زمرہ دوم ، موضوع : قائد اعظم کا تصور قومی زبان
منیبہ اسحاق

تاریخ کی عظیم شخصیات میں ایسے لوگ بھی گزرے ہیں جنہوں نے قیادت کا اپنا ایک خاص رنگ ڈھنگ اور اپنی خاص روایات خود پیدا کیں۔ ان شخصیات کے خصوصی ذہن و فہم کی جو جھلکیاں ہمارے سامنے ہیں۔ قائد اعظم محمد علی جناح بھی اسی قسم کے قایدین میں سے تھے آپ مسلمانان برصغیر کے لیئے ایک نعمت عظمیٰ کی حسین شکل تھے۔ آپ نے مملکت خدادا کے ہر اہم معاملے پر بڑا واضح موقف اختیار کیا جیسے پاکستان کو اسلامی جمہوری ریاست قرار دیا اسی طرح پاکستان کی قومی زبان بارے واشگاف الفاظ میں مسلم لیگ کونسل اور پھر پہلی قانون ساز اسمبلی کے فیصلوں کے مطابق اردو کو قومی زبان بنانے پر زور دیا۔

ترویج دے رہا ہے جو اردو زبان کو
بے شک وہ باغباں ہے اردو زبان کا
قائد اعظم محمد علی جناح دور اندیش انسان تھے انہوں نے دو ٹوک انداز میں اردو زبان کی قومی اور سرکاری اہمیت کو سمجھا اور اسے اس کا جائز مقام دینے اور اس کی افادیت کو تسلیم کرنے کے احکامات جاری کیئے انہوں نے اردو زبان کے شاندار ماضی کو بھی خراج تحسین پیش کیا اور مستقبل میں اس زبان کے فکری اور معنوی پھیلاؤ کو اپنی چشم تصور سے ملاحظہ کرتے ہوئے اسے پاکستان کی یگانگت اور یکجہتی کی علامت قرار دیا
تہذیب کی عکاسی ہے اردو زبان
تاریخ کی غمازی ہے اردو زبان


یہ مضمون آپ مصنف کی آواز میں بھی سن سکتے ہیں

ہندوستان کے تاریخی پس منظر میں بحیثیت زبان اردو کا جائزہ لیا جائے بلکہ یہ دیکھا جائے کہ اردو دشمنی نے کس طرح متحدہ ہندوستان کے مسلمانوں کو ایک علیحدہ مسلم ریاست کے قیام کے لیئے ذہن سازی کی۔ یہ دشمنی ہندی اردو جھگڑے 1867ء کے نام سے موسوم ہے۔ اس جھگڑے کی وجہ سے دو قومی نظریئے کی بنیاد پڑی، جو برصغیر کے مسلمانوں کے ہندوؤں سے علیحدہ تشخص کا نظریہ ہے۔ اس موقع پر اکثر مسلم قائدین اور راہنماؤں مثلاً سرسید احمد خان، شیخ عبدالمجید سندھی، ڈاکٹر علامہ محمد اقبال، مولانا حسرت موہانی، علامہ شبلی نعمانی قائد اعظم محمد علی جناح اور دیگر اکابرین نے ہندی کے مقابلے میں اردو زبان کی حمایت کر کے یہ ثابت کر دیا تھا کہ اردو ہی وہ واحد زبان ہے جو ہند کے ہر علاقے میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔
اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے
قائد اعظم اردو کی تہذیبی اور فکری اہمیت سے آگاہ تھے ان کے نزدیک اردو برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کے مذہبی، فکری، تہذیبی، سیاسی، سماجی اور معاشرتی رویوں کی آئینہ دار تھی۔ انہوں نے مختلف مواقع پر اردو زبان کی اہمیت، افادیت اور اس کی ترویج و اشاعت کے حوالے سے جو ارشادات فرمائے ان میں سے چند فرمودات درج ذیل ہیں قائد اعظم محمد علی جناح کا پہلا بیان 1942ء میں ”پاکستان مسلم انڈیا“ کے دیباچے میں کچھ اس طرح تحریر کیا گیا ہے۔
”پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہو گی“

