Category: تبصرے وتجزیے

ناموس رسالت اور لٹھ بردار جتھے

عتیق الرحمان ایبٹ آباد خوش نصیب ہے وہ جو مر گیا ۔ اور خوش قسمت ترین ہے وہ جو ابھی پیدا ہی نہیں ہوا ۔ اس سے بڑی بدقسمتی اس دور کی کیا ہو گی کہ سچ بولنے کے لیئے بھی ارد گرد نگاہ دوڑانی پڑتی ہے ۔ جھوٹ البتہ دھڑلے سے کہیں بھی اور

نااہلیوں کا منطقی انجام ۔۔۔۔راحت ملک

راحت ملک کوئٹہ پی ٹی ائی سڑکوں پر احتجاج کناں تھی تو جناب اسد عمر اس کے معاشی آدم آسمتھ بتاے جاتے تھے۔پاکستان کا ایک لائق سپوت اور معاشی منتظم جو پچاس لاکھ روپے ماہانہ اجرت پر ایک کمپنی کے مالی امور سرانجام دیے ان کی معاشی استعداد کار کے نتیجے میں مذکورہ کمپنی چند

بھوک ۔۔۔۔۔۔۔خالد قیوم تنولی

سخت سردیاں تھیں۔ بارش اور برفباری نے باریاں لگا رکھی تھیں۔ ہم صبح کسی بات پر روٹھ گئے اور ماں جی سے پیٹھ پر ایک تھپڑ کھا کر بغیر ناشتہ کیے بستہ اٹھایا اور سکول کے لیے نکل گئے۔ ماں جی پکارتی رہ گئیں۔ سکول گاؤں سے بہت فاصلے پر تھا۔ یہی کوئی سات میل

ماماگان کی حکومت اور غریب کی تشریف ۔۔۔۔مسرت اللہ جان

مسرت اللہ جان

ہمارا شمار شہر کے ان سفید پوشوں میں ہوتا ہے جن کی زندگی الحمد للہ اچھی گزر رہی ہے. یہ بھی اللہ تعالی کا شکر ہے. لیکن کبھی سر کو چھپاتے ہیں تو پائوں نکل آتا ہے پائوں کو چھپاتے ہیں تو سر چادر سے باہر نکل آتا ہے اور اگر دوہرا ہوا کر لیٹتے ہیں تو پھر ڈر اس بات کا ہوتا ہے کہ “ہماری تشریف ” چادر سے باہرہوتی ہے اور اگر تشریف چادر سے باہر ہو جائے تو پھر ہر حکومت آتے جاتے لات مارتی رہتی ہیں-اب تو تشریف پر لاتیں مارنے کی اتنی عادی ہوگئی ہیں کہ اگر حکومت آئے اور تشریف پر لات نہ مارے تو ہمیں خود ہی خارش ہونے لگتی ہے کہ ہمیں مار نہیں پڑی..

ماشاء اللہ تبدیلی کے نام پر یہ حکومت جو لائی گئی ہے بقول ہمارے بہت سارے دوستوں کے یہ ماما گان کی وجہ سے آئی ہیں-ہمیں ماما گان سے یہ امید نہیں کیونکہ ماما تو بہت پیار کا رشتہ ہے اور ماں کے بھائی کو ہمارے ہاں ماما کہتے ہیں جسے اردو میں ماموں کہتے ہیں اب اگر یہ ماما گانو کی وجہ سے آئی ہے تو پھر صبح شام ہماری یعنی عوام کی تشریف پر ” لاتیں “کیوں پڑ رہی ہیں .اس کی سمجھ اس حکومت کے آنے سے اب تک ہمیں سمجھ میں نہیں آرہی .کہ آخر ماما گان اس حکومت کے پیچھے کیوں ہیں.

ہائی برڈ نظام کا تسلسل اور نیا ”برڈ“۔۔۔راحت ملک

راحت ملک کوٸٹہ جناب جہانگیر ترین مالی اور سیاسی طور پر موجودہ حکومت کے معماروں میں شمار جبکہ سیاسی سوچ و کردار کے حوالے سے مکمل طورپر جاری ہائی برڈ سیاسی ٹیکنالوجی کی پیداوار ہیں   حکومت کے اندر ان کے اثرورسوخ میں کمی اور بلآخر خاتمہ پچھلے برس کا واقعہ ہے حکومت سے علیحدگی

صحافت ،مقدس پیشے سے مافیاز کی آماجگاہ تک ۔۔۔مسرت اللہ جان

لوگ کہتے ہیں کہ کام کم ہو لیکن معیاری ہو. یہ باتیں ہمیں شعبہ صحافت میں روز سننے کو ملتی تھیں  اور ملتے رہیں گی. لیکن یہ معیار کب بلند ہوگا اور کیسے ہوگا؟ اس بارے میں ابھی تک کسی بھی ادارے نے ہمیں بتانے کی کوشش ہی نہیں کی.شعبہ صحافت میں پچیس سال سے

پریوں کانشہ نسوار اور پختون ثقافت ۔۔۔۔مسرت اللہ جان

خیبر پختونخوا میں نسوار استعمال کرنے والے بیشتر افراد یہ سمجھتے ہیں اور اس کا برملا اظہار بھی کرتے ہیں کہ “نسوار دا خاپیرو نشہ دہ ” یعنی نسوارکا نشہ پریوں کا نشہ ہے ، جن تو کہہ نہیں سکتے کیونکہ خاپیر ی پشتو زبان میں اس لڑکی کو کہتے ہیں جو خوبصورت ہوں .

پی ڈی ایم تطہیر یا تحلیل ؟ ۔۔۔راحت ملک

راحت ملک کوئٹہ 19فروری2021ءکو سیالکوٹ کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 ڈسکہ کے ضمنی انتخاب میں جو کچھ ہوا تھا الیکشن کمیشن اور اعلیٰ عدلیہ اس پر خط تنسیخ پھر چکی ہیں پھر 10اپریل کو اس حلقے میں اچانک دوبارہ پولنگ کرائی گئی اور جو انتخابی نتیجہ سامنے آیا ہے وہ حکمران پی

کلچر اور ہراسمنٹ ۔۔۔۔۔۔۔محمود فیاض

محمودفیاض جینیؔ قریبی مارکیٹ سے شاپنگ کر کے ہاسٹل کے کچن میں داخل ہوئی تو اسکا چہرہ سرخ ہورہا تھا۔ پہلے میں سمجھا کہ دھوپ کی وجہ سے یورپین کی سفید جلد جو تڑکا کھا جاتی ہے اسکی وجہ سے وہ ٹماٹر ہورہی ہے، مگر جب اس نے شاپرز میز پر پٹخے اور نتھنوں سے

سدا بادشاہی خدا کی…….خالدقیوم تنولی

ضروری نہیں کہ ہمیشہ ہی جیب کڑکتے نوٹوں یا کھنکھتے سِکّوں سے بھری ہو۔ بارہا ایسا ہوا کہ بوجوہ جیب اور پیٹ خالی ہوۓ‛ لیکن یہ دورانیہ بفضلِ الہی کبھی بہت طُول نہ کھینچ پایا ۔۔۔ تاہم ایسی کیفیت سے لطف اندوز ہونے کا تجربہ بڑا منفرد ہوا کرتا ہے۔ بندے کی ”میں“ خوب مرتی

1 2 3 4