محب اللہ ،  لوئر دیر ، متعلم درجہ رابعہ ، جامعہ اسلامیہ عربیہ ، شیرگڑھ ، مردان

بات کرنے میں طور طریقہ سیکھا
ہم نے اردو کے بہانے سے سلیقہ سیکھا

اردو ہماری قومی زبان ہے۔جو بے حد میٹھی اور خوبصورت ہے۔یہی وجہ ہے کہ جو شخص اچھی اور روانی کیساتھ اردو بولتا ہے۔اس کے بعد سننے میں لطف آتا ہے۔ اردو زبان ہندوستان کی اصل زبان قرار دیا جاتا ہے۔جس کی پیدائش ہندوستان میں ہوئی باقی زبان باہر سے آئی ہوئی ہے۔

ہندی زبان اریاسے لیکر آئی،فارسی مغلوں کیساتھ آئی،لیکن اردو زبان نے یہاں جنم لیا۔ اور یہی پہلی بولی متحدہ ہندوستان میں اس کو مسلمانوں کی زبان سمجھا جاتا ہے۔جس کی وجہ سے یہاں کئی بار اردو،ہندی تنازعات کھڑے ہوئے، جن کا مقصد ہندی یا اردو میں سے کسی ایک زبان کو ہندوستان میں نافذ کرنا تھا۔

ہندو کا خیال یہ تھا کہ ہندی قدیم زبان ہے۔جبکہ اردو بعد میں مسلمانوں کے ذریعے سے آئی۔ حالنکہ چند حقیقت پسند مصنفین کا یہ دعویٰ ہے۔کہ ہندی زبان دراصل اردو سے ہی نکلی ہے۔اور انگریزوں کی لڑاؤ،اور حکومت کرو پالیسی کا کامیاب تسلسل ہے۔انہوں نے اردو سے عربی زبان کے الفاظ کو نکال کر سنسکرت کی زبان کے الفاظ شامل کر کے اس کو ہندی زبان کا نام دیا تھا،جس کی وجہ سے ہندی اردوتنازعہ نے جنم لیا۔ جبکہ اس سے قبل اردو زبان بولتی تھی،اور ہندو کی اصل زبان سنسکرت تقریباََ معدوم ہو چکی تھی۔

کئی صدیاں اکٹھے رہنے کے بعد مسلمانوں نے جب ہندوں کے طور بدلے ہوئے دیکھے تو انہوں نے اپنے مذہب،اپنی ثقافت،اپنی زبان کو ترقی دینے کیلئے ایک الگ وطن حاصل کیا جو کہ آج ایک عظیم ملک پاکستان کی صورت میں ہے۔ نعمت خداوندی کے طور پر ہمارے پاس موجود ہے۔ ہم نے یہاں اپنے مذہب ثقافت کیساتھ جو حال کیا اس سے کئی زیادہ برا حال اپنی قومی زبان اردو کیساتھ کیا۔

یہ بھی پڑھیں

آج جو ترقی یافتہ ممالک ہے انہوں نے اپنی قومی زبان کو فروغ دیا۔چین ایک عظیم ملک ہے۔انہوں نے اپنی چینی زبان پر بھروسہ کرکے دنیا کو دکھا دیا کہ انگریزی زبان ترقی کی ضامن نہیں ہے۔ترقی تو اپنے زبان میں رہ کر بھی کی جاسکتی ہے۔چینی صدر کے سامنے جب انگریزی زبان میں سیاسی نامہ پیش کیا گیا۔تو انہوں نے جواب میں ایسا جملہ بولا کہ ضرب المثل کی حیثیت حاصل کرلی۔ان کے الفاظ تھے کہ چین ابھی گونگا نہیں ہوا۔دوسری طرف ہم بحیثیت قوم انگریزی زبان کے دلدادہ بنے ہوئے ہے۔جس کی وجہ سے آج انگریزی سیکھنا،بولنا ہر شخص کیساتھ مجبوری بن گیا

اردو صرف ہماری قومی زبان نہیں بلکہ عالمی رابطہ کی چندبڑی زبانوں میں سے ہے۔بعض بین الاقوامی اداروں کے رپورٹ کے مطابق بولنے والوں کی تعداد کے حوالے سے اردو سے وقت دنیا کی دوسری بڑی زبان ہے۔جبکہ وہ اپنے پھیلاو ئ، اور دنیا کے مختلف بر آعظموں میں بولی اور سمجھی جانی والی،سیاسی بڑی زبان کا درجہ حاصل کرچکی ہے۔

چنانچہ سیر سید احمد خان نے جہاں دوقومی نظریہ عنوان سے مسلمانوں کی تہذیب وثقافت سے ایک الگ مستقل تہذیب کی طور پر پیش کیا،وہاں ہندی زبان کی فروغ کے مقابلہ میں اردو کی تحفظ اور فروغ کی جنگ بھی لڑی، اس مسلمانوں کا تشخص برقرار رکھنے کی ایک مستقل کوشش اور عنوان کا درجہ دیا۔اس کے بعد علامہ اقبال اور مولانا ظفر علی خان،مولوی عبد الحق اور دیگرزعماء نے اردو کی تحفظ کے لئے سرگرم کردار ادا کیا۔

اس لئے نظریہ پاکستان کی اساس جداگانہ مسلم تہذیب کیساتھ اردو زبان بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے قیام پاکستا ن کو اردو زبان کو قومی زبان قرار دینے کا دوٹوک فیصلہ اعلان کیا۔اور فرمایا تھا کہ پاکستان کی قومی زبان اردو اور صرف اردو ہوگی۔ہر ملک میں اس کی قومی زبان کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے ہوسکتا ہے کہ اس ملک کی ہر جگہ پر قومی زبان کو استعمال لازمی قرار دیا۔چند تجاویز ہیں جن پر عمل کرکے ہم وطن عزیز میں اردو کو فروغ دے سکتے ہے۔
تمام نصابی کتب کا سلیس ترجمہ اردو زبان میں ہونا چاہئے۔

اردو زبان کو دفتری زبان کا درجہ دیا جائے۔
سرکاری خط وکتابت اردو زبان میں ہو۔
عدالتوں کے فیصلے بھی اردو میں لکھے جائے۔

انگریزی زبان کے الفاظ کو من وعن اردو میں استعمال کرنے کے بجائے ان کا ترجمہ شامل کیا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Translate »