0 0
Read Time:8 Minute, 29 Second
بینش ادریس ، جماعت دہم ، اسلامیہ انگلش سکول ، ابو ظہبی ، متحدہ عرب امارات

"وہ اردو کا مسافر ہے یہی پہچان ہے اس کی
جدھر سے بھی گزرتا ہے سلیقہ چھوڑ جاتا ہے”

ہماری قومی زبان اردو، ایک ایسی زبان ہے جس کی شیرینی اور پیراے اظہار کی نزاکت ہی اس کی مقبولیت کا سب سے اہم راز ہے. اردو کا لھجہ جہاں پیارومہبت سے دُھلا ہے وہیںیہ حسن و عشق کے سوزوگداز سے بھی مُزین ہے. زبان کا اظہار راے کا سب سے حسین اور بہترین ذریعہ ہے. کسی بھی ملک کی قومی زبان نہ صرف اُس کی پہچان ہوتی ہے بلکہ اتہاد و ترقی کی ضامن بھی ہوتی ہے. زبان اس ملک کی معا شرت اور تہزیب و تمدن کی اساس بھی ہوتی ہے.

دنیا کی پانچ ہزار سالہ تاریخ میں ایک قوم بھی ایسی نہیں جس نے کسی دوسری قوم کی زبان میں ترقی کی ہو. دنیا کے جدید ترین ملک اسرائیل میں کسی کو انگریزی زبان نہیں آتی. کم مدت میں انتہائی ترقی کرنے والا ملک جرمنی ہے. جرمنی میں لوگ انگریزی سے نفرت کرتے ہیں. دنیااسلام کا ترقییافتہ ملک ترکی ہے. ترکی میں” استاد سے لے کر آرمی چیف تک اور سائنسدان سے لے کر چیف جسٹس تک” سارا نظام "ترک” زبان میں ہے
چین میں آپ کو کوئی سرکاری یا نجی عہدیدار انگریزی بولتا ہوا نظر نہیں آئے گا. انڈیا قدامت پسند ملک قوم متحدہ میں بھی آپ کو ہندی بولتا ہوا نظر آئے گا

ایران کے تمام سرکاری ادارے فارسی میں ترتیب دیے گئے ہیں اور ایران سے ہر سال کوئی نہ کوئی نوبل انعام کے لیے ضرور منتخب کیا جاتا ہے. عجیب بات ہے کہ اردو ادب کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے اور انگریزی ادب کی تاریخ آپ کو تین سو سال سے پہلے نظر نہیں آئے گی. لیکن…

"اردو ہمارے لئے گھر کی مرغی دال برابر بے حساب ہے.”

معلوم نہیں کس نے ہمارے دماغ میں گھسا دیا ہے کہ ہم انگریزی کے بغیر ترقی نہیں کر سکتے ساری دنیا "ترقی کر گئی اپنی زبان کی بدولت.”


یہ بھی پڑھیں


اردو ایک زبان کا نام ہی نہیں بلکہ ایک چلتی پھرتی تہذیب کا نام ہے. قائد اعظم محمد علی جناح نے فرمایا:
"پاکستان کی قومی زبان اردو ہے اور صرف اردو ہوگی”.
اس کے خمیر میں اتحاد اور یکجہتی اور رواداری کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے. افسوس کی بات ہے کہ آج بھی ہم اپنی سوچ سے انگریزوں کے غلام ہیں. اردو ہمیں تہذیب سکھاتی ہے. اردو ہماری پہچان تھی، ہے، اور ہمیشہ رہے گی

"سلیقے سے ہواؤں میں خوشبو گھول سکتے ہیں
ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اردو بول سکتے ہیں.”

اردو زبان کی اہمیت اور مقبولیت میں سب سے اہم کارنامہ اس کی محبت اس کی شیریں اور چاشنی ہے. اس کے ساتھ ساتھ دوسروں کو اپنانے کا جذبہ، اپنے اندر دوسروں کو جگہ دینے کی صلاحیت اردو کو دیگر زبانوں سے ممتاز کرتی ہے. اردو، عربی اور فارسی جیسی دو عظیم زبانوں اور ان گنت مقامی بولیوں اور بین الاقوامی زبانوں کے الفاظ سے مل کر بننے والی ایسی زبان ہے جو مضبوط ہونے کے باوجود اپنی شناخت، اپنی ساخت کے اعتبار سے ساری دنیا کی زبانوں میں اپنا تاثر رکھتی ہے

"اردو ہے جس کا نام ہم ہی جانتے ہیں داغ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے”

