Category: تبصرے وتجزیے

چہ خر دا خرہ کم وی نو غوگ ئی دا پریکولے دے”

مسرت اللہ جان پشتو میں ایک مثل مشہور ہے” چہ خر دا خرہ کم وی نو غوگ ئی دا پریکولے دے” اس کے لفظی معنی تو یوں بنتے ہیں کہ گدھا اگر دوسرے گدھے سے قد کاٹھ میں کم ہو تو اس کے کان کاٹنے چاہئیے پتہ نہیں یہ کس دل جلے نے کہا تھا

بےخانماں‌ریڈیوآرٹسٹ اورخوگرحمد کا گلہ

  لطیف اللہ داودزئی پشاور جون کا مہینہ شروع ہو تے ہی ہر طرف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ بھی شروع ہو جاتا ہے نفسا نفسی کے اس بدترین دور میں سر کاری ملازمین اپنے تنخواہوں میں اضافے کے لئے سڑکو ں پر نکل کر احتجا جی مظاہروں سے حکومت پر دباو ڈالنے کی کو شش

سیاحت کا فروغ،سلاٸیڈز اور کاغذی منصوبے

مسرت اللہ جان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صوبائی حکومت سیاحت کے فرو غ کیلئے کوشاں ہے اور اس بارے میں مختلف النوع پراجیکٹ بھی چل رہے ہیں .سیاحت کے فروغ کیلئے مختلف علاقوں کو سڑک کی تعمیر سمیت متعدد منصوبوں کو عملی جامہ پہنایا جارہا ہے صوبے کے مختلف خوبصورت مقامات پر کیمپنگ پاڈز کا قیام بھی اس

ملالہ کا بیان ، ٹورازم ڈیپارٹمنٹ اور لائسنس برانچ

مسرت اللہ جان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بچپن سے سنتے آرہے ہیں کہ اگر کسی نے مشہور ہونا ہے تو ” پہ جماعت کے غل اوکڑی ” یعنی علاقے کی مسجد میں اسے ” پوٹی “کرنی چاہئے کیونکہ گندگی کرنے والے کو لوگ زیادہ جلدی جان لیتے ۔ خیر یہ تو اس وقت کی بات ہے جب مساجد

خیبر پختونخواہ کے “ڈمان” اور ہندوستانی فنکاروں کے گھر

مسرت اللہ جان …………………………………………………………………………………………………….. فن لینڈ کے لوگ بھی کتنے ظالم ہیں اتنی خوبصورت اور گوری وزیراعظم کے خلاف ہوگئے ہیں جو ان کی اپنی ہی وزیراعظم بھی ہے ان سے کیا غلطی ہوگئی ہے صرف ناشتے کی رقم سرکاری کھاتے میں ادا کی گئی ہیں جو انہوں نے اپنے خاندان کے لوگوں کے ساتھ

برقی ووٹنگ یا انتخابی عمل کیسے بدلا جائے؟ راحت ملک

راحت ملک ،کوئٹہ —————————————— تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ ساسانی دور حکومت میں بادشاہ سلامت کی خدمت میں رعایا وامراءجو نذرانے پیش کرتے تھے۔ساسانی اسے ”آئین“ کہتے تھے۔سیاسی تاریخ کے ارتقاء بالخصوص یورپ میں جمہوری جدوجہد کے عمال افکار فرانس اور برطانیہ میں شاہی اختیارات پر بتدریج پارلیمان کی بالادستی نے ” آئین” کے

پیارے دا جی گل کے نام……از مسرت اللہ جان

مجھے یاد نہیں کہ میں کبھی ان کے گلے ملا ہوں. عیدین پر لوگ گلے ملتے ہیں لیکن انہوں نے کبھی مجھے گلے نہیں ملایا ‘ بس ہاتھ ملا کر مبارکباد اور سرپر ہاتھ پھیرنا اس کی عادت تھی- یہ وہ احساس کمتری ہے جو میں رہتی زندگی یاد کرونگا. کہ وہ بھی دوسرے لوگوں

سی پیک کی خوشخبری اور سرینا ہوٹل دھماکہ

راحت ملک —— 21اپریل کی شب تقریبا دس بجے کوئٹہ کے واحد پانچ ستارہ سرینا ہوٹل کی پارکنگ میں کار بم کا خوفناک دھماکہ ہوا جس میں پانچ افراد شہید جبکہ 9زخمی ہوئے کوئٹہ شہر جو کئی ماہ سے بم دھماکوں جیسی دھشت گردی سے محفوظ ہو چکا تھا اس دھماکے سے ایک بار پھر

سوشل میڈیا اور تاقیامت کرسی۔۔۔۔مسرت اللہ جان

مسرت اللہ جان اپنے منہ کی بو کسی کو بھی اچھی نہیں لگتی ویسے یہ بو جسے بدبو بھی کہا جاسکتا ہے معدے کی وجہ سے ہوتی ہے جو کچھ ہم کھاتے ہیں ‘ جو ہم بولتے ہیں اس کا اثر ہمارے معدے پر ہوتا ہے اور پھر سڑاند جسے ہم بو سمجھتے ہیں ہمارے

مرد انسان نہیں ہوتا کیا؟۔۔۔محمود فیاض

میں ایک ایسے مرد کو جانتا ہوں جو سات دہائیوں سے زیادہ ایک عورت سے محبت کی مثال قائم کر کے گیا۔ مذاق میں دوسری بیوی لانے کی بات کرنے والا, کبھی اپنی بیوی کو چند گھنٹے نہ دیکھتا تو بے چین ہوجاتا۔ میں نے دیکھی ہے وہ محبت، مرد کی وہ محبت جو شکوہ

1 2 3 4