Amina Jamshed
آمنہ جمشید ،  اسلامیہ انگلش سکول ابو ظہبی ، متحدہ عرب امارات

پاکستان میں قومی زبان کے نفاذ کی اہمیت و ضرورت

وہ کرے بات تو ہر لفظ سےخوشبوآئے
ایسی بولی وہی بولےجسے اردو آئے

دنیابھرکےماہرین تعلیم اس بارے میں یک زبان ہیں کہ تعلیم وتربیت کے لیے وہی زبان موزوں ہوتی ہے جسے تعلیم پانے والے آسانی سے سمجھ سکیں۔ اس مقصد کےلیےہر قوم تعلیم وتربیت کا ایسانظام مرتب کرتی ہے ۔ جس میں کم سے کم وقت میں لوگوں کو اچھی سے اچھی تعلیم دے کرعملی میدان میں لایاجاسکے۔ اس طرح ایک قوم کاذریعہ تعلیم بھی اس قوم کی تکمیل میں اہم کردار ادا کرتاہے۔

چنانچہ جو قومیں اپنی زبان کوتعلیم کے طور پرنہیں اپناتی ہیں، ان کےنونہالوں میں وہ قومی کردار پیدا نہیں ہوسکتا جو اس قوم کی امنگوں اور عزائم کا آئینہ دار ہوتا ہے ۔ اور نہ ہی اِن میں وہ صفات پیدا ہوسکتی ہیں جو ان قوموں کی انفرادی شناخت کا حوالہ بنتی ہیں ۔ اس لحاظ سے اس بارے میں تو یقینا دوآراء نہیں ہو سکتیں کہ پاکستان میں ذریعہ تعلیم پاکستان کی قومی زبان اردو ہی کو ہونا چاہےمگر پاکستان اِن ملکوں میں شامل ہے۔ جہاں اس کی قومی زبان کی بجائے ایک غیر ملکی زبان ذریعہ تعلیم ہے۔

اس افسوسناک صورت حال کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ سرکاری دفاتر اورکاروبار مملکت پر انگریزی زبان کی گرفت مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جاری ہے۔ اگر یہی اردو زبان میں ہوں تو عام لوگوں کےلئے اِن کو سمجھنا آسان ہو جائے اور سادہ لوح لوگوں کو دھوکہ دینا آسان نہ رہے ۔چونکہ ہمارے ہاں کا اعلی طبقہ انگریزی ہی کے ذریعے عوام پر اپنی برتری بنانے اور قائم رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس لیے اعلی ملازمتوں پراپنی اجارہ داری قائم رکھنے کے لیے وہ اپنے بچوں کوتعلیم بھی انگلش میڈیم سکولوں میں دلواتا ہے۔ ان کی دیکھا دیکھی دوسرے لوگ بھی اپنے بچوں کو انگریزی ذریعہ تعلیم والےسکولوں میں داخل کرواتے ہیں ۔


یہ بھی پڑھیں


حقیقت یہ ہے کہ قومی زبان کی بجائے کسی غیر ملکی زبان کوذریعہ تعلیم بنانا ایک زبردست حماقت کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ خواہ یہ زبان اپنی جگہ کتنی ہی ترقی یافتہ کیوں نہ ہو ۔ جاپان جیسے چھوٹے سے ملک کو لیجیے جس کی حیرت انگیز معاشی ترقی اور مالیاتی استحکام سے امریکہ اور یورپ تک خائف ہیں۔ چین کو لیجیے جس نے سامراجی طاقتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کی ترقی کے سارے مراحل طے کیے ہیں ۔ کیا ان کی عظیم الشان ترقی انگریزی ذریعہ تعلیم کی مرہون منت ہے؟

نہیں، ہرگز نہیں ۔

جاپان میں جاپانی زبان ہی ذریعہ تعلیم اور اہل چین نے تمام جدید علوم انگریزی میں نہیں، اپنی چینی زبان میں حاصل کیے ہیں۔ کوریانے بھی تمام علوم کو اپنی زبان میں تراجم کر کے ہی ترقی کی ہے کیونکہ اِس طرح ہر ایک کےلئے انہیں سمجھنا آسان ہو جاتا ہے ۔ارباب اختیار دن رات ہی شکوہ کرتے نہیں تھکتے کہ ہمارا معیار تعلیم روز بروز پست سے پست تر ہوتا جا رہا ہے۔ اور غیرملکی یونیورسٹیاں ہمارے تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں کے فارغ اتحصیل نوجوان کی اسناد کو پہلے کی طرح تسلیم نہیں کر ر ہیں ۔

معیارتعلیم کی اس روز افزوں پستی کے اسباب کی تحقیق کےلیےکمیشن بھی تشکیل دیے جاتے ہیں ۔ اور ان کی طرف سے رپورٹیں بھی پیش کی جاتی ہیں جن میں بھی اسا تذہ کوموردالزام ٹھہرایا جا تا ہے۔ کبھی طلبہ تعلیم میں عدم دلچسپی کا الزام لگایا جاتا ہے اور کبھی گرتی ہوئی معاشرتی اقدارکو الزام دیا جاتا ہے۔ مگر اس روشن حقیقت سے نہ جانے کیوں آنکھیں چرائی جاتی ہیں کہ معیارتعلیم کی پستی صرف اور صرف اس وجہ سے ہے کہ ہمارے ہاں قومی زبان کو ذریعہ تعلیم کے طور پر اختیار نہیں کیا جارہا ۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت حیدر آباد دکن کی جامعہ عثمانیہ کی مثال کو سامنے رکھتے ہوئے نیچے سے اوپر تک ہرسطح پرتعلیم کے لیے قومی زبان اور صرف قومی زبان کواختیارکیاجائے۔ جس طرح حکومت ہائی سکول کی سطح پر جملہ سائنسی مضامین کے لیے اردو میں تدریسی کتابیں تیار کرواتی ہے، اس طرح کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر ماہرین سے کتابیں لکھوائی جائیں ۔ اردو کی ایک خاصیت یہ ہے کہ یہ عوام کو ایک زنجیر میں پرو کر قومی اتحاد کی تشکیل میں مدد کر سکتی ہے علاقائی زبان کے ساتھ ساتھ اردو کو قومی زبان کے طور پر اپنانے سے ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے ۔

علاقائی ادب کے اردو میں تراجم سے اجتماعی قومی شعور کے ارتقا کی منزل کا حصول آسان ہو سکتا ہے ۔اس سے کم پڑھے لکھے لوگوں میں احساس محروم بھی پیدا نہیں ہوتا اور دو طبقاتی نظام کاخاتمہ ہوسکتاہے ۔

نہیں کھیل اے داغ یاروں سےکہہ دو
کہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے

2 thoughts on “قومی کردار کی تشکیل اور ترقی کیلئے اردو کا بطور زبان نفاذ ازبس ضروری ،آمنہ جمشید”

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Translate »