عطیۃ المعید ، ایم اے اردو ، بھکر

بڑی ایسٹو کریسی ہے زبان میں
فقیری میں نوابی کا مزہ دیتی ہے
اللہ تبارک و تعالیٰ نے فطرتاً انسان کو آزاد پیدا کیا ہے مگر خیروشر میں سے کسی ایک رستہ کو اختیار کرنے کے لیے کچھ حدود و قیود مقرر فرمائے اور انہیں رستوں کے انتخاب پر جزا و سزا کا فیصلہ کیا جائے گا خیر و شر کے رستوں کی مزید وضاحت کرنے کے لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء و رسل مبعوث فرمائے اور خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ و سلم کی محنت شاقہ سے بنی نوع انسان کو ظلمت و تاریکی ، جہالت و غلامی اور ناجائز سزا سے دائمی نجات ملی جس کی بہترین مثالیں ہمیں سیرت النبی صلی اللہ علیہ والہ و سلم اور تاریخ اسلامی کی کتب سے ملتی ہیں ۔

اول زبان:

مسلمانوں کی اول زبان تو عربی ہے لیکن زمین پر مسلمانوں کی وسیع حکومت کی بناء پر فارسی زبان بھی مسلم زبان کہلائی جانے لگی ـ مسلمانوں کی برصغیر کی حکومت کی دوران مسلم اقوام کی یکجہتی کی بناء پر اردو زبان معرض وجود میں آئی لیکن برصغیر میں انگریز حکومت سنبھالتے ہی مسلم تہذیب و ثقافت پر حملہ آور ہوئےـ نہ صرف تہذیب و ثقافت بلکہ مسلم نظام تعلیم ولسان بھی زبردستی ختم کر کے اپنا نظام تعلیم اور زبان رائج و نافذ کی. یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ زبان ہی وہ واحد ذریعہ ہوتی ہے جس کے ذریعہ اپنے افکار و نظریات کسی بھی قوم پر مسلط کئے جا سکتے ہیں اور غالب آیا جا سکتا ہےـ

حقیقت تو یہ ہے کہ زبان ہی کسی قوم کا اصل چہرہ ہوتی ہے ہم مسلمانان برصغیر نے یہ سب قبول نہ کیا اور برصغیر میں مدرسۃ الاسلام قائم کر لیا جو کہ بعد میں کالج اور پھر یونیورسٹی کی شکل اختیار کر گیا پھر مسلمانوں کو مسلم لیگ جیسے پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا اور قائد اعظم اور علامہ اقبال نے مسلم ریاست کے حصول کیلئے کام کیاـ
قائداعظم کی مادری زبان گجراتی آتی تھی لیکن وہ اردو کی تہذیبی و فکری اہمیت سے بخوبی واقف تھےـ ان کے نزدیک اردو نہ صرف برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کے مذہبی ، تہذیبی، سماجی اور معاشرتی رویوں کی آئینہ داری تھی بلکہ یہ کہنا بےجا نہ ہو گا کہ اردو زبان کا پھیلتا ہوا منظرنامہ مسلم امہ کی دوسری زبانوں سے اس قدر فکری و معنوی اشتراک کا حامل ہے کہ یہ زبان برصغیر کے مسلمانوں کے مجموعی دھارے کے ساتھ وابستہ رہنے میں کارآمد ثابت ہو سکتی ہے لیکن قیام پاکستان کے بعد جب کچھ عناصر نہیں اردو کو قومی زبان تسلیم کرنے سے انکاری ہو کر بنگالی کو قومی زبان را ئج کروانا چاہا تو قائد اعظم نے سختی سے ان کی مخالفت کی ـ
یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ مسلمان جب بھی مغلوب ہوئی، خاموش نہ رہی بلکہ اپنی آزادی کے حصول کے لیے ہمہ تن کوشش کرتی رہی جس کی بدولت مسلمانوں نے ایک ہزار سال ہندوستان پر امیر و غریب کی تفریق کیے بغیر ر،کسی کا حق سلب کیے بغیر حکومت کی اور ساتھ ہی ساتھ ساتھ اپنا قومی تشخص ، امتیاز وقار بھی بحال رکھا ـ مسلمان قوم نے ہمیشہ ہی اپنے تعلیمی، تہذیبی و ثقافتی رسوم و رواج اور قومی زبان پر سمھوتتہ نہ کیا ـ

