صحافی ومصنف فہد شاہ کشمیر والا میگزین کے بانی اور ایڈیٹر ہیں ،سیاست ،انسانی حقوق ،ثقافت اور ذرائع ابلاغ کے موضوع پر متعدد بین الاقوامی اداروں کیلئے لکھتے ہیں،2020 میں آرایس ایف پریس فریڈم ایوار ڈ کیلئے نامزد ہوئے ،جبکہ 2021 میں انہوں نے ہیومن رائٹس پریس ایوارڈ حاصل کیا


کشمیر کی