0 0
Read Time:3 Minute, 46 Second
محمد صہیب ، درجہ رابعہ ،جامعہ بیت السلام تلہ گنگ

پاکستان کی قومی زبان کی ضرورت اور اہمیت

زبان، زبان سے پیدا ہوتی ہے، اردو ہندوستان کی ایک قدیم ہراکرت شورسینی سے پیدا ہوئی ہے۔ یہ دہلی اور دہلی کے نواح میں پیدا ہوئی۔ اور یہاں کے لوگوں میں پھولی پھلی اور کافی اعتماد حاصل کیا۔ حتیٰ کہ ہندوستان کے کونے کونے میں پھیل گئی۔ چاہے وہ گھروں میں، بازاروں میں ہو، تعلیمی اداروں میں ہو،

غرض ہر جگہ اردو زبان کا چرچا ہونے لگا۔ ادیبوں نے بھی اردو میں مقالہ نگاری شروع کی، اور شعراء نے کافی حد تک اشعار لکھے۔ اور اس کو جاودانی بخشی، یہاں تک کہ اب تو ایک گراں قدر ادبی سرمایہ ہے۔

اردو ایک مخلوط زبان ہے، جس میں مختلف زبانوں کے الفاظ شامل ہوئے ہیں، جن میں عربی، فارسی اور پنجابی نمایاں ہیں۔ اس لیے ہندوستان کی سرزمین کے کسی علاقے کے لیے بھی یہ زبان اجنبی نہیں محسوس کی جاتی۔

اردو ایک پیاری زبان ہے۔ اور ہمارے ملک پاکستان کی قومی زبان ہے۔ اردو زبان و ادب کی نشوونما میں بلاکسی امتیازِ مذہب و ملت تمام قوموں کا اشتراک حاصل رہا۔ انگریزوں نے بھی بولی، ہندوؤں نے بھی بولی اور مسلمانوں نے بھی اور پاکستان جو کہ ایک اسلامی ملک ہے، اس کی تو قومی زبان ہے۔اور مختلف قوموں اور نسلوں کے باہمی اختلاط سے اس میں رنگا رنگی اور وسعت پیدا ہوگئی ہے۔

اصل میں ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کی عکاسی کرتی ہے۔ خاص طور سے اردو شاعری، اپنے آغاز ہی ایک مشترکہ تہذیب کی امین رہی ہے۔

اردو تہذیب ایک عمدہ تہذیب ہے۔ یہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے تہذیب کا نچوڑہے۔ ایرانی تصوف اور بھگتی تحریک نے اس پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں اور مذہب و ملت کو مٹانے میں بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔ اردو شاعری نے خصوصیت کے ساتھ دونوں مذاہب کو مساوی رکھا ۔
کسی بھی قوم کی تہذیبی ترقی اس کی قومی زبان کو پروان چڑھانے میں ہے۔


یہ بھی پڑھیں


قومی زبان کی بقاء قومی ترقی کی ضامن ہوتی ہے۔ جس سے اپنی قوم کی رسم و رواج، تہذیب و تمدن اور ثقافت کی بقاء ہوتی ہے۔ غیروں کے تہذیب و تمدن سے متاثر نہیں ہوا کرتے۔ ہم اپنی تعلیمی اداروں کے ممبران دیکھیں کہ وہ کس قدر مایوسی کا شکار ہیں۔ آئے دن یورپ کے نظامِ تعلیم کو اپنانے کی تاکیدیں کررہے ہیں۔ اور اپنے نظامِ تعلیم اور نصابِ تعلیم کو ختم کرنے پہ تلے ہوئے ہیں۔ حالانکہ اگر یہ اپنے نظام ِ تعلیم اور نصابِ تعلیم کو تھامے رکھیں تو کچھ بعید نہیں کہ اس سے اردو زبان پہلی عالمی زبان بن کر ابھرے۔

خاص کر ہمارے نصابِ تعلیم میں اردو زبان کی کتنی کمی ہے؟ ہر ادارہ انگریزی پر زور دے رہا ہےاور غیروں کی زبان کو پروان چڑھا کر ان کی تہذیب و تمدن کو اپنا رہا ہے۔ اور اس طرح ہماری سرکاری زبان بھی اردو ہی کو ہونا چائیے ، تاکہ عوام بھی حالات حاضرہ سے باخبر رہ سکیں۔ اور عدالتی نظام میں بھی یہی کچھ ہے، نہ تو مدعی کو کچھ معلوم ہوتا ہے اور نہ مدعیٰ علیہ کو کہ کیا ہورہا ہے اور کیا نہیں! تو ان سب کمزوریوں کی وجہ سے ہمیں اپنی قومی زبان کی قدر و اہمیت جاننی چائیے۔

اردو زبان دنیا کی تمام زبانوں میں ایک امتیازی حیثیت رکھتی ہے، یوں اس کا دامن بھی باقی زبانوں کے مقابلے میں بہت وسیع ہے، کیونکہ اس میں ترکی ، عربی ، فارسی اور دیگر ادبی زبانوں کی بھی آمیزش پائی جاتی ہے۔ اردو کی ضرورت کے پیشِ نظر ندوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب کسی قوم و ملک میں رائج زبان، مقبول اسلوبِ بیان، صحافت و تحریر اور ادب و تحقیق اور علومِ دینیہ و دنیاویہ کے حاملین کے درمیان خلیج واقع ہوجاتی ہے، تو اس وقت دین اپنا بہت کچھ کھو دیتا ہے،

حتیٰ کہ علامہ تھانوی رحمہ اللہ اردو سیکھنے میں وجوب (لازمی)کے قائل ہیں۔ اب چونکہ یہ زبان اس قدر اہمیت کی حامل ہے، لہٰذا ہم سب کا بحیثیتِ قوم یہ فرض بنتا ہےکہ اول تو اس کی قدر کریں اور اس کے ارتقائی سفر میں تحریکی اقدام کریں ، تاکہ کل اردو زبان کو ہم پر بھی فخر ہوسکے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Translate »