فاطمہ خیری

وہ بات کرے تو ہر لفظ سے خوشبو آئے
ایسی بولی وہی بولے جسے اردو آئے

ہماری قومی زبان اردو بڑی پیاری اور شائستہ زبان ہے جو دنیا بھر میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔تعلیم و تربیت کے لئے وہی زبان موزوں ہوتی ہے جسے تعلیم پانے والے آسانی سے سمجھ سکیں۔اس طرح قوم کا ذریعہ تعلیم بھی اس قوم کی تعمیر و تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ چنانچہ جو قومیں اپنے زبان کو ذریعہ تعلیم کے لئے نہیں اپناتی، ان کے طالب علموں میں وہ قومی کردار پیدا نہیں ہوتا۔ جو اس قوم کی امنگوں اور عزائم کا آئینہ دار ہوتا ہے۔اور نہ ان میں وہ صفات پیدا ہو سکتی ہیں جو ان قوموں کی انفرادی شخصیت کا حوالہ بنتی ہیں۔ پاکستان میں ذریعہتعلیم پاکستان کی قومی زبان اردو ہی کو ہونا چاہئے

ہمارے ملک میں گزشتہ چوہتر سال سے اردو کے بجائے انگریزی زبان نافذ ہے۔ سرکاری و پرائیویٹ دفاتر، تعلیمی ادارے،کاروبار مملکت اور عوامی مقامات پر انگریزی زبان کی گرفت مضبوط ترین ہوتی جا رہی ہے۔ انگریزی زبان کا ایسا رعب ہمارے اذہان پر چھایا ہوا ہے کہ ہمیں اردو میں دو چار الفاظ انگریزی کے ملائے بغیر سکون ہی نہیں ملتا۔ بلکہ دوران گفتگو اردو میں انگریزی کے دو چار الفاظ نہ بولنے والے کو پڑھا لکھا ہی نہیں سمجھا جاتا۔ ہمارے ملک کا اعلی طبقہ انگریزی ہی کے ذریعے عوام پر اپنی برتری جتانے اور قائم رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔اس لیے اعلی ملازمتوں پر اپنی اجارہ داری قائم رکھنے کے لیے وہ اپنے بچوں کو تعلیم بھی انگلش میڈیم اسکولوں میں دلواتے ہیں۔


یہ بھی پڑھیں


یعنی تمام علوم و فنون میں ماہرین کو خود کو پڑھا لکھا ثابت کرنے کےلیے اردو زبان کو زخمی کرنا پڑتا ہے۔
دفاتر میں جائے تو وہاں انگریزی میں خطوط پکڑا دیے جاتے ہیں جنہیں پڑھنے اور سمجھانے کےلیے انگریزی دان کی ضرورت پیش آتی ہے۔ عوامی مقامات پر انگریزی اشارات پر مشتمل بورڈ لگے ہوتے ہیں جنہیں ایک ناخواندہ یا کم تعلیم یافتہ شخص کےلیے پڑھنا نہایت مشکل بلکہ ناممکن ہوتا ہے۔

اسکول و کالج میں انگریزی کی کتب کی بھرمار ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں حاملین اسناد (ڈگری ہولڈرز) تو بہت ہیں لیکن ماہرین فن نہیں ہیں۔
اردو بھی تو ایک زبان ہے لیکن اس کے ماہرین کو کوئی پوچھتا ہی نہیں۔ اس لیے لوگ اردو کے بجائے انگریزی پر زیادہ توجہ دیتے ہیں اور خیال کیا جاتا ہے کہ انگریزی میں ماسڑز کی ڈگری کی بہت اہمیت ہے۔

ہمارے تمام امتحانات انگریزی زبان میں ہوتے ہیں۔ کوئی طالب علم کسی علم و فن میں مہارت حاصل کرلے یا کسی دوسری زبان بالخصوص اردو میں ماسٹرز کرلے بلکہ حقیقی معنوں میں ’’ماسٹر‘‘ ہوجائے، لیکن اسے ہر قیمت پر انگریزی زبان میں ماہر ہونا پڑتا ہے۔ اگر وہ انگریزی میں ماہر نہیں تو کوئی امتحان بالخصوص سی ایس ایس وغیرہ جیسے اہم ترین امتحانات پاس کرنا ناممکن ہے۔

اردو ہے جس کا نام ہم جانتے ہیں داغ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے

صرف انگریزی ہی اعلیٰ تعلیم کا معیار ہوتی تو یورپ و امریکا میں ریڑھی بان بھی روانی کے ساتھ انگریزی بولتے ہیں لیکن انہیں تو تعلیم یافتہ خیال نہیں کیا جاتا لیکن ہمارے معاشرے میں علم کا معیار ہی کچھ اور ہے۔ اگر ہم ترقی یافتہ ممالک کی طرف نظر دوڑائیں تو ہم یقیناً اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ انہوں نے اپنی قومی زبان کو ہی اپنایا، اسی میں تعلیم دی۔ جس کی وجہ سے ان کے ہاں ماہرین فن پیدا ہوئے، جنہوں نے ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔

اردو کو اس کے جائز مقام سے محروم رکھنے کے لیے ہمارا انگریزی دان طبقہ اردو کی مائیگی اور پسماندگی کا رونا روتا۔ اردو زبان میں مروجہ علوم اور جدید سائنسی و فنی اصطلاحات کی کمی کا بہانہ کرتا ہے۔ اس کے برعکس حیدر آباد دکن کی جامعہ عثمانیہ کی مثال اپنی نظیر آپ ہے۔ جہاں اردو کو ذریعہ تعلیم بنانے کے لیے فلسفہ ریاضی، کیمیا،طبیعیات، طب اور دیگر جدید علوم کی بے شمار کتابیں انگریزیسے اردو میں ترجمہ کی گئیں اور ان کی کتابوں کی مدد سے کالج کی ابتدائی سطح سے لے کر یونیورسٹی کے انتہائی درجہ تک تعلیم و تدریس کا سارا سلسلہ اردو میں کامیابی سے ہوتا رہا۔

جاپان جیسے چھوٹے ملک میں جاپانی زبان ہی ذریعہ تعلیم ہے جس کی حیرت انگیز معاشی ترقی اور مالیاتی استحکام سے امریکی اور یورپ تک خائف ہے۔ اہل چین نے تمام جدید علوم میں نہیں، اپنی چینی زبان میں حاصل کیے ہیں۔
اگر ہم بھی ترقی کرنا چاہتے ہیں تو دیگر اہم اقدامات کے ساتھ اور زیادہ سے زیادہ اردو زبان کی اشاعت و ترویج کریں۔

تمام نصابی کتب کا سلیس اردو زبان میں ترجمہ کیا جائے اور اسی کو لازمی قرار دیا جائے۔ دفاتر سے بھی انگریزی کو نکال کر اردو کا نفاذ کیا جائے اور تمام سرکاری کارروائیاں اردو میں ہی انجام پذیر ہونی چاہئیں۔ اسی طرح انگریزی زبان کے الفاظ کو من و عن اردو میں استعمال کرنے کے بجائے ان کا ترجمہ کیا جائے اور اسے قدامت پسندی خیال کرنے کے بجائے حقیقت پسندی سے ترقی یافتہ ممالک کے ان اقدامات کا جائزہ لیاجائے جو انہوں نے اپنی قومی زبان کی ترقی و ترویج کےلیے اٹھائے۔ قومی زبان ہی ملک و قوم کی ترقی کی ضامن ہوتی ہے۔

شہد و شکر سے شیریں اردو زبان ہماری
ہوتی ہے جس کے بولے میٹھی زبان ہماری

4 thoughts on “اپنی قومی زبان کے بغیر آج تک دنیا کی کوئی قوم ترقی نہیں‌کرسکی ،فاطمہ خیری”
  1. Urdu is supported and stands as our National Language but to promote pending National bonding it’s high time to give due missing national Status to All local Provincial Languages in Pakistan. We hope, Present National leadership and Team can make this Positive change to build a strong Pakistan..

  2. ما شا اللہ بھت ھی لاجواب لکھا ہے فاطمہ خیری نے. اردو ھماری قومی زبان بونی چاھیے.

  3. Fatima Khairi has highlighted a very important issue as language is the foundation of a country. It creates pride in a citizen and shows a strength of character.

  4. Canada mein doo official zuban hay
    French aur English
    Aik waqt mein documents dono zubano mein print hotay hein
    Speech bhi Aik waqt mein dono zubano mein Ada Hoti hay
    Urdu aur English Saath Saath schools mein purhani chaye. Kumtur aurr bartar ki koi tafreeq NAHI honi chaiye
    Results iska forun NAHI hoga.
    An all out coordinated effort is required between govt ,education dept, schools private and public representative s of society and media
    Appreciate this effort made to bring awareness of pulling up our Urdu Zaban and prevent it from going into oblivion .
    It is quite an uphill task

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Translate »