محمد عیسیٰ ، سیکنڈ ائیر ، ڈاکٹر اے کیو خان کالج ( ابراہیم کیمپس) اسلام آباد

دنیا کے مختلف علاقوں میں بولی جانے والی زبانیں اس قوم کی ثقافت کی عکاس ہوتی ہیں اور ثقافت کی شناخت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں پاکستان کے مختلف علاقوں میں مختلف نسلوں کے لوگ آباد ہیں جو کئی زبانیں بولتے ہیں پنجابی، پشتو، سندھی، اور بلوچی پاکستان کی علاقائی زبانیں ہیں جو زبان تقریباََ سارے ہی علاقوں اور صوبوں میں بولی اور سمجھی جاتی ہے وہ اردو ہے

وہ عطر دان سالہجہ مرے بزرگوں کا
رچی بسی ہوئی اردو زبان کی خوشبو

یوں تو اردو زبان کی مقبولیت اور وسعت کا دائرہ بہت وسیع ہے بر عظیم پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے کروڑوں لوگ اردو بولتے لکھتے اور پڑھتے ہیں اور ان ملکوں سے اردو میں بہت سے اخبار اور رسالے شائع ہوتے اور کتابیں چھپتی ہیں اس طرح متعدد بیرونی ممالک مثلاََ برطانیہ، کینیڈا، امریکہ، جرمنی، فرانس سعودی عرب اور خلیج کی ریاستوں میں لاکھوں افراد کی زبان اردو ہے۔

علاقائی زبانیں بولنے والوں کے درمیان رابطے کی زبان اردو ہے اگر زبان ایک نہ ہو تو ہم خیالی پیدا نہ ہو گی کراچی سے خیبر تک سمجھی جانے والی یہ زبان پوری پاکستانی قوم کو ایک لڑی میں پروئے ہوئے ہے۔قومی زبان کی اہمیت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ملک کے مختلف صوبوں اور ان کے عوام کے درمیان یکجتی اور اتحاد کی علامت ہے اور اس کا ایک اہم سبب بھی ہے چار صوبوں کے باشندے آپس میں ملتے ہیں اور اردو کو ذریعہ اظہار گفتگو بناتے ہیں تو ان کے درمیان یگانگت کا احساس پیدا ہوتا ہے در حقیقت اردو ہمارا مشترک قومی ورثہ ہے

یہ بھی پڑھیں

اردو ایک ترقی یافتہ زبان ہے اور ہر طرح کے تعلیمی علمی قانونی اور دفتری مطالب کے اظہار و بیان پر پوری قدرت رکھتی ہے انگریزوں کے دور میں دہلی کالج میں سائنسی اور سماجی علوم کی تدریس کا کامیاب تجربہ کیا گیا ریاست بہاول پور میں بھی اردو سرکاری زبان کی حیثیت سے رائج رہی ہے۔

اسی طرح جامعہ عثمانیہ حیدر آباد دکن میں بھی ایک طویل عرصہ تک اردو سرکاری،تعلیمی اور حکومتی زبان کی حیثیت سے کامیاب کردار ادا کرتی رہی ہے اس وقت اردو زبان میں مختلف علوم کی اصطلاحات اور مترادفات کا خاطر خواہ ذخیرہ موجود ہے، یہ ایک عجیب بات ہے کہ جاپان میں سائنسی علوم جاپانی میں، جرمنی میں جرمن زبان میں اور روس میں روسی زبان میں پڑھائے جاتے ہیں۔

مگر اہم اپنی قومی زبان کو اپنانے میں عار محسوس کرتے ہیں ترقی یافتہ ممالک میں قانونی،عدالتی، تجارتی، تعلیمی اور دیگر ہر نوع کے معاملات و امور ان کی قومی زبان میں ادا کیے جاتے ہیں قومی زبان کو اپنا کر ہم اپنا وقت بچا سکتے ہیں انگریزی اختیار کرنے میں ایک تو زبانی دانی کی مشکل پیش آتی ہے اور پھر ہمیں متعلقہ علم یا شعبہ میں مہارت پیدا کرنے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے

اردو ہے میرا نام میں خسرو کی پہیلی
میں میر کی ہمراز ہوں غالب کی سہیلی

اگر قومی زبان کو اختیار کیا جائے تو جو وقت زبان دانی میں صرف ہوتا ہے اسے متعلقہ علم یا فن کے حصول میں صرف کیا جاسکتا ہے۔

ایک آزاد قوم ہونے کے ناطے ہمیں اپنی قومی زبان اردو کو ذریعہ تعلیم بنانا چاہیے اور دفتر ی زبان بھی۔ بی۔ ایس تک سے لازمی مضمون کی حیثیت حاصل ہو اور تمام تر مقابلے کے امتحانوں اور انٹرویوز کے لیے ذریعہ اظہار یہی زبان ہو نی چاہیے اردو اسلامی فکر اور نظریے کی حامل زبان ہے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آج کل اس پر انگریزی زبان مسلط ہے اس غیرملکی اور غیر اسلامی زبان نے ہمارے تہذیبی ڈھانچے کو توڑ پھوڑ دیا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جو قوم اپنی روایات و ثقافت چھوڑ کر دوسرے کی روایات اپناتی ہے اپنا نظریاتی وجود کھو دیتی ہے ہمیں اس بارے میں سوچنا چاہیے اور اس کے لیے جاپان کی مثال ہمارے سامنے ہے دوسری جنگ عظیم سے ہونے والی تباہی کے بعد جاپانیوں نے انگریزی زبان کا نظیریاتی با ئیکاٹ کیا آج جاپانی قوم کا مسلہ انگریزی سیکھنا یا جاننا نہیں دنیا نے دیکھا کہ انگریزی کے بغیر ہی یہ قوم کس قدر ترقی کر چکی ہے۔

آج ہمیں اس حقیقت کو جان لینا چاہیے کہ اردو ہماری قومی زبان ہے۔ یہ ہمارے لیے ایک بہترین ذریعہ تعلیم ہے اردو اسلامی تہذیب و ثقافت کی امین ہے یہ زبان ادبی اور شعری سرمایہ رکھتی ہے اور اس ارض پاک کی بنیادوں میں سے اس کی لہو کی رنگینی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے بہتر مستقبل اور اس کی ترقی کا اردو کی ترقی کے ساتھ گہرا تعلق ہے ضرورت ہے کہ اردوسے محبت رکھنے والے اردو کی ترقی کے لیے اپنے اپنے دائرہ کار میں بے لوث طریقے سے کام کریں۔ یہ طے شدہ بات ہے کہ اردو اس ملک میں بطور دفتری و سرکاری زبان رائج ہو کر رہے گی لیکن دیکھنا یہ یہ کہ پاکستان کے بہتر مستقبل سے وابستہ یہ نیک نامی ہماری کس حکومت کے حصے میں آتی ہے؟

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Translate »