0 0
Read Time:3 Minute, 54 Second
عرفان حیدر ، پین سکول سسٹم ، جھنگ ، جماعت ہفتم

کسی بھی قوم کیلئے اس کی قومی زبان بڑی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ قومی زبان ملک و قوم کی ترقی کی ضامن ہوتی ہے۔ قومی زبان قوم کو آپس میں جوڑے رکھتی ہے۔ قومی زبان کسی بھی قوم کی تہذیبی اور ثقافتی ورثہ ہوتی ہے۔

محمد بن قاسم نے جب 712ء میں مسمانوں کیلئے برصغیر کے دروازے کھولے تو پھر یہاں عربی زبان رائج ہوگئی۔ اس کے بعد مغلیہ دور میں فارسی زبان کو فروغ ملا اور یہیں سے اردو وجود میں آئی۔

لفظ اردو ترکی زبان سے ماخوذ ہے جس کے معنی لشکر کے ہیں۔ یہ زبان عربی اور فارسی کے الفاظ کا لشکر ہے۔ متحدہ ہندوستان میں کئی بار اردو ہندی تنازعات پیش آئے۔ ان تنازعات کی وجہ ان میں سے کسی ایک زبان کو سرکاری زبان کا درجہ دلانا تھا۔ دراصل اردو تو زبان ہی برصغیر کی ہے، لیکن ہندو اسے مسلمانوں کے قریب سمجھتے تھے اور اس کی وجہ اس کا رسم الخط تھا۔

جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو یہاں اردو کو قومی و سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا۔ قائد اعظمؒ نے فرمایا:

"پاکستان کی قومی زبان اردو، صرف اردو ہے۔”

انگریزوں نے متحدہ ہندوستان میں جو تعلیمی نظام متعارف کروایا تھا اس میں انگریزی کو زیادہ اہمیت دی گئی تھی۔ پاکستان بننے کے بعد بھی انگریزی زبان کو بڑی اہمیت دی گئی۔ اردو کو سرکاری زبان کا درجہ ملنے کا باوجود دفاتر، سکولوں، کالجوں اور دیگر سرکاری اداروں میں اس کا نفاذ نہ ہوسکا۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انگریزی کی اہمیت میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔ سرکاری و پرائیویٹ دفاتر اور تعلیمی اداروں میں اسے رائج کر دیا گیا۔ بچوں کو پہلی جماعت سے ہی انگریزی زبان میں نصاب پڑھایا جانے لگا۔ جس وجہ سے بچے علوم و فنون کو سیکھنے اور سمجھنے بجائے رٹا لگا کر امتحانات میں اعلیٰ نمبر لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ دفاتر میں انگریزی بولی جانے لگی۔ جس وجہ سے انگریزی زبان سیکھنا ہر شخص کی مجبوری بن گئی۔


یہ بھی پڑھیں


لوگوں کی انگریزی میں حد سے زیادہ دلچسپی نے انھیں ایک اور قدم اٹھانے پر مجبور کردیا۔ اب لوگ اردو بولتے ہوئے ہر جملے میں انگریزی کے کچھ الفاظ استعمال کر کے فخر محسوس کرنے لگے ہیں۔ جو شخص خالص اردو بولتا ہو اسے جاہل اور ان پڑھ سمجھا جاتا ہے اور جو اپنی قومی زبان کو زخمی کرکے اس کے ساتھ انگریزی کے الفاظ ملا کر بولتے ہیں انھیں کامیاب اور پڑھا لکھ مانا جاتا ہے۔

دوسری طرف اگر ہم امریکہ، برطانیہ، جرمنی اور روس کی طرف دیکھیں تو انھوں نے اپنی قومی زبان کو خود اہمیت دی۔ اس کی ایک بڑی مثال چین بھی ہے۔ جب چینی صدر کے سامنے انگریزی میں سپاس نامہ پیش کیا گیا تو انھوں ایک شاندار جملہ کہا کہ "چین ابھی گونگا نہیں ہوا۔”

ثابت ہوتا ہے کہ کوئی بھی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتی جب تک وہ اپنی قومی زبان کو اہمیت نہیہں دیتی۔ چین نے اپنی قومی زبان کو باقی تمام زبانوں پر ترجیح دی اس لیے آبادی میں زیادہ ہونے کے باوجود وہ ملک دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہے۔ اور شاید اسی وجہ سے ہی ہمارا ملک ابھی تک ترقی پذیر ہے۔

کسی بھی قوم کو صفحہ ہستی سے مٹانے کیلئے پہلے اس قوم کے تہذیبی اور ثقافتی ورثے کو مٹانا ضروری ہوتا ہے۔ ہماری قومی زبان ایک میٹھی زبان ہے، جب کوئی ہمارے ساتھ خالص اردو میں بات کرتا ہے تو یقیناً ہم اس سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

ہمیں سر سید احمد خان، علامہ شبلی، میر تقی میر، علامہ اقبال، نسیم حجازی اور ان جیسے کئی ادیبوں اور شاعروں کو نہیں بھولنا چاہیے جنھوں نے اردو کی سربلندی کیلئے بے پناہ ادب تخلیق کیا۔

آج ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی قومی زبان کو دوسری زبانوں پر ترجیح دیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے تعلیمی نظام میں انگریزی کی حیثیت ایک مضمون جتنی ہی رکھیں۔ ہمیں انگریزی کے الفاظ کو اس شیریں زبان (اردو) میں نہیں ملانے چاہیے۔

ہمیں سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور دفاتر میں اردو کو رائج کرنا چاہیے۔ عدالتوں میں اردو زبان نافذ کی جائے۔ پاکستان میں اردو زبان کا نفاذ اس کی ترقی کیلئے بہت اہم ہے۔ اگر ہم ان اقدامات پر عمل کریں گے تبھی ہم دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرسکیں گے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Translate »