عائشہ ماہ نور ، ڈاکٹر اے کیو خان کالج آف سائنس اینڈ ٹیکنا لوجی فیز ایٹ، بحریہ ٹاؤن، راولپنڈی

قائد اعظم محمد علی جناح کی برصغیر کے مسلمانوں کے لیئے  ساری جدوجہد مطالبہ پاکستان یعنی الگ وطن کے حصول کے لئے تھی۔وہ ایک آزاد ملک پاکستان میں برصغیر کے مسلمانوں کی دینی،سیاسی معاشی اور معاشرتی آزادی چاہتے تھے۔ یہ آزادی آج بھی قومی زبان کے نفاذ سے مشروط ہے۔ ملک کے وسائل اور مسائل کو قومی زبان کے ترازو میں تول کر بہتر تفہیم حاصل کی جا سکتی ہے۔ بطور شہری ایک دوسرے کو زیادہ سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔

قائد کے ایمان،اتحاد تنظیم کے نصب العین کے حصول کے لیئے ،پاکستان کی ایک رابطہ زبان کا مکمل رائج ہونا بہت ضروری ہے. اردو مکمل رائج ہونے سے پاکستانی عوام ایک دوسرے کے قریب آئیں گے۔ گروہی ریاست اور سیاست کا خاتمہ ہوگا۔

ہماری تو قومی زبان کی حالت کچھ ایسی ہے کہ جس آئین میں پاکستان کی قومی زبان کو اردو قرار دیا گیا۔ سپریم کورٹ کے جس حکم نامے میں اس پر عمل درآمد کرنے کے احکامات جاری کیئے گئے ۔ یہ ملکی آئین اور عدالتی حکم بھی انگریزی میں لکھا گیا۔

مصورِ پاکستان ڈاکٹر محمد علامہ اقبال کا 29 دسمبر 1930ء کو الہ آباد میں پیش کیا گیا دو قومی نظریہ بھی حقیقت میں مسلمانانِ برصغیر کے الگ دینی، ثقافتی، اور تہذیی۔ ستونوں پر کھڑا تھا۔ ان کی بنیاد بھی قومی زبان پر رائج تھی۔ اردو ہماری قومی شناخت اور آپس میں رواداری کے لیے ایک محفوظ چھت مہیا کرتی ہے۔


یہ بھی پڑھیں


قیامِ پاکستان کے وقت مسلمانوں کی اکثر بڑی کتابیں،شاعری اور ادب کے علاوہ اخبارات بھی اردو زبان میں چھپتے تھے۔روزنامہ زمیندار، روزنامہ انقلاب،ہفت روزہ اخبار ،خدام الدین، چٹان سمیت تحریک پاکستان مں اہم کردار ادا کرنے والے اخبار اور رسالے اردو زبان میں شائع ہوتے تھے۔ان کے صفحات پر تحریک پاکستان جا رہی تھی۔ اس وقت تک مسلمانوں کے رابطے کا سب سے بڑا ذریعہ یہی صفحات تھے۔ آج بھی ان کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔

دوسری طرف آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی پاکستان کی نصف سے زیادہ آبادی قومی زبان کے نفاذ نہ ہونے کے سبب مسلسل استحصال کا شکار ہو رہی ہے۔

سرکاری زبان کسی ملک کے رابطے نشرواشاعت اور ابلاغ کا سب سے اہم ترین ذریعہ ہوتی ہے۔قومی اعلانات اور خبریں سرکار اسی زبان میں جاری کرنا مناسب سمجھتی ہے،جس زبان کو اس ملک میں رہنے والے اکثریی لوگ بول اور سمجھ سکتے ہوں۔ اس کے ذریعے ریاست اور اہل ریاست کے درمیان تعلق استوار ہوتا ہے۔

اردو زبان ایک لشکری زبان ہے۔اس کے اندر فارسی، عربی، ترکی ہندی، سنسکرتی سمیت کئی زبانوں کے الفاظ موجود ہیں ۔ قومی زبان کی رو سے مسلمان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔

اردو زبان برصغیر میں مسلمانوں کے علم و فن کی نمائندہ زبان کے طور پر صدیوں سے رائج تھی۔ اردو زبان کی اس وسعت اور کشادگی کے ساتھ ہندوستان مںی مسلمانوں کی جس روایت اور تہذیب نے نشوونما پائی تھی۔وہ ہمارا قومی ورثہ ہے۔

قومی ورثہ ضائع کرنے والی قومیں تاریخ کے صفحات پر زیادہ دیر زندہ نہں رہتی ہیں۔کسی بھی سکول اور مدرسے میں یونیفارم یعنی تمام طلباء کے ایک جسے لباس کا قانون اسی لیئے رائج کیا جاتا ہے تاکہ تمام سماجی طبقات کے بچے اپنے جوتوں اور لباس کی وجہ سےاپنے آپ کو بالاتر یا کمتر نہ سمجھیں۔پاکستان میں اردو کو بطور قومی زبان نافذ کرکے معاشرے مںن طبقوں کی تقسیم اور طبقے کی بنیاد پر تفریق کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح تمام لوگوں کو برابر اوریکساں مواقع ملیں گے۔

دنیا کی تمام قومیں اپنی زبان میں ترقی کرتی ہیں۔ بچوں کا تعلیمی نصاب اس کی قومی زبان میں ہوتا ہے۔ہم جانتے ہیں کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے مابین جرمن، فرنچ اور انگریزی کا کیا مسئلہ پیدا ہوا۔ یورپ کے اتحاد اور اختلاف کی اصل وجہ کیات تھی؟

اردو زبان آج دنیا کی بڑی زبانوں میں شامل ہے۔آج دنیار کی دو سو سے زائد یونیورسٹیوں میں اسے پڑھایا جاتا ہے، لکن افسوس کہ ہمارے ملک مںن صرف اٹھارہ یونیورسٹیاں اپنی قومی زبان میں اعلی تعلیم و تحقیق مہیا کر رہی ہیں۔

بھارت کے زیر تسلط مسلمان آج بھی اپنی زبان کی بقا کی جنگ لڑتے ہوئے اپنا تشخص بچا رہے ہیں ۔
سائنس اور ٹیکنا لوجی کے میدان میں ترقی کرنے کے لئے، ترقی پذیر اور ترقیافتہ ممالک کی طرح ہمیں اپنی قومی زبان مں رہتے ہوئے اسے فروغ دینا ہوگا۔ اس کے ذریعے تعلیمی ماحول اور ہم آہنگی پیدا کی جا سکتی ہے۔ قومی زبان ایک جذبہ پیدا کرتی ہے۔ یہ جذبہ کسی غیر ملکی زبان مں نہیں پایا جاتا۔

ہم نے اگر آج بھی ملک کی ترقی کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنا ہے،تو ہمیں “ایک قوم ایک نصاب” کے علاوہ ملک کے تمام انتظامی امور کو اردو میں انجام دینے کی کوشش کرنی ہوگی۔اگر ہماری نئی نسل اپنی زبان سے ناآشنا رہی،تو پھر ہماری وہ ترقی کیا معنی رکھے گی۔

مرے بچوں میں ساری عادتیں موجود ہے مری
تو پھر ان بد نصببوں کو نہ کیوں اردو زباں آئی
(نور رانا)

مر ی تعلیمی زندگی کے مختصر سے دامن میں اردو کے حوالے سے ایک احساس پایاجاتا ہے۔انگریزی زبان جاننے کے باوجود اردو زبان بولتے ہوئے، ہم سب ہم جماعت اپنے خیالات کو جس اچھے طریقے سے ایک دوسرے تک پہنچا سکتے ہیں، ویسا ہم کسی اور زبان میں نہں پہنچا سکتے۔

اوپر پیش کے گئے حقائق اور دلائل کی موجودگی میں ،قومی زبان کے نفاذ کی اہمیت اور ضرورت صاف ظاہر ہوتی ہے۔ اب پاکستانی ہونے کی حیثیت سے ہمیں خود یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہم نے روشنی والے راستے پر چلنا ہے یا اندھیرے والے راستے کا انتخاب کرنا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Translate »