فضل الرحیم اعوان

کیا سانحہ مری موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا ایک حصہ ہے ۔اگر واقعی ایسا ہے تو ہمیں کیا کرنا جائیے اس سلسلہ کا یہ معلوماتی مضمون ضرور مطالعہ کیجئے۔

4 جنوری 2021 سے شروع ہونے والی بارشوں اور ملکہ کوہسار مری پر برفباری سے جو نقصانات ہوئے اس کا ہم سب کو انتہائی دکھ اور صدمہ ہے۔ اس سلسلہ میں انسانی جانوں کے تحفظ کیلئے مختلف افراد کی انفرادی اور اجتماعی کوششیں بھی قابل تعریف ہیں۔اور معاشرے میں ایسے لوگ بھی موجود ہوتے ہیں جو اس موقع پر لوگوں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے پیٹ بھرنے کی کوشش کرتے ہیں انہیں اصلاح کی ضرورت ہے۔

برف باری کا مشاہدہ کوئی نہیں چیز نہیں اس مقصد کیلئے لوگ مخصوص موسم میں لوگ عرصہ دراز سے مری اور دیگر پہاڑی علاقوں کا رخ کرتے رہے ہیں۔ بچے برف سے کھیلتے دیکھے گئے کوئی برف سے مجسمہ سازی میں مصروف دیکھا گیا تو اس سے گیند تیار کر کے کھیلنے میں مصروف پایا گیا۔ اس موقع پر کئی لوگ سیلفیاں بناتے دیکھے گئے۔ برف اور ہرے بھرے درخت پہاڑوں کی ضرورت ہیں۔

سُنا ہےکسی زمانہ میں ایک دانشور سیاح جب مری کی سیر کیلئے آیا تواس نے بتایا کہ زمین میں پہاڑوں کے بیچوں بیچ اتنا درجہ حرارت موجود ہے اور اتنا لاوہ ہے جس کے پھٹنے سے زلزلے اور تباہی برپا ہو سکتی ہے درختوں اور ٹھنڈے سائے اور برفانی ٹھنڈک اسے کنٹرول کرتی ہے۔ برف باری تو ہر سال ہوتی ہے لیکن اس سے اتنے بڑے نقصانات کبھی نہیں ہوئے جو اس سال برفباری کے موسم میں دیکھنے کو ملے۔

بعض اوقات بچوں کی ضد سے بڑے مجبور ہو جاتے ہیں کہ وہ برف باری دیکھنے کیلئے پہاڑوں کا رُخ کریں اسی سلسلہ میں جو لوگ اس موسم میں مری کی سیر کو نکلے اور واپس گھروں کو نہ لوٹ سکے شاہد مری کی طرف جانے کیلئے انہوں نے بظاہر کوئی غلط فیصلہ نہیں کیا۔ ان سے طنز مزاح کرنے والے سُن لیں کوئی شخص اتنا بے وقوٖف نہیں ہوتا کہ وہ اپنی موت کو خود دعوت دے۔


یہ بھی پڑھیں


اس سلسلہ میں سوشل میڈیا کے مختلف چینلز نے مری کے مقامی افراد کے عدم تعاون اور ان افراد کے بارے میں جنہوں نے ان مجبور افراد کو بغیر کسی لالچ کے اپنے گھروں سے امداد کی بارے میں اپنے اپنے تاثرات بتائے ۔ معاشرے میں سارے انسان ایک جیسے نہیں ہوتے ان میں ہمدرد لوگ بھی موجود ہوتے ہیں اور بے حس بھی۔

کتنے سیاح گرمی کے موسم میں تیراکی کے شوق سے پانی کی طغیانی کی نذر ہوجاتے ہیں انہیں شاہد کوئی اندازہ نہیں ہوتا کہ پانی کی گہرائی کتنی ہے ورنہ اپنے آپ کو ختم کرنے کی کوشش کون کرتا ہے؟

ستمبر 1992 میں چند روز کی مسلسل بارشوں کے بعد سیلابوں کا ایک ایک ایسا سلسلہ آیا جس سے کئی مکانات گرنے کی وجہ سے انسانی جانوں کا نقصان ہوا۔ اسی دوران ضلع ایبٹ آباد کے گائوں بٹنگی میں پوراپہاڑ پھٹ جانے کی وجہ سے جو مالی اور جانی نقصانات ہوئے وہ آج بھی ہمیں یاد ہیں۔ بٹنگی تک رسائی کیلیئے پُل بھی نہیں تھے اور مری سے ڈونگا گلی کے راستے یہاں تک پہنچنا ناممکن تھا۔

ہرو میں اتنا پانی تھا کہ اسے عبور کرنا کسی کے بس کی بات نہیں تھی۔ 2005 کے زلزلوں سے جوجانی اور مالی نقصانات ہوئے وہ بھی ابھی تک نہیں بھولے نہیں جا سکے۔ اس دوران میں اسلام آباد میں تھا جب زلزلہ آیا تواس کے خوف سے کئی لوگوں کو گھروں سے پاہر نکلتے دیکھا۔ اسی دوران بڑی بڑی بلڈنگز زمین بوس ہونا شروع ہو گئیں۔ پہاڑی علاقوں میں جو انسانی اور مالی نقصانات ہوئے تاریخ کا ایک حصہ ہیں۔

اس کے بعد زلزلوں کے آفٹر شاکس شروع ہونے لگے جو کئی روز تک جاری رہے۔ ان سارے عوامل کی جو وجہ میری سمجھ میں آئی ہے وہ ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے موسمایتی تبدیلیوں کا عمل ہے۔ درختوں کی کمی سے درجہ حرارت میں روز بروز تبدیلیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ مخصوص موسموں کے علاوہ بارشوں ،اولوں اور برف کا برسنا فصلوں کیلئے نقصان دہ ہوتا ہے اس سے قحط سالی جنم لیتی ہے۔

مری میں برفباری اور نشیبی علاقوں کے مسائل

اس سلسلہ میں 11 فروری 2016 کا دن بھی میرے مشائدات میں شامل ہے اس روز برف کا پھیلائو مری کے نشیبی علاقوں تک تقریباً 25 کلومیٹر تک تھا میں اس کی تصویر بھی اس مضمون کے شامل کر رہا ہوں۔ اتفاقاً موجودہ پھلائو مری اور گلیات کے علاقوں تک یعنی بالائی علاقوں تک محدود رہا اور یہ علاقے برف باری کا مرکز بنے رہے۔

یہ حالات ویسے بھی مری میں جب بارشیں برستی ہیں تو ہوا کے ساتھ نشیبی علاقوں بھی بارشوں کے برسنے کے قوی امکانات ہوتے ہیں۔ اور ایسا بھی دیکھا گیا کہ مری میں بارش برسی نشیبی علاقوں کے لوگوں کو اس کی خبر تک نہ ہوئی اور ندی ہرو کے طغیانی نے مویشیوں کو اپنی لپیٹ لے لیا۔

مری کے حالات پر مختلف میڈیا چینلز نے اور سوشل میڈیا نے مختلف انداز فکر یا اپنی اپنی سوچ کے مطابق تبصرے کئے۔ تین بار صوبائی حکومت سے گرین جرنلزم ایوارڈ کے حصول نے مجھے مجبور کیا کہ قارئین تک اپنے مشاہدات پہنچا سکوں۔ پانچ سال قبل فروری میں اور اس سال جنوری میں برف باری موسمیاتی تبدیلیوں کے ٹائم ٹیبلز کا ایک حصہ ہے۔

22 اکتوبر 2021 کو گرمی محسوس ہو رہی تھی اسی اثنا میں ہوا کی طوفانی لہروں کے بعد اولے برسنا شروع ہو گئے اور اچانک موسم تھنڈا ہو گیا۔ایک سال میں نے مئی کے مہینہ میں بھی ژالہ باری کا مشاہدہ کیا۔ ایک دوسرے پر الزام تراشیاں اگر حقائق کے منافی ہوں تو ان پر ہر گز توجہ نہ دی جائے وقت کی ضرورت ہے زیادہ سے زیادہ شجر کاری اور دیگر ماحولیاتی اصولوں پر عمل کر کے آنے والی نسلوں کو ان سانحات سے بچایا جائے جو ہمارے مشاہدات میں آچکے ۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Translate »