ کے اکاﺅنٹس میں بڑے بڑے لوگ بیٹھے ہیں جن میں مستقل اور ڈیلی ویجر ملازم بھی ہیں لیکن وہ بھی “ہو جائیگا” اورسپورٹس ڈائریکٹریٹ کے افسران بھی “لارا لپا” کھلاڑیوں کو لگارہے ہیں اور کھلاڑی دل برداشتہ ہورہے ہیں

کیونکہ ان میں ایسے کھلاڑی بھی ہیں بھی جو اپنے تعلیمی اخراجات کیلئے باہر مزدوری کرتے تھے اور وظیفے سے ان کے اخراجات کسی طرح کم ہوگئے تھے اب اس کی بندش نے ان بچوں کو ایک مرتبہ اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ وہ کھیلوں کے میدان چھوڑ کر دوبارہ مزدوری کرنے پر لگ جائیں گے.اور پھر کھیلوں کے میدان آباد کرنے کے دعویداروں کے دعوے بھی خاک میں مل جائینگے..

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Translate »