محمد نعمان ، جامعہ تعلیم القرآن والسنہ سیکٹر جی منظور کالونی کراچی۔

مملکت خداد پاکستان دو قومی نظریہ کی بنیاد پر وجود میں آیا۔ دو قومی نظریہ کی بنیاد 1857 کی جنگ آزادی کے بعد ہندؤوں کی طرف سے ہندی زبان کو بطور سرکاری و عدالتی زبان رائج کرنے کی کوشش پر ہوئی۔لیکن اس وقت کے مسلمان اردو زبان کی اہمیت اور ضرورت سے کلی طور پر آگاہ تھے ،وہ جانتے تھے کہ یہ صرف زبان پر نہیں بل کہ پس پردہ مذہب پر حملہ کرنے کی کوشش ہے جو بعد میں جاکر ایٹم بم سے بھی زیادہ تباہی لائے گی کیوں کہ مسلمان ہندی کے حصول میں اردو سے دور ہو جائیں گے اور اردو کے عربی رسم الخط کے بجائے ہندی کے دیوناگری رسم الخط میں مستغرق ہونے کی وجہ سے جہاں اردو سے گئے وہاں قرآن اور حدیث کا حصول بھی ان کےلیے مشکل ہو جائے گا اور متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں اکائی قرار دیے جائیں 

چناں چہ اس وقت کے صاحب بصیرت مسلمانوں نے اردو کا تشخص برقرار رکھنے کےلیے لازوال قربانیاں دیں۔
تقسیم کے بعد بانی پاکستان نے 21 مارچ 1948 کو ڈھاکا میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہوگی۔1973 کے آئین میں اردو کو قومی زبان کا درجہ دیا گیا ،2015 کو عدالت عظمی میں چیف جسٹس نے حکومت کو اردو زبان کو بطور سرکاری زبان رائج کرنے کا حکم دیا۔

چیف جسٹس صاحب نے اپنے فیصلے کہا کہ اکثر عدالتی کارروائی میں یہ احساس شدت سے جاگزیں ہوتا ہے کہ کئی دہائیوں کی محنت شاقہ اور کئی بےنوا نسلوں کی کاوشوں کے باوجود آج بھی انگریزی ہمارے ہاں بہت ہی کم لوگوں کی زبان ہے اور اکثر فاضل وکلا اور جج صاحبان بھی اس میں اتنی مہارت نہیں رکھتے کہ جتنی درکار ہے نتیجہ یہ ہے کہ آئین اور قانون کے نسبتاً سادہ نکتے بھی انتہائی پیچیدہ اور ناقابل فہم معلوم ہوتے ہیں۔


یہ بھی پڑھیں


ہماری بدقسمتی یہ تھی کہ تقسیم کے بعد جس زبان کو سرکاری و عدالتی زبان قرار دیا گیا وہ پاکستان میں بسنے والی اقوام میں سے کسی کی بھی زبان نہیں تھی حتی کہ اٹھانوے فیصد پاکستانی اس زبان سے ناواقف تھے چناں چہ ابتدا ہی سے ایک عام پاکستانی کےلیے سرکاری و عدالتی امور مشکل بن گئے جس کےلیے اسے دلالوں کی خدمات لینی پڑیں جس کے نتیجے میں رشوت ستانی کا بازار گرم ہوا اور اردو چھوڑنے کی وجہ سے ایک عام پاکستانی براہ راست سرکاری و عدالتی امور سے دور ہوگیا۔

اردو کو چھوڑنے کی وجہ سے دوسرا بڑا نقصان یہ ہوا کہ پاکستان ان بہترین دماغوں سے محروم ہوگیا جو آگے چل کر پاکستان کی معیشت میں انقلاب برپا کرسکتے تھے اور ان کی بدولت آج پاکستان کا شمار صف اول کے مضبوط معاشی ممالک کی فہرست میں ابتدائی نمبرات پر ہوتا اور پاکستان ایک خوش حال اور کامیاب ملک ہوتا۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ بلاشبہ تعلیم کی کمی ترقی کی طرف نہیں لے جاتی چاہے ترقی معاشی ہو یا اخلاقی،مقدر ہمیشہ پستی ہوتی ہے۔

یہی وجہ تھی کہ قیام پاکستان کے بعد سے آج تک دسویں کے امتحان میں ناکام رہنے والے اسی فیصد تعداد ان طالب علموں اور طالبات کی تھی جو انگریزی میں ناکام ہوئے۔

جو بہترین دماغ دل برداشتہ اور وسائل کی کمیابی کی وجہ سے دوبارہ امتحان دینے یا تعلیم کا سلسلہ جاری نہ رکھ سکے ان کا ضامن اور پاکستان جن بہترین دماغوں سے محروم ہوا اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟.
اب تو ستم ظریفی یہ ہوئی کہ تعلیم کی زبان بھی غیر اردو قرار دے دی گئی اور اردو کو فقط ایک مضمون کے طور پر پڑھایا جانے لگا ہے۔

ہمیں اردو کی اہمیت کو سمجھنا ہوگا اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب سے پہلے اپنے تعلیمی نظام کو درست کریں۔

تعلیم کی زبان اردو قرار دی جائے انگریزی،سندھی اور پنجابی کو بطور مضمون کے شامل کیا جائے اس کے ساتھ اردو کو بطور سرکاری و دفتری زبان رائج کیا جائے یقین جانیے اس تھوڑے سے عملی اقدام اور توجہ دینے سے ہماری درس گاہوں سے ایسے سائنسدان اور انجینئر پیدا ہوں گے کہ تاریخ ان پر ناز کرےگی اور پاکستان ترقی اور خوشحالی کے ایسے دور میں داخل ہوجائے گا کہ اقوام عالم اس کی معیت کو سعادت سمجھیں گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Translate »