تصویریں بنا کر مسکراہٹیںلوٹانے والے پاکستانی فوٹو گرافرسے ملئے
On March 17, 2021 by adminصفدرحسین
آپ کسی روز گھر سے اپنی فکروںمیں گم کام پر روانہ ہوںاور راستے میںاچانک کوئی آپ کا راستہ روک کر آپ کو آپ کی ایک خوبصورت سی تصویر گفٹ کردے تو آپ کے احساسات کیا ہوںگے ؟
یقینا ایک لمحے کےلئے آپ مبہوت رہ جائیںگے
آپ بے یقینی کے ساتھ پہلے تصویر کو اور تصویر دینے والے کو دیکھیںگے
اور پھر ایک تشکر بھری مسکراہٹ آپ کے لبوںپر ضرور پھیل جائے گی
کسی کو اچانک سرپرائز د ے کر چہروں پر بکھرتی مسکراہٹ اور خوشی دیکھنے کا تجربہ لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک27 سالہ نوجوان فوٹو گرافر عدیل چشتی محسوس کر رہے ہیں ،2015 سے شروع ہونے والے اس سفر میںوہ اب تک درجنوںتصویریںبنا کر ان کے مالکان تک پہنچا چکے ہیں
آئیڈیا کیسے اور کہاںسے آیا؟
عدیل چشتی نے اس حوالے سے بتایا میں 2016 میںبابا بلھے شاہ کے مزار سے تھوڑے فاصلے پر واقع باباکمال چشتی کے مزار کے پاس تھا میںنے مزار کے خادم ایک بابا جی کو وہاںبیٹھے ہوئے دیکھا ،اور میںنے ان کی تصویر اپنے کیمرے میںمحفوظ کر لی ،گھر واپس آکر میںنے اس تصویر کو ایک ویب سائیٹپر ڈال دیا ،لیکن اس تصویر نے دیکھتے ہی دیکھتے ہرطرف ایک دھوم مچا دی اور یہ میری پہلی کامیاب ترین کلک ثابت ہوئی جس نے میرے لئے فوٹو گرافی کی دنیا کے نئے دروازے کھول دیئے ،کیوںکہ بابا جی کی یہ تصویر کئی عالمی شہرت یافتہ میگزین اور فوٹو گرافی کی ویب سائٹس پر شائع ہوئی .
اور مجھے کئی مقابلوںکا فاتحقرار دلوادیا .
-
کیلاش تہذیب کو زندہ رکھنے والے رحمت ولی کون ہیں؟
- اداس چہروں پر مسکراہٹ بکھیرنے والا پشاور کا چارلی چپلن
اس واقعہ کو تقریبا ایک سال گزر چکا تھا کہ ایک دن مجھے خیال آیا کہ کیوںنہ اپنی خوشی میںان لوگوںکو بھی شریک کیا جائے جو میری کامیابی اور شہرت کاباعث بنے
اگلے روز ہی میںنے بابا جی کی تصویر کو پرنٹ کروایا اور فریم بنوا کر اسی مزار پر گیا اور تصویر ان بابا جی کے حوالے کی .
بابا جی نے پہلے حیرت اور مسرت سے تصویر کو دیکھا اورپھر ہاتھ بڑھا کر وہ تصویر لے لی
مجھے لگا یہ شاید ان کی زندگی کی پہلی تصویر تھی ،اور ان کے چہرے پر طمانیت بھر مسکراہٹ دیکھ کر مجھے بھی دلی طور پر خوشی محسوس ہوئی
چونکہ میری تصویروںکا زیادہ تر موضوع روزمرہ زندگی کی عکاسی ہوتی ہے اور خاص طور پر اکثر ایسے لوگوںکی تصویریںبناتا ہوںجنہیں فکر حیات کے بکھیڑوں میںپڑے پڑے اپنی تصویر بنوانے کا شاید ہی خیال بھی آیا ہو
پہلی تصویر جس نے کامیابی کے دروازے کھول دیئے
عدیل چشتی کے بقول پھر یہ سلسلہ شروع ہوگیا ،پہلی تصویر کی کامیابی نے میرے حوصلے بڑھا دیے اور یہیںسے بطور پروفیشنل فوٹو گرافر میرے کیریر کا آغاز ہوا .
اور مختلف قومی و بین الاقوامی ادارے میری تصاویر خریدنے لگے اور میرے کام کی سپین ،زیوریخ،سوئٹزرلینڈ ،بھارت اور کئی دیگر ممالک میںبھی نمائش ہونے لگی .
اس کے علاوہ میری تصاویر بی بی سی ہندی ،فوربس ،انٹرنیشنل نیوز ،نیٹ جیو ،نیٹمیڈیا اور یور شارٹ جیسے بین الاقوامی زرائع ابلاغ کی زینت بننے لگیں
اس کے بعد میںنے اپنا ایک اصول بنا لیا جو بھی تصویر مجھے خود اچھی لگتی یا کوئی مقابلہ جیتتی تو میںاس تصویر کوفریم بنوا ان لوگوںتک لازمی پہنچاتا.میں عموما لوگوںکو اس وقت تصویریں دیتا ہوںجس وقت ان کے ذہن سے تصویربنوائے جانے کا خیال بھی نکل چکا ہوتا ہے .
ہر تصویر سے جڑی ایک کہانی
1:

بابا کمال چشتی کے مزار خادم بابا جی تصویر 2016 میں بنائی گئی ،جو ایک سال بعد بابا جی کے حوالے کی گئی ،اور یہ تصویر عدیل چشتی کی بین الاقوامی شہرت و کامیابی کا ذریعہ بنی (تصویر عدیل چشتی )
2:

گڑھی شاہو ریلوے ٹریک پر بارش میں چھتری لئے بچے کی اس تصویر نے انہیں بھارت میں بھی متعارف کروا دیا اور انہیں اس تصویر پر انعام بھی ملا (تصویربشکریہ عدیل چشتی )
3:

پشاور کے افغان مہاجر کیمپ میں مقیم اس ننھی پری کی تصویر 2019 میں بنائی گئی اور اس تصویر کو لوٹانے کیلئے انہوں نے چند ماہ بعد خصوصی طور پر لاہور سے پشاور کا سفر کیا اور تصویر بچی کے حوالے کی (تصویر بشکریہ عدیل د چشتی )
4:

ضروری نہیں ہر کوئی خوشی سے تصویر بنوا بھی لے ،اور یہی کچھ اس تصویر میں بھی نظر آرہا ہے ،کیوں کہ بندر میاں ممکنہ طور پرائیویسی کے معاملات کی وجہ سے قدرے ناراض نظرآنے لگے (تصویر بشکریہ عدیل چشتی )
5:

روزمرہ شہری و دیہی زندگی کے موضوعات پر بننے والی متعدد تصویریں عالمی سطح پرپذیرائی حاصل کرچکی ہیں ،اور میری خوشیوں میں شریک ہونا ان لوگوں کا حق ہے اور میرے کام کا مقصد بھی یہی ہے (تصویر بشکریہ عدیل چشتی )
6:

جب لوگوں کو میں ان کی تصویریں دیتا ہوں تو ان کے چہروں پر بکھرنے والی خوشی میرے لئے اطمینان کا باعث بنتی ہے
7:

کبھی کبھار ایسا بھی ہوجاتا ہے آپ بنائی ہوئی تصویر اس کے مالک تک چاہنے کے باوجود بھی نہیں پہنچا پاتے ،چولستان جیپ ریلی کے دوران وہاں موجود ایک خانہ بدوش خاتون کی تصویر لوٹانے جب وہ چار ماہ بعد واپس گئے تو انہیں معلوم ہوا کہ وہ خاتون اپنے قبیلے کے ہمراہ کہیں اور کوچ کرچکی ہیں ،و ہ تین دن کی ناکام تلاش کے بعد گھر لوٹ گئے (تصویر بشکریہ عدیل چشتی )
8:

قانون فطرت ہے کہ آپ جو کچھ دیتے ہیں وہی آپ کو ایک دن لوٹ کر آتا ہے اور یہی پھر عدیل چشتی کیساتھ بھی ہوا جب ان کے ایک طالبعلم نے اپنے ہاتھ سے ان کی بنائی ایک تصویر ان کے حوالے کی ،عدیل کے بقول مجھے اس دن احساس ہوا کہ اچانک ملنے والی خوشی کتنی خوبصورت ہوتی ہے (تصویر بشکریہ عدیل چشتی )
عدیل احمد چشتی نے پانچ سال کے مختصر عرصہ کے دوران متعدد قومی و عالمی فوٹو گرافی مقابلےاور ایوارڈ جیتے ہیں جن میں انٹرنیشنل فوٹوگرافی ایوارڈ پکچرک 2۔0 بھارت ،لندن فوٹو فیسٹول ،اگورا امیجز نمایاں ہیں جبکہ وہ قومی سطح پر ہونے والے تصویری مقابلوں میں بطور جج بھی فرائض سرانجام دے چکے ہیں جن مٰیں اگورا امیج ،انٹرنیشنل چلدڑن فلم فیسٹول کے علاوہ قومی سطح پر تمام بڑی یونیورسٹیوں PUCIT , Beaconhouse , Lums, CMH, UCP, Comsats, UET, Fatima memorial medical college , UOL, Nikon Pakistan میں فوٹو گرافی کے حوالے سے لیکچرز اورتربیتی ورکشاپ میں طلباء کو رہنمائی فراہم کرتے ہیں
تصاویر بشکریہ عدیل چشتی
آپ انہیں انسٹاگرام پر بھی فالو کرسکتے ہیں
https://www.instagram.com/adeelchishti_/
Calendar
| M | T | W | T | F | S | S |
|---|---|---|---|---|---|---|
| 1 | ||||||
| 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8 |
| 9 | 10 | 11 | 12 | 13 | 14 | 15 |
| 16 | 17 | 18 | 19 | 20 | 21 | 22 |
| 23 | 24 | 25 | 26 | 27 | 28 | |