آج جرمنی، امریکہ، جاپان اور فرانس اس لئے ترقییافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہے کیونکہ انہوں نے اپنی اپنی قومی زبانوں کے ذریعہ تعلیم اور سرکاری زبان کے طور پر فروغ دیا. انگریزی زبان ترقی کی ضامن نہیں ہے. ترقی تو اپنی زبان میں رہ کر بھی کی جا سکتی ہے. ہم بحیثیت قوم انگریزی زبان کے دلدارہ بنے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے آج انگریزی زبان سیکھنا، بولنا ہر شخص کی ضرورت کے ساتھ ساتھ مجبوری بن گئی ہے. ہم نے بھی آدھی عمر گنوا دی انگریزی زبان سیکھتے سیکھتے. اب نہ ہمیں صحیح اردو آتی ہے نہ انگریزی.
"کوا چلا ہنس کی چال اور اپنی بھی بھول گیا.”

معلوم نہیں کس نے ہمارے دماغ میں گھسا دیا ہے کہ ہم انگریزی کے بغیر ترقی نہیں کر سکتے. ساری دنیا ترقی کر گئی اپنی زبان کی بدولت

دکاندار سے کسی چیز کی قیمت پوچھے تو جواب ملتا ہے "ٹو ففٹی” کیوں؟ کیوں کہ اڑھائ سو کہتے ہی گاہک اس کو ان پڑھ سمجھ لے گا. بیت الخلاء سے لیٹرین اور لیٹرین سے "واش روم” بہت ترقی کی ہے ہم نے. چوپال تھی، بیٹھک تھی، ڈرائنگ روم ہوا اور اب پتہ نہیں کیا ہے. "بھائیجان” سے "برادر” اور "برادر” سے "برو”. "آپی”، "بہن”، "باجی” سے ہوتے ہوئے "سِسٹر” اور "سِس” کا سفر بہت تیزی سے طے کیا ہم نے..
"بابا جان” "ابا جان”، "ابوجی” ،”پاپا” اور اب "پوپ” کیا بات ہے باپ کو مختصر کر لیا. اسی سے ملک میں زرمبادلہ آئے گا کیا؟

حیرت ہے کہ "ابھی بھی لوگ کہتے ہیں کہ ترقی نہیں ہوئی.”

"کہہ دو کہ نہ شکوہ لب مغموم سے نکلے
اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے”

گئے دنوں شاید کسی عدالت نے حکم دیا تھا کہ دفتری زبان اردو ہو گی مگر کیا کریں جن لوگوں نے اردو زبان لاگو کرنی ہے وہ تو ایچ ایس این سے نکلے جعلی انگریز ہیں انہیں کیاپتا کہ اردو کیا ہوتی ہے. اردو زبان کے لیے مقتدر غیرہ کا نام سنا کرتے تھے اب تو میڈیا میںاس کا کوئی ہلکا پھلکا ذکر بھی نہیں ملتا.
کیا اردو زبان میں کوئی مسٹر چیپس پیدا نہیں ہو سکتا؟

اگر ہندی اور سنسکرت میں ہزاروں لاکھوں فلموں، ڈاکومنٹری اور معلوماتی پروگرام کا ترجمہ ہوسکتا ہے اور دن رات نیشنل جیوگرافک ڈسکوری اور اینیمل پلانٹ جیسے چینل چل سکتے ہیں تو "اردو” کوایسی کونسی مشکل پیش آئی ہے سوائے اپنی زبان اور قوم سے غداری کے.

اگر چائنا کا سربراہ اپنی زبان میں ساری دنیا سے مخاطب ہو سکتا ہےتو پاکستانی کیوں نہیں؟

"شہد و شکر سے میٹھی اردو زباں ہماری
ہوتی ہے جس سے بولے میٹھی زباں ہماری”

پاکستان میں ہمیشہ الٹی گنگا بہتی ہے. آج تک اردو کو عملی طور پر سرکاری زبان کا درجہ نہیں دیا گیا. انگریزوں نے ہمیں ایسا نظام تعلیم دیا ہے جس سے "کلرک تو پیدا ہو سکتے ہیں لیکن رہنما پیدا نہیں کیے جا سکتے”. انگریزوں نے ہماری تعلیم کے ساتھ ساتھ ہمارے رہن سہن اور روایات کو بھی سلب کر لیا ہے اگر کسی ملک کی زبان کو چھین لیا جائے تو اس کی شناخت ختم ہوجاتی ہے.

