ایمن سلیم ، ایف اے ۔ پی ای سی ایچ ایس کالج، کراچی۔

اردو ہے جس کانام ہم جانتے ہیں داغ”
سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے”

انسان جب اس دنیا میں آیا تو نہیں معلوم کہ کس طرح سے گفتگو کرتا تھا لیکن جیسے جیسے آبادی بڑھتی گئی ویسے ویسے جہاں اور ضروریاتِ زندگی،زندگی کا حصہ بنتی گئیں اسی طرح ہر علاقے میں ایک الگ زبان بھی وجود میں آتی گئی ، عربی، فارسی، سرائیکی، انگریزی، سندھی، پنجابی، پشتو،اور دیگر زبانیں دنیا میں بولی اور سمجھی جانے لگیں ۔ علاقے اور شہر اور ممالک وجود میں آتے گئے اور اپنے لئے زبان کا انتخاب کرتے گئے۔ اسی طرح جب پاکستان وجود میں آیا تو ایک ایسی زبان کی ضرورت تھی جو پاکستان کے تمام علاقوں میں بولی اور سمجھی جاسکے۔

اس کے لئے اردو زبان کا انتخاب کیا گیا۔ اردو زبان بہت سی زبانوں سے مل کر بنی ہے ۔اردو کے معنی ‘لشکر’ کے ہیں۔یوں تو ہندوستان میں اور زبانوں کے ساتھ ساتھ اردو بھی بولی جاتی تھی مگر پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد اردو کو قومی زبان کا درجہ دے دیا گیا ۔ مگر یہ ہماری بد قسمتی ہے یا ہمارے ملک کی ، کہ اردو کو وہ اہمیت حاصل نہیں ہو سکی جو بحیثیت قومی زبان کے ہونی چاہیے تھی ۔


یہ بھی پڑھیں


گو کہ اردو بہت پیاری اور میٹھی زبان ہے اور کتنے ہی شعراء نے اس کی شان میں خوبصورت شاعری بھی کی ہے مگر ہمارے ملک کے اشرافیہ آج تک اردو بولنے والوں کو انگریزی بولنے والوں کے مقابلے میں ثانوی حیثیت دیتے ہیں ۔

سلیقے سے ہواؤں میں جو خوشبو گھول سکتے ہیں”
ابھی کچھ لوگ ہیں جو اردو بول سکتے ہیں۔”

اگر بین الاقوامی سطح پر دیکھا جائے تو ان ممالک نے ہی تیز رفتار ترقی کی جنہوں نے ہمیشہ اپنی قومی زبان کی حفاظت کی اور اس کو ہی ذریعہ تعلیم بنایا ۔ ہمارے ہاں نجانے کیوں اب تک بھی اردو سے سوتیلا پن برتا جاتا ہے ۔ اگر آج بھی اردو کو ذریعہ تعلیم بنا دیا جائے تو یقیناً ہماری نئی نسل بہت کچھ کرسکتی ہے ہم منہ بگاڑ بگاڑ کر انگریزی بولنے میں فخر محسوس کرتے ہیں اور اردو کے بہت سے لفظوں کا صحیح تلفظ نہیں بول سکتے ۔

ہم اپنے بڑوں سے سنتے ہیں کہ ایک زمانے میں ٹی وی پر خبریں وہی پڑھ سکتے تھے جو کہ اردو اچھی طرح سے بولتے تھے مگر آج تو اکثریت ہی اتنی غلط سلط اردو بولی جاتی ہے کہ سمجھ نہیں آتا کہ کیا کیا جائے۔ جیسے کتابچہ کو کتا ،بچہ ۔ غلط کو گلت اور ق کو تو ک بہت ہی آسانی سے کردیا گیا ہے۔

وہ کرے بات تو ہر لفظ سے خوشبو آئے”
ایسی بولی تو وہی بولے جسے اردو آئے”

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا ملک ترقی کرے اور ہماری قومی زبان کو فروغ ملے تو ہمکو اسکول، کالج ،محفلوں اور گھروں میں بھی اردو بولنے میں کوئی شرم نہیں کرنی چاہیے ۔ غیروں کی زبان بول کر ہم احساس کمتری کا شکار نظر آتے ہیں۔” اردو کا نفاذ ہمارے لئے باعث فخر ہے” یہ بات بچوں کے ذہنوں میں بٹھا دیجئے تب ہی ہم کامیاب ہو سکتے ہیں۔ورنہ ہمارے بزرگوں کے پاس اس شعر کے سوا کچھ کہنے کو نہ ہوگا ۔

“میرے بچوں میں ساری عادتیں موجود ہیں میری
تو پھر ان بد نصیبوں کو نہ کیوں اردو آئ”.

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Translate »