صفدرحسین
ایبٹ آباد


خیبرپختونخواہ لوکل باڈیز ایکٹ 2019 کے تحت صوبے میں بلدیاتی انتخابات کے تحت منتخب نمائندوں کو 36 ایسے اختیارات حاصل ہیں جو وہ عوامی مفاد کیلئے بروئے کار لاسکتے ہیں اور ان پر عملدرآمد کرواسکتے ہیں ۔
ایبٹ آباد میں ایک غیرسرکاری تنظیم Individuallifeکی جانب سے پرنٹ ،الیکٹرونک اور ڈیجٹیل میڈیا کے صحافیوں کے علاوہ سول سوسائٹی کے اراکین کیلئے دورہ روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد ایک مقامی ہوٹل میں کیا گیا ۔جس میں سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا سے وابستہ صحافیوں کو بھی خصوصی طور پر شامل کیا گیا تاکہ زیادہ رسائی کا حامل سوشل و ڈیجیٹل میڈیا عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کو ان کے اختیارات کے حوالے سے زیادہ اور موثر آگاہی فراہم کرسکے ۔

تنظیم کی جانب سے مقرر کردہ تربیت کار فضل الرحمان نے شرکاء کو بتایا کہ خیبرپختونخواہ بلدیاتی ایکٹ 2019 کے تحت 36 ایسے بنیادی اختیارات حاصل ہیں جنہیں وہ عوامی مفاد اور فلاح و بہبود کیلئے بروئے کار لاسکتے ہیں

اور اس تربیتی ورکشاپ کے انعقاد کا مقصد بھی ان اختیارات کے بارے میں بلدیاتی نمائندوں کو آگاہ کرنا ہے تاکہ وہ اپنے حلقہ انتخاب کے مسائل کے حل اور حقوق کے تحفظ کو یقینی بنا سکیں ۔اس مقصد کیلئے سوشل و ڈیجیٹل میڈیا کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ یہ پیغام زیادہ سے زیادہ اور بہتر انداز میں عام شہریوں اور منتخب بلدیاتی نمائندوں تک پہنچ سکے اور ان کے حقوق کا تحفظ بھی ممکن ہوسکے ۔

خیبرپختونخواہ ایکٹ 2019 میں بلدیاتی نمائندوں کو کون کونسے اہم اختیارات حاصل ہونگے ؟

پیدائش ،اموات ،طلاق اور شادی کے سرٹفیکٹ کا حصول ،جو دو دن میں ویلیج کونسل یا نیبرہوڈ کونسل کے دفتر سے جاری ہوگا اور اس کی فیس 150 روپے جبکہ شادی سرٹفیکیٹ کی فیس 200 روپے مقرر کی گئی ہیں ،تاخیر یا کام نہ ہونے کی صورت میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر بلدیات کو شکایت درج کروائی جاسکتی ہے ،


یہ بھی پڑھیں


ویلیج کونسل ،گائوں یا نیبر ہڈ کونسل کی سطح پر بلدیاتی نمائندے پانی کی فراہمی ، صفائی کے معاملات کی نگرانی وی سی کونسل کی ذمہ داری ہوگی جبکہ شہر یا ٹائون کی سطح پر اس کام کیلئے مقررہ ادارے پابند ہوں گے ۔

ہر شہری 2 ہفتے میں پانی کی فراہمی و نکاسی کی سہولت حاصل کرسکتا ہے ،جو کہ ٹی ایم اے ،ڈبلیو ایس ایس سی ،جی ایم آپریشنز،پبلک ہیلتھ کے محکمہ جات فراہم کریں گے ۔اس کی ماہانہ فیس گھر کی تعمیر کی مناسبت سے کم از کم 350 روپے اور اس سے زیادہ بھی ہوسکتی ہے

کوڑا کرکٹ کو 24 سے 36 گھنٹے کے اندر ہٹانا سینیٹری انسپکٹرز کی ذمہ داری ہوگی ،اس کی کوئی فیس نہیں اور کام نہ ہونے کی صورت میں ڈبلیو ایس ایس سی ،تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن یا ٹی ایم او سے رجوع کیا جاسکتا ہے

بلدیاتی نمائندے اب جرمانے بھی عائد کرسکتے ہیں

لوکل باڈیز ایکٹ 2019 کے تحت بلدیاتی نمائندے اب بنیادی شہری حقوق کی خلاف ورزی کے مرتکب افرادپر جرمانے بھی عائد کرسکتے ہیں ۔
جن میں کھانے پینے کی بنیادی اور روزمرہ اشیاء ضروریہ کی غیر محفوظ ترسیل یا فروخت کی صورت میں دکاندار پر ویلیج کونسل یا نیبرہوڈ کونسل کی جانب سے 5 ہزار روپے تک جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے ۔