انگلش کو ذریعہ تعلیم بنانے کا مقصد اپنے احکام اپنے غلاموں تک پہنچانا تھا اور مشرقی اقدار کو پڑھے لکھے ذہنوں سے کھرچنا تھا مگر ہمارے ماہرینِ تعلیم نے انگریزی کے ذریعے طالب علموں کو تعلیم سے متنفر کرنا اور فیل کرنا اپنا مقصد بنالیا. اب کہاں ہے اردو جس کو پاکستان کی قومی زبان قرار دیا گیا ہے گلیوں میں روتی پھرتی ہے.

اردو زبان کے فروغ میں سرسید، شبلی، حالی، ندوی، ڈپٹی نذیر احمد، میر تقی میر، غالب اور علامہ اقبال جیسے عظیم شاعروں اور ادیبوں نے لازوال ادب تخلیق کیا ہے. اردو زبان کی اہمیت پر چند مشہور شاعروں کے مثالوں سے ہمیںیہ سیکھنے کو ملتا ہے کہ اگر ان شعراء کا کلام دوام حاصل کرسکتا ہے تو ہم بھی اپنی زبان کو بول کر اپنی آنے والی نسلوں تک کے لیے اس کو محفوظ کر سکتے ہیں کہ وہ اپنی زبان بولتے رہیں

"سلیقے سے ہواؤں میں خوشبو گھول سکتے ہیں
ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اردو بول سکتے ہیں”

لیکن افسوس کی بات ہے کہ جب تک آپ اردو کو انگریزی سے مکس نہ کریں تو کوئی آپ کی بات نہیں سنتا انگلش فر فر بولنے والا مجرم بھی کسی افسر کے سامنے ذرا تیزی سے بات کریے تو صاحب بہادر کی ہوا نکل جاتی ہے کہ

"اے کنو ہتھ پا لیا اے.”
اردو بولنے والے معزز کی بات پر دیھان دینا اور کان دھرنا گوارا نہیں. اردو ادب کے شاعر انور مسعود صاحب نے بھی کسی ایسے تجربے کے بعد کہا ہوگا کہ

” ہر شخص کو زبانِے فرنگی کے باٹ سے جو شخص تولتا ہے سو وہ بھی ہے آدمی
افسر کو آج تک یہ خبر ہی نہیں ہوئی اردوجو بولتا ہے سو وہ بھی ہے آدمی”

انور مسعود صاحب نے تو اپنی خواہش بھی ظاہر کی ہے کہ کسی انگریز کے ہاتھوں میں اردو فارم پکڑا ہوا ہو وہ میرے پاس آئے اور درخواست کرے کہ آپ یہ فارم مجھے پر کر دیجئے تو میری سالوں کی تھکن دور ہو جائے گی
ہماری حکومت ستر سال میں بھی اردو کو بطور سرکاری زبان نافذ نہیں کر سکی. کالا ڈیم باغ تو اختلافات کا شکار ہے یہ مان لیا کیا اردو زبان کے لیے بھی اسی طرح کی مخالفت ہے؟ اصل قصہ یہ ہے کہ اشرافیہ نہیں چاہتی کہ عام لوگوں کو بھی سرکاری معاملات کی سمجھ آنے لگ جائے.

عوام بھی عدالتی فیصلے پڑھنے اور سمجھنے لگ جائے اور تھوڑےپڑھے لکھے کو بھی عمرانی معاہدوں کی سوجھ بوجھ آجائے جبکہ انگلش کا فائدہ یہ ہے کہ حکمران جو بھی کرتے رہے ۷۰ فیصد لوگوں کو اس کی سمجھ ہی نہیں آئے گی کہ کیا لکھا ہے.
"بچپن نے ہمیں دی ہے یہ شیرینی گفتار
اردو نہیں ہم ماں کی زباں بول رہے ہیں

ویسے کیسا ظلم ہے کہ سارے ملک کے بچے اپنی زبان بگاڑ چکے ہیں اور انگلش میڈیم میں پڑھنے والے بچے تو اردو زبان الفاظ سے واقف ہی نہیں ہیں. اور آج حالت یہ ہو گئی ہے کہ شاعر کہتا ہے
” میرے کانوں میں مشری گھولتا ہے

کوئی بچہ جب اردو بولتا ہے

اقوام عالم نے اپنی اپنی قومی زبان کو اپنا کر ترقی کی ہے جبکہ ہمارے خیال کے مطابق ہماری زبان ہی ہماری ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے احساس کمتری کا اس سے بڑھ کر عالم اور کیا ہو سکتا ہے اب تو یہ عالم ہے کہ بقول شاعر حسن وہ بھی کہتا ہے کہ

"سب میرے چاہنے والے ہیں میرا کوئی نہیں
میں بھی اس ملک میں اردو کی طرح رہتا ہوں

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Translate »