اقراء جبار ایم اے اردو،چیچہ وطنی

کوئی بھی قوم یا ملک اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک اس ملک کے عوام یک زبان نہ ہوں اور کوئی بھی نمائندہ یا رہنما ترقی کی منازل کا تعین کرے تو ہر خاص و عام تک اس کی آواز ثمرات پہنچ جائیں تو ہر شہری اس کی افادیت سے آگاہ ہوکر ترقی کی اس تحریک کا حصہ بن سکے اور یہ اس وقت ممکن ہے جب قائد کا فرمان ہر سننے والے کی سمجھ میں آئے اور اس کا استعمال کر سکے۔ قیام پاکستان کے وقت جہاں پاکستان کو اور بہت سے مسائل تھے ۔ وہاں زبان کا بھی مسئلہ بھی تھا۔ اس مسئلے کا حل قائداعظم نے ایک زبان کا تصور دے کر نکالا ۔

 

انہوں نے نومولود وطن کی ترقی و آبیاری کے لیے ایک زبان کو کامیابی اور ترقی کی چابی قرار دیا۔ قائداعظم انگریزی زبان کے ماہر تھے پھر بھی وہ اُردو سے محبت کرتے تھے۔ جب ہم قائداعظم محمد علی جناح کے تصور قومی زبان کی بات کرتے ہیں تو قائداعظم یہ سمجھتے تھے چونکہ ہندوستان مختلف تہذیبوں اورمختلف زبانوں کا گھر ہے کوئی چیز ان کو متحد رکھ سکتی ہے اور ملک ترقی کرسکتا وہ اُردو زبان ہے۔

قائداعظم یہ سمجھتے تھے کہ پاکستان اور اس کی عوام نے ترقی کرنی ہے تو اس کے لیے قومی زبان اُردو کا ہونا ضروری ہے اور یہ وہ زبان ہے جو پاکستان کے سارے صوبوں میں بولی جائے اور پورے پاکستان کے لوگ اس کوسمجھ سکے اور پڑھ سکے یہ ایسی کڑی ہے جو پورے پاکستان کے لوگوں کو ایک مالا میں پروسکتی ہے۔ کیونکہ یہ اس خطے کی سب سے بڑی زبان ہے۔ رمزی نے کہا تھا قومی زبان سے زیادہ کوئی چیز اہم نہیں ہے۔ جو قومی اتحاد اور یک جہتی میں ا پنا کردار ادا کرتی ہے۔

قائد اعظم محمد علی جناح بھی اس حقیقت کو جانتے تھے کہ اس لیے انہوں نے کہا پاکستان کی قومی زبان اُردو ہی ہوگی۔ ہمارے پیچھے رہ جانے کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے کہ ہم نے ابتداء سے ہی اپنی قومی زبان کو چھوڑ کر دوسروں کی زبان کو اپنانے کی کوشش کی ۔

اگر ہم دیکھیں تو ہمارے طالبعلموں کی اکثریت انگریزی میں فیل ہوتی ہے۔ انگریزی میڈیم ہونے کی وجہ سے وہ مختلف شعبہ جات میں وہ کارکردگی نہیں دکھا سکتے ۔ جو وہ اُردو زبان میں اگر سلیبس ہو تو دیکھا پائے تو ان کا ایک بہت سا قیمتی وقت غیر ملکی زبان کو سیکھنے میں لگ جاتا ہے۔ غیرملکی زبان سیکھنے کی وجہ سے وہ جو اصل علم اورفن ہے اس کی طرف انکی توجہ کم ہوتی ہے۔


یہ بھی پڑھیں


ان تمام صلاحیتوں کو زنگ لگنے کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہمیں اُردو پر عبور حاصل نہیں اور آج بھی ہم انگریزی کے پیچھے دوڑ رہے ہیں ۔ دنیا میں جتنی قوموں نے ترقی کی ہے انہوں نے مادری زبان میں پہلے اپنے طلباء کوتعلیم دی ہے۔ ہمارے پیچھے رہ جانے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے مادری زبان کو چھوڑ کر انگریز کے پیچھے دوڑنا شروع کر دیا ہے ۔

شرح خواندگی میں کمی کی بنیادی وجہ انگریزی ؟

ہمیں نہ تو اپنی زبان پر عبور حاصل ہے اور نہ انگریزی زبان پر دوسرا ہمارا کلچرجو ہے یہاں اکثریت زیادہ ان پڑھ اور سادہ لوگوں کی ہے خاص کردیہاتوں میں رہنے والے لوگ ہیں ان کو انگریزی پر اتنا عبور حاصل نہیں ۔ وہ انگریزی سیکھتےسیکھتے اپنی مادری زبان اور اُردو سے بھی دور چلے جاتے ہیں۔ آج بھی وقت ہے کہ ہم اپنے ملک پاکستان کو ترقی کی شاہراہ پرگامزن رکھنا ہے تو ہمیں اپنی قومی زبان اُردو سے محبت کرنا ضروری ہے۔