یہ بھی پڑھیں

قائد اعظم نے 10 اپریل 1942ء کو آل انڈیا مسلم لیگ اجلاس دہلی میں فرمایا
”میں اعلان کرتا ہوں کہ پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہو گی“
تیسرا بیان جسے سرکاری اعتبار سے فرمان کا درجہ حاصل ہے۔ قائد نے 21 مارچ 1948ء کو ڈھاکہ کے جلسہ عام میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ
”میں آپ کو صاف صاف بتا دوں کہ جہاں تک آپ کی بنگالی زبان کا تعلق ہے تو اس افواہ میں کوئی صداقت نہیں کہ آپ کی زندگی پر کوئی غلط یا پریشان کن اثر پڑنے والا ہے۔ اس صوبے کے لوگوں کو حق ہے کہ وہ فیصلہ کریں کہ اس صوبے کی زبان کیا ہو گی لیکن یہ میں آپ کو واضح طور پر بتا دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہو گی اور صرف اردو، اردو کے سوا کوئی اور زبان نہیں۔ جو کوئی آپ کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ پاکستان کا دشمن ہے۔ ایک مشترکہ سرکاری زبان کے بغیر کوئی قوم متحد نہیں ہو سکتی اور نہ کوئی کام کر سکتی ہے۔ دوسرے ملکوں کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیئے۔ پس جہاں تک پاکستان کی سرکاری زبان کا تعلق ہے وہ اردو ہی ہو گی“

چوتھا بیان 24 مارچ 1948ء کا ہے اسے بھی سرکاری اعتبار سے فرمان کا درجہ حاصل ہے جس میں قائد اعظم نے فرمایا
”اگر پاکستان کے مختلف حصوں کو باہم متحد ہو کر ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہونا ہے تو ان کی سرکاری زبان ایک ہی ہو سکتی ہے اور وہ میری ذاتی رائے میں اردو اور صرف اردو ہے“
کسی قوم کی زبان اس کی تہذیب، ثقافت اور اس کی پہچان ہوتی ہے۔ قائد اعظم کے ارشادات کی روشنی میں ہمارے راہنما اردو زبان کے سرکاری اور دفتری سطح پر نفاذ کے لیئے کوشاں ہیں اور قومی زبان میں تعلیم کے فروغ کے لیئے عمل پیرا ہیں ان کے لیئے قومی زبان نہایت اہمیت کی حامل ہے۔
بقول شاعر
دنیا کی بولیوں سے مطلب نہیں ہمیں کچھ
اردو ہے دل ہمارا، اردو ہے جاں ہماری
تاریخ گواہ ہے، دنیا میں وہی قومیں اپنا آپ منوا سکی ہیں جنہوں نے اپنی زبان کو برقرار رکھا۔ جاپان نے شکست کے بعد اپنی زبان اور تعلیمی نظام کو برقرار رکھا اور چالیس سال کے اندر عالمی قوت بن گیا۔ چین نے اپنی قومی زبان میں تعلیم دے کر خود کو عالمی طاقت کے طور پر منوا لیا۔
قائد اعظم کے فرمان کی روشنی میں قومی زبان اردو کے نفاذ کا فیصلہ 1948ء میں کیا گیا تھا اس کے بعد 1956ء اور 1973ء کے دساتیر میں بھی اردو قومی زبان قرار پائی۔ 1973ء کے دستور میں بھی اردو کو قومی اور دفتری زبان قرار دیتے ہوئے اس کی تنفیذ کے لیئے حکومت کو پندرہ سال کی مہلت دی گئی لیکن اب تک اس کے نفاذ پر کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔
ہماری اردو زباں جو فروغ پا نہ سکی
قصور وار ہم اردو زبان والے ہیں

ضرورت اس امر کی ہے کہ اب ہم بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے ارشادات کی روشنی میں اردو زبان کی اہمیت و افادیت کو سمجھیں ہماری ترقی کا ضامن ایک نظام تعلیم ہے اگر ہمارا نظام تعلیم اردو میں رائج نہ ہوا تو ہم دنیا کے کسی میدان میں آسانی سے ترقی ترقی نہ کر پائیں گے۔ اردو زبان کے بغیر ہمارے ملک کے حالات کبھی بہتر نہ ہو سکیں گے۔ اردو کو ترک کرنا گویا اپنے شاندار ماضی سے دستبردار ہونا ہے۔ اس زبان کے بغیر ہماری تاریخ، تہذیب، اور اسلامی روایت کا زندہ رہنا مشکل ہو جائے گا۔
قائد اعظم کو اس بات کا احساس تھا کہ اردو زبان ہی ایک ایسی زبان ہے جو پاکستان میں بسنے والے تمام افراد کی ضرورت پوری کر سکتی ہے۔ یہ ایک ایسی زبان ہے جو پاکستان میں بسنے والے تمام افراد کی ضرورت پورا کر سکتی ہے۔

یہ ایک ایسی زبان ہے جو مختلف زبانوں سے مل کر بنی ہے۔ اگرچہ پاکستان میں مختلف علاقوں کے لوگ اردو زبان سے نہ صرف محبت کرتے ہیں بلکہ آسانی سے سمجھ بھی لیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے اردو کو پاکستان کی قومی زبان قرار دیا۔ آپ جانتے تھے کہ یہی ایک زبان ہے جس سے لوگ نہ صرف محبت کرتے ہیں بلکہ یہی پاکستان کو باہم متحد کر سکتی ہے۔ پاکستان اور آزاد کشمیر کے تمام لوگوں نے اپنی علاقائی زبانوں پر اردو کو فوقیت دی۔ بقول شاعر
ابھی تہذیب کا نوحہ نہ لکھنا
ابھی کچھ لوگ اردو بولتے ہیں
اردو زبان کی اہمیت کیا ہے؟ اور اس کا قومی زبان کے طور پر نفاذ کیوں ضروری ہے؟ ان سوالات کا جواب ہمیں بانی پاکستان کی کی ایک تقریر کے اقتباس سے ملتا ہے جس میں انہوں نے فرمایا تھا
”کوئی بھی قوم ایک قومی زبان کے بغیر ملکی سالمیت اور فکری یکجہتی تک رسائی حاصل نہیں کر سکتی“۔
قائد قائد کے فرامین کی روشنی میں اپنی قومی زبان ”اردو“ کو زندہ رکھنے اور اسے بگڑنے سے بچانے کے لیئے نہایت ضروری ہے کہ اس کی محبت اور عزت کا جذبہ نئی نسل کے دلوں میں پیدا کیا جائے۔
سینکڑوں اور بھی دنیا میں زبانیں ہیں مگر
جس پہ مرتی ہے فصاحت وہ زباں ہے اردو
قائد اعظم نے اردو کو پاکستان کی سرکاری زبان کہا، اگر ہم تحریک پاکستان میں ان کی شخصیت اور فکر کے بنیادی رویئے کے قائل اور قدر دان ہیں تو اردو کو سرکاری اور دفتری زبان ماننے اور ان حیثیتوں میں اسے رائج کرنے میں ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیئے۔ ہمیں اس کے نفاذ کے لیئے عمل پیرا ہونا پڑے گا
یا رب رہے سلامت اردو زباں ہماری
ہر لفظ پر ہے جس کے قربان جاں ہماری
5.1/10

https://youtu.be/X-25Nenwc2U

One thought on “سینکڑوں اور بھی دنیا میں زبانیں ہیں مگر ،جس پہ مرتی ہے فصاحت وہ زباں ہے اردو”

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Translate »