امیر زمان ۔ قلعہ سیف اللہ ، بلوچستان ، متعلم جامعہ اشرفیہ لاہور

پاکستان میں قومی زبان (اردو)کے نفاذ کی اہمیت اور ضرورت

بات کرنے کا حسین طور طریقہ سیکھا
ہم نے اردو کے بہانے سےسلیقہ سیکھا
زبان اظہار رائے کا سب سے حسین اور بہترین ذریعہ ہےکسی بھی ملک کی قومی زبان نہ صرف اس کی پہچان ہوتی ہے بلکہ اتحاد و ترقی کی ضامن بھی ہوتی ہے زبان اس ملک کی معاشرت اور تہذیب وتمدن کی اساس بھی ہوتی ہے کسی بھی قوم اور ملک کی ترقی اس قوم کی قومی زبان پر منحصر ہوتی ہے اس کی سب سے بڑی مثال یہ کہ حضرت آدم ؑ سے لے کر نبی آخرالزماں حضرت محمد ﷺتک تمام انبیاء ؑ نے اپنی ہی زبان کو جملہ مقاصد کے لیے استعمال کیا کسی دوسری زبان کا کبھی سہارا نہیں لیا

آج امریکہ ، جرمنی ، جاپان اور فرانس اسی لئے ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہیں کہ انہوں نے اپنی اپنی قومی زبان کو ذریعہ تعلم اور سرکاری زبان کے طور پر فروغ دیا ایک اور مثال عظیم ملک چین کی ہے جنہوں نے اپنی چینی زبان پر بھروسہ کر کے دنیا کو دیکھا دیا ہے انگریزی زبان ترقی کی ضامن نہیں ہے ترقی تو اپنی زبان میں رہ کر بھی کی جا سکتی ہے ۔چینی صدر کے سامنے جب انگریزی زبان میں سپاس نامہ پیش کیا گیاتو انہوں نے جواب میں ایسا جملہ بولا جو کہ ضرب المثل کی حیثیت حاصل کر گیا۔ان کے الفاظ تھے کہ چین ابھی گونگا نہیں ہوا۔

اردو نظریہ پاکستان کی اساس ہے ، محب اللہ

اردو کو رائج کرکے ہم بہت کم وقت میں‌باوقار اقوام میں‌شامل ہوسکتے ہیں‌،محمد نعمان

اردو واحد زبان ہے جو پاکستان کی تمام اکائیوں‌اور متحد رکھ سکتی ہے ،محمد عیسیٰ

پاکستان کی بنیاد بننے والی اردو ہی پاکستان کی ترقی و خوشحالی دلا سکتی ہے ،محمد عبداللہ

قومی زبان کے بغیر ملکی سالمیت اور فکری یک جہتی کا حصول ناممکن ،ابن انیس

اُردو زبان کی اہمیت :
اُردو زبان پاکستان کی قومی زبان ہے بھارت کی چھے ریاستوں میں بھی دفتری زبان کے طور پر رائج ہے ہندوستان کے قانون میں اردو کا ان بائیس زبانوں میں استعمال ہوتا ہے جن کو دفتری زبان کا درجہ حاصل ہے پاکستان کی کل آبادی کا تقریباً آٹھ فیصد اور بھارت کی آبادی کےتقریبا ًپانچ فیصد لوگ اُردو کو مادری زبان کے طور پر استعمال کرتے ہیں ۔ بھارت کی چھٹی اور پاکستان کی پانچویں بڑی زبان اُردو ہے ۔اردو زبان کو بامِ عُروج تک پہنچانے میں شاعروں ادیبوں اور انگریزوں کا بہت بڑا ہاتھ ہے ۔ پوری دنیا میں خالص اردو بولنے والوں کی تعداد 11 کروڑ سے زائدہے جس کے لحاظ سے اردو دنیا کی نویں بڑی زبان ہے۔
بانی پاکستان قائد اعظم کے ارشادات:
قائد اعظم محمد علی جناح کا پہلا بیان:
1942ء پاکستان مسلم انڈیا دیباچے میں کچھ اس طرح سے تحریر کیا گیا ہے ۔ پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہوگی ۔
دوسرا بیان :
قائد اعظم نے 10 اپریل 1946ء کو اپنے آل انڈیا مسلم لیگ اجلاس دہلی میں فرمایا: میں اعلان کرتا ہوں کہ پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہو گی۔
تیسرا بیان :
21 مارچ 1948ء میں قائد اعظم نے جلسہ عام ڈھاکہ میں فرمایا : کہ پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہو گی ۔
چوتھا بیان :
24مارچ 1948ء میں قائد اعظم نے فرمایا : اگرترقی کی شاہراہ پر گامزن ہونا ہے تو ان کی سرکاری زبان ایک ہو سکتی ہے اور وہ میری ذاتی رائے میں اردو اور صرف اردو ہے ۔
پوری دنیا میں اردو بولنے والے پائے جاتے ہیں عرب ریاستوں کے ساتھ ساتھ برطانیہ ، امریکہ ، کنیڈا ، جرمنی اور آسٹریلیامیں بھی بولی اور اور سمجھی جاتی ہے 1973ء کے آئین کے تحت شق 251 کے مطابق اردو کو دفتری زبان بنانے کا اعلان ہوالیکن عمل نہ ہوا پھر سپریم کورٹ آف پاکستان نے 8ستمبر 2015ءکو سرکاری دفاتر میں اُردو کو بطور سرکاری زبان کے نافذ کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں ۔
تو چند تجاویز ہیں جن پر عمل کرکے ہم وطن عزیز میں اردو کو فروغ دے سکتے ہیں ۔
تمام نصابی کتب کا سلیبس اردو زبان میں ہونا چاہیے ۔
دفاتر میں اردو کو دفتری زبان کا درجہ دیا جائے ۔
سرکاری خط وکتابت اردو زبان میں ہو ۔
عدالتوں کے فیصلے بھی اردو میں لکھے جائیں۔
انگریزی زبان کے الفاظ کو من وعن اردو میں استعمال کرنے کے بجائے ان کا ترجمہ شامل کیا جائے۔
اردو کو سرکاری سرپرستی حاصل ہو۔
صوبائی اسمبلیوں کی کاروائی اپنی لوکل زبانوں کی بجائے اردو میں ہو۔
انگریزی زبان تعلیم پر پابندی لگائی جائے۔
انگریزی زبان کو لازمی کی بجائے آپشنل بنایا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Translate »