اس لیے آج بھی پاکستان کے ہر شہری کو اس کو پڑھنا چاہیے سیکھنا چاہیے اورسمجھناچاہیے۔ ہمارے ہاں تعلیمی نظام میں ذریعہ تعلیم ہونے کی وجہ سے لوگوں کو بہت ساری مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ ہمارے ہاں انگریزی جاننے اورسمجھنے والے لوگ پہلے ہی کم ہیں اور اب یہ ظلم کر دیا گیا ہے کہ گورنمنٹ نے دیہاتوں کے سکولوں میں نرسری سے پرائمری تک انگریزی تعلیم لازمی کر دی ہے۔ جو ایک دیہاتی طالبعلم کے لیے بہت بڑا ظلم ہے۔

قائد اعظم سمجھتے تھے کہ ہندوستان کے لوگ اگر کسی بات کو جانتے اورسمجھتے ہیں اور جوان کے درمیان رابطے کا ذریعہ بن سکتی ہے وہ اُردو ہے اور کوئی زبان اتنی وسعت نہیں رکھتی اور اس قدر بڑی زبان نہیں ہے کہ اس کو اپنا کر یا اس کو قومی زبان قرار دے کر ان کے درمیان اتحاد اور اتفاق کو قائم رکھا جائے ۔

انگریزوں نے طویل عرصہ برصغیر پرحکومت کی اور انگریزی رائج کردی۔ اپنی جوزبان ہے قائد اعظم کے بقول اُردو ہے اور یہ وہ زبان ہے کہ پاکستان کا ہر شہری بڑی آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا ہے، بول سکتا ہے اور لکھ سکتا ہے۔ قائد اعظم اپنی قومی زبان کو اس لیے رائج کرنا چاہتے تھے کہ قوم احساس کمتری کا شکار نہ ہوں ان کی اپنی زبان ہوگی جو سب پاکستانیوں کے درمیان رابطے کا ذریعہ ہوگی ۔

قائداعظم یہ سمجھتے تھے کہ اگر پاکستان اور پاکستانیوں نے ترقی کرنی ہے تو اس کے لیے اُردو زبان کا جاننا بہت ضروری ہے۔ یعنی دنیا میں نام پیدا کرنا ہے ملک کو ترقی دینی ہے تو اس کے لیے اُردو زبان پرعبور حاصل کرنا ضروری ہے۔ جس طرح ہمارا قومی پھول چنبیلی اور قومی کھیل ہا کی ہے ۔

اسی طرح ہماری قومی زبان اُردو ہے۔ یہ ہماری پوری دنیا کے 202 ممالک میں بولی جانیوالی زبانوں کے درمیان یہ ہماری پہچان ہوگی۔ یہ پاکستانیوں کی زبان ہے۔ اس کی ترقی کے لیے ہمیں تن من دھن لگا کر کوشش کرنی چاہیے تا کہ یہ پاکستان کی زبان بن کر اس کے جذبات کی ترجمانی کر سکے ۔

آج بھی اگر ہم ملک کو تیسری دنیا کے ممالک سے نکال کر ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرنا چاہتے ہیں تو اُردو زبان کو ذریعہ تعلیم ، کاروبار ثقافت بنانا ہوگا اور اس زبان کو بول کر لکھ ہمیں دنیا میں نام پیدا کرنا ہوگا۔

4 thoughts on “اردو کے بجائے بدیسی زبان پر انحصار خوداعتمادی کی کمی ، قومی انحطاط کی بنیاد”
  1. Hi,
    Urdu zuban sikh to lien lykin msla ya ha.. ap kisi b govt adary ma jaa kr dekh lien log ap par roab daalny k lia English bolny lag jien gy .. humare bazurg afrad jo janty hi urdu hn wo dar jaty hn.

    Regards,
    Usman Khadam.
    Al maaruf chichawatni waly.

    1. اسلام علیکم آپ کی بات سو فیصد درست ہے ،اصل میں ہمارا بنیادی مسئلہ انگریزی زبان نہیں بلکہ اس سے مرعوبیت ہے ،اور ہم سب کو مل کر اسی ذہنیت سے لڑنا ہے جو ہماری قومی خوداعتمادی کی بحالی میں رکاوٹ ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Translate »