تجاوزات قائم کرنے ،فٹ پاتھ یا سڑک پر ریڑھی ،دکان یا کھوکھا لگانے کی صورت میں وی سی کونسل 15 ہزار روپے تک جرمانہ عائد کرنے کی مجاز ہوگی ۔

جبکہ غیرمحفوظ اور ہاتھ گاڑیوں پر بغیر اجازت سامان کی فروخت پر 2 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا جاسکتا ہے
کسی ایک درخت یا پودے کی کاشت کرنا جسے صحت اور شہریوں کے مفاد عامہ کیلئے نقصان دہ قرار دے اور مالک اسے تلف کرنے یا ہٹانے میں ناکام رہے تو ایسی صورت میں بھی 15سو روپے جرمانہ عائد کرنا بھی وی سی کونسل کے دائرہ اختیار میں شامل ہے ۔

مذبحہ خانے یا مخصوص جگہ کے بغیر جانوروں کو ذبح کرنے پر وی سی کونسل 12 ہزار روپے تک جرمانہ عائد کرسکتی ہے
اسی طرح مقامی حکومت کی اجازت کے بغیر دانستہ طور پر گٹرکا بہائو ندی نالے یا عوامی جگہ پر ڈالنے پر 4 سے 6 ہزار روپے جرمانہ ہوسکتا ہے

بلڈنگ پلانز کی منظوری

تجارتی اور رہائشی عمارتوں کے منصوبوں کو منظور کرنا شہر کی لوکل ایریا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی ذمہ داری ہے۔

تجارتی اور رہائشی عمارتوں کے منصوبوں کی منظوری دینا تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کی ذمہ داری ہے۔

بلڈنگ پلان کی منظوری (رہائشی) 10 دن اسسٹنٹ میونسپل آفیسر چیف میونسپل آفیسر 3 سے 5 روپے فی اسکوائر فٹ
پشاور شہر کے باہر عمارتوں کے منصوبوں کی منظوری (کمرشل) 30 دن ,تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن (TMA) تحصیل میونسپل آفیسر (TMO) جس کی فیس 7 سے 10 روپے فی اسکوائر فٹ ہوگی
پشاور شہر کے اندر عمارت کے منصوبوں (کمرشل) کی منظوری 15 دن
کمرشل بلڈنگ پلان کی منظوری 15 دن

آوارہ جانوروں سے تحفظ

خیبرپختونخوا لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2019 کے مطابق، یہ ویلج کونسل یا نیبر ہڈ کونسل کا کام ہے کہ وہ علاقے میں واچ اور وارڈ کا اہتمام کرے جس میں آوارہ جانوروں اور جانوروں کی مداخلت سے تحفظ بھی شامل ہے۔

مویشی میلوں اور کھیلوں کا انعقاد

خیبرپختونخوا لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2019 کے مطابق، اپنے علاقے میں گاؤں کی سطح پر مویشیوں کے میلے اور شوز کا انعقاد کرنا ویلج کونسل یا نیبر ہڈ کونسل کا کام ہے۔

کھیل اور ثقافتی تقریبات

گاؤں اور پڑوس کی سطح پرخیبرپختونخوا لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2019 کے مطابق، یہ ویلج کونسل یا نیبر ہڈ کونسل کا کام ہے کہ وہ گاؤں اور پڑوس کی سطح پر کھیلوں اور ثقافتی تقریبات کا انعقاد اور اسپانسر کرے۔

ترقیاتی کام گاؤں کی سطح

خیبرپختونخوا لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2019 کے مطابق، یہ ویلج کونسل یا نیبر ہڈ کونسل کا کام ہے کہ وہ گاؤں کی سطح کے ترقیاتی کاموں پر عمل درآمد اور نگرانی کرے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل اسی تنظیم کی جانب سے نومنتخب بلدیاتی نمائندوں کیلئے اسی طرح کی تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا جس میں انہیں ان کو حاصل اختیارات اور ان کے حصول وتحفظ کے بارے میں آگاہی دی گئی تاکہ نومنتخب بلدیاتی نمائندہ شہریوں کے حقوق اور مسائل کے حل کیلئے زیادہ بہتر اور موثر کردار ادا کرسکیں ۔ورکشاپ کے منتظم اور مقامی صحافی سید کمال حسین شاہ کے مطابق ان ورکشاپس کا مقصد شہریوں اور شہری اداروں کے ایک دوسرے سے متعلق آگاہی پیدا کرنا ہے 

تاکہ تمام ادارے اور عام شہری بہتر اشتراک کار کے ذریعے اپنے علاقے اور ملک کی تعمیر و ترقی کیلئے مل جل کر کام کرسکیں ۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Translate »