محمد الواز یوسف
محمد الواز یوسف، آدم جی گورنمنٹ سا ئنس کالج،کراچی

عرف عام میں زبان کو آلہ اظہار و اخذ کہا جاتاہے۔ اس کی معاونت سے انسان بصورت تحریر و تقریر اظہار خیال کرتا ہے اور گردوپیش سے معلومات اخذ کرتا ہے۔ زبان محض حروف، الفاظ، مرکبات اور تحریری علامات و کلمات کا منطقی نظام ہی نہیں بلکہ انسانی نشوونما و کردار کا اہم پہلو ہے۔ یہ انسانی شخصیت اور طرز عمل کی آئنہ دار ہے۔ یہ ذہنی تعمیر و تشکیل اور کردار سازی میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔ زبان تجربات زندگی کی محافظ اور مختلف علوم وفنون کی تشکیل اور توسیع کا باعث ہے۔۔۔انسان کا امتیازی وصف ہے۔۔۔زبان سیکھتے رہنا اور اس پر دسترس حاصل کرنا بشری تقاضا ہے۔

جس طرح زبان انسان کو دیگر مخلوقات سے ممتاز کرتی ہے اسی طرح قومی زبان قوموں کو اقوام عالم میں ایک منفرد مقام عطا کرتی ہے۔قومی شناخت، آزادی اور خودمختاری کی محافظ اور قومی تہذیب کی آئینہ دار اور محافظ ہوتی ہے۔ یہ قوموں کا شیرازہ بکھرنے نہیں دیتی۔ زبان قوم کا امتیازی نشان ہوتی ہے- ذریعہ تعلیم بنانے کی اہل ہوتی ہےدفتری، کاروباری، سرکاری اور روزمرہ کے امور کی انجام دہی میں اس کا استعمال ناگزیر ہو تا ہے

اردو بحیثیت قومی اس بات کی متقاضی ہے کہ تمام انفرادی و اجتماعی معاملات زندگی اسی کے ذریعے انجام کو پہنچیں۔اردو کو پاکستان میں وہی مقام حاصل ہونا چاہیے جو کسی ملک میں قومی زبان کو حاصل ہوتا ہے۔ پاکستان کی قومی زبان کا درجہ ملنے کے بعد کوئی اور غیر ملکی زبان اردو کا نعمل بدل نہیں ہو سکتی


یہ بھی پڑھیں


درحقیقت کوئی دوسری زبان وہ تقاضے پورے کرنے کی اہلیت ہی نہیں رکھی جو اردو زبان سے وابستہ ہیں۔
اردو پاک وہند کی مشہور و معروف زبان ہے۔ یہ محض پاکستان کی نہیں بلکہ پورے برصغیر کی تاریخ و ثقافت کی علمبردار ہے۔ یہ معرض وجود میں آنے کے بعد سب سے پہلے فرنگیوں کی سرپرستی میں سرکاری اور تعلیمی زبان کی حیثیت سے فارسی کی جگہ رائج ہوئی۔ چنانچہ اس نومولود زبان نے اپنے فرائض منصبی بخوبی نبھائے اورgrand popular speech of India کہلائی-

اردو تین بڑی تہذیبوں (عربی، فارسی اور انگریزی) کے اختلاط کے باعث وجود میں آئی ہے. یہ پاک وہند کی قدیم دیسی زبان پراکرت کی ترقی یافتہ شکل ہے جس کی بنیاد خارجی حملہ آوروں (ترکی، عربی، پرتگالی ،فرانسیسی، فارسی، افغانی اور آریاؤں) کے ہندوستان میں داخلے کے بعد پڑی۔بیرونی تہذیبوں کے اختلاط نے اس کی داغ بیل ڈالی۔

اردو زبان ایک لشکری زبان ہے- یہ پورے برصغیر میں بولی اور سمجھی جاتی رہی ہے۔قیام پاکستان کے بعد ادرو ہی پاکستان کی قومی زبان ٹھہری اس لحاظ سے اس کی اہمیت و عظمت دو چند ہوگئی ہے۔اس کی تعلیم و ترویج اہل پاکستان کے زمہ ہے درحقیقت پاکستانیوں کا قومی امتیاز اور قومی اتحاد اردو ہی سے وابستہ ہے۔ پاکستان اور اردو زبان کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔

ملکی استحکام اور قومی یک جہتی ایک بیش بہا نعمت ہے جوا گر کسی قوم کو حاصل ہو جائے تو وہ ترقی کے مداراج بآسانی طے کر کے ترقی یافتہ ممالک کی صفوں میں شامل ہوجاتی ہے۔یہ قومی اتحاد یکساں زبان اور تہذیب کی مدد سے فروغ پا تا ہے۔ یہ اتحاد ہی قوموں کو ذندہ جاوید اور تابندہ رکھتا ہے۔اس اتحاد و اتفاق کا سرچشمہ مشترکہ قومی زبان ہوتی ہے۔ بالا شبہ اردو ہی پاکستان میں قومی استحکام کا اور قومی یکجھتی کو ممکن بنا سکتی ہے۔

قومی امتیاز بڑی انمول چیز ہے۔ قومی امتیاز کی علمبردار زبان ہی ہوتی ہے۔ جو قوم غیروں زبان میں لکھتی پڑھتی وہ اپنی شناخت کھو بیٹھتی ہے ۔اس کی سوچ اور ذہنیت آزادانہ نہیں بلکہ غلامانہ ہوتی ہے۔ اس کا فعل اپنا ذاتی نہیں بلکہ غیروں کی تقلید پر مبنی ہوتا ہے۔ ایسی قوم مردہ تصور کی جاتی ہے جو اپنی زبان میں اظہار واخذ کرنے میں قباحت محسوس کرےاورغیر زبان کا سہارا لے۔ غیروں کی زبان کو اپنانے والی قوم رفتہ رفتہ غیر قوم میں مدغم ہو کر صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہے۔

پاکستان کی تعمیر و ترقی کیلئے اردو کا نفاذ ناگزیر

تعلیمی درسگاہوں اور نظام تعلیم میں اردو کا مکمل نفاذ پاکستان کی تعمیر و ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ قومی زبان کے ذریعے ہی طلبا اپنے پسندیدہ علوم و فنون سے فیضیاب ہوسکتے ہیں۔ طلبا میں نت نئے علوم کا ذوق پیدا کر نے اور ان علوم پر دسترس حاصل کرنے کے لیے اردو زبان معاون ثابت ہوسکتی ہے۔

اساتذہ کے لیے بھی قومی زبان میں طلبا کو اپنا نقظہ نظر سمجھانا سہل ہے۔غیر زبان میں آسان بات سمجھنا اور سمجھانا مدرس و طلبا کے لیے درد سر بن جاتاہے۔

غیر ملکی زبان ذریعہ تعلیم بن جائے تو کئ پیچیدگیاں جنم لیتی ہیں۔ طلبا کے ذہن میں مضمون سے متعلق میں ابہام اور شکوک وشبہات کھلبلی مچاتے رہتے ہیں۔ انہیں اپنے علم پر اعتبار ہوتا ہے نہ وہ کبھی اس مضمون کو گہرائی میں جاکر سمجھتے ۔ طلبا، معلم اور مضمون کے درمیان اس چبقلش کے باعث مقصد تعلیم فوت ہو جاتا ہے۔

قومی زبان سوا کوئی اور زبان تعلیمی ضروریات اتنی خوش اسلوبی انجام دینے کی استطاعت نہیں رکھتی۔یہ شرف قومی زبان کو ہی حاصل ہوتا ہے۔قومی زبان طلبا اور اساتذہ کے درمیان اس خلا کو جنم لینے ہی نہیں دیتی جو کسی غیر ملکی زبان کے سبب بنتا ہے۔

قوم کے مستقبل بچوں کی تعلیم وتدریس کا اہتمام اُردو زبان میں ہی ہونا چاہیے تاکہ وہ بہتر طور پر علمی منازل طے کرکے ملکوں قوم کے لیے کوئی قابل فخر کارنامہ انجام دے سکیں

یہ ایک مسلم حقیقت ہے کہ قوم جس زبان کو اپناتی ہے اسی کے تہذیبی اور معاشرتی اثرات قبول کر تی ہے۔اس لحاظ سے اردو کی اہمیت اور زیادہ ہوجاتی ہے کیونکہ یہ ہمارا رشتہ عظیم الشان ماضی سے جوڑ کے رکھتی اور ہمیں اپنی روایات کی یاد دلاتی ہے۔یہ ہمارے پرتباک ماضی کی یاد گار اور مستقبل میں ہماری بقاء کی ضامن ہے۔ بد قسمتی سے انگریزی زبان سے لگاؤ نے ہمارے اعلی دماغوں کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔

8 thoughts on “اردو،دنیا کی تین بڑی تہذیبوں‌کے بطن سے جنم لینے والی زبان ،محمد الواز یوسف”
  1. Outstanding and brilliant adorable also ..
    Knowledge wise outclass ..
    Overall adorable ❤️❤️
    May Allah bless you Ameen 🤲🤲

Leave a Reply to الواز Cancel reply

Your email address will not be published.

Translate »