یہ بھی پڑھیں

انگریزی بطور زبان ،علمی مغالطے اور ذہنی مرعوبیت کا شکار نسل نو

وہ عطر دان سا لہجہ مرے بزرگوں کا ،رچی بسی ہوئی اردو زبان کی خوشبو

پاکستان میں اردو نافذ نہ کرنا آئین سے غداری اور بانی پاکستان کے حکم سے انحراف

اردو،دنیا کی ہر زبان کو اپنے اندرجذب کرنے کی صلاحیت رکھنے والی زبان

اردو ہزار قافلہ چہروں کی گرد ہے، اردو نوائے گل کی طرح رہ نورد ہے

قومی زبان:

بات کرنے کا حسیں طور طریقہ سیکھا
ہم نے اردو کے بہانے سے سلیقہ سیکھا

زبان اظہار رائے کا سب سے سے حسیں اور بہترین ذریعہ ہے کسی بھی ملک کی قومی زبان نہ صرف اس کی پہچان ہوتی ہے بلکہ اتحاداور ترقی کی ضامن بھی ہوتی ہے کسی بھی ملک کی ترقی کا انحصار قومی زبان پر ہوتا ہے-

اردو زبان کی اہمیت بلحاظ تاریخ:

تاریخی اعتبار سے اردو زبان ایک شاندار ماضی رکھتی ہیں اردو لفظ ترک لفظ “اوردو” سے نکلا ہے جس کے معانی لشکر یا فوج کے ہیں ـ مغلیہ دور میں اردو زبان نے فروغ پایا جس کی بدولت اسے مسلمانان برصغیر سے منسوب کیا جاتا ہےـ اردو بھارت کی چھٹی، پاکستان کی پانچویں اور دنیا کی نویں بڑی زبان ہے-
زبان کی اہمیت و افادیت کے دو پہلو ہیں ـ پہلا پہلو الفاظ و حروف اور دوسرا پہلو رسم الخط ہے ـاگر زبان کے حروف اور رسم الخط کی حفاظت نہ کی جائے تو زبان ختم ہو جاتی ہےـ اس کی اہمیت سے دشمن بخوبی آگاہ ہے ـ گاندھی کہا کرتا تھا ہمیں اردو پسند ہے بولتے بھی ہیں کیوں کہ اس نے ہندوستان میں جنم لیا لیکن اس کا رسم الخط قرآنی نہیں ہونی چاہیے اگر اردو کا رسم الخط ہندی اور سنسکرت میں ہو جائے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہو گاـ
سرکاری سطح پر ترویج و اشاعت کا حکم:
قیام پاکستان کے بعد قائداعظم کو اتنا وقت ہی نا ملا کہ وہ پاکستان کو اسلامی نظریاتی نہج پر استوار کرتےاور اردو زبان کو قومی زبان رائج کروانے کے عملی اقدامات کر پاتے تاہم ان کے فرمودات و ارشادات سے اردو زبان کے کرنے اور قومی زبان اردو ہی ہونے کا کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ـ

نہ صرف قیام پاکستان کے بعد بلکہ قیام پاکستان سے تقریباً پانچ سال پہلے قائد نے “پاکستان مسلم انڈیا ” دیباچے میں اپنی تجویز اور تصور قومی زبان کو کچھ اس طرح تحریر کیا تھا “پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہو گی” مابعد 10 اپریل 1946 کو آل انڈیا مسلم لیگ اجلاس دہلی کے پلیٹ فارم پر اس بات کا باقاعدہ طور پر اعلانیہ جاری کیا تھا کہ”پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہو گی “-
اردو زبان کو قومی زبان رائج کروانے کے بعد قائد اعظم نے 21 مارچ 1946 کو ڈھاکہ میں جلسۂ عام میں واضح طور پر کہا کہ
“میں آپ کو صاف صاف بتا دوں کہ جہاں تک آپکی بنگالی زبان کا تعلق ہے اس افواہ کی کوئی حقیقت نہیں کہ آپکی زندگی پر کوئی غلط یا پریشان کن اثر پڑنے والا ہے ـاس صوبے کو اور ان کے لوگوں کو حق پہنچتا ہے کہ وہ فیصلہ کریں کہ ان کی زبان کیا ہو گی لیکن میں یہ بات آپکو واضح طور پر بتا دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہو گی اور صرف اردو ، اور اردو کے سوا کوئی اور زبان نہیں جو کوئی آپکو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ پاکستان کا دشمن ہے. ایک مشترکہ سرکاری زبان کے بغیر کوئی قوم باہم متحد نہیں ہو سکتی اور نا کوئی کام کر سکتی ہےـ دوسرے ملکوں کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے پس جہاں تک پاکستان کی سرکاری زبان کا تعلق ہے وہ اردو ہی ہو گی”ـ
مارچ 1948 کو قائد اعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھا : 24
“اگر پاکستان کے مختلف حصوں کو باہم متحد ہوکر ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہونا ہے تو ان کی سرکاری زبان ایک ہی ہو سکتی ہے اور وہ میری ذاتی رائے میں صرف اور صرف اردو ہے”
تحریک پاکستان کے دوران مسلمان قیادت اور عوام نے اردو زبان کے حروف ابجد اور رسم الخط کی بھر پور حفاظت کی مگر آج پاکستانی قوم کا حال کچھ یوں ہے کہ وہ اردو زبان کو انگریزی رسم الخط میں لکھ رہے ہیںـ دن بدن اردو زبان پاکستان میں اجنبی زبان بنتی جارہی ہےـ نسل نوع کا ذریعہ تعلیم انگریزی بنا دیا گیا ہے اور اس زبان کو تعلیم و تربیت کی کنجی سمجھا جا رہاہےـ
متذکرہ بالا بحث سے یہ بات واضح طور پر عیاں ہوتی نظر آ رہی ہے اگر اردو زبان کی گرتی ہوئی صورت حال کو روکا نہ گیا تو ہم اپنے شاندار ماضی سے کٹ کر رہ جائیں گےـہماری تاریخ ، تہذیب و تمدن کی روایت بھی ختم ہو جائے گی کیو نکہ تحریک پاکستان کا سارا سرمایہ اردو ہی میں ہے اور اگر اردو ہی ہمارے پاس نہ رہی تو ہماری تاریخ ، ہمارا ادب، ہماری ثقافت سب کچھ ہمارے لئے اجنبی ہو جائیں گے اور یہ سب ہماری دانستہ و غیر دانستہ غفلت کی بدولت ہی ہو گا ـ

ہمیں چاہیے کہ ہم ملک پاکستان میں اُردو زبان کے نفاذ کے لئے مخلصانہ کوشش کریں ـہماری علمی ، ادبی اورتحقیقی زبان اردو ہے ـ ہمیں اس کا اور اس کے رسم الخط کا تحفظ قومی مقاصد میں شامل رکھنا چاہیےـ مزید برآں بحیثیت پاکستانی قوم ہمیں تربیتی مراحل میں ہی اپنے بچوں میں اُردو زبان کی محبت ڈال دینی چاہیے تاکہ وہ مستقبل میں اردو زبان اور رسم الخط کے سچے محافظ بن سکیں ـ
آخر میں میری دلی دعا ہے کہ اللہ ربّ العزت ہمارے ملک پاکستان اور اردو زبان کی تا قام قیامت حفاظت فرمائیں- (آمین!)
پاکستان زندہ باد اردو زبان پائندہ باد

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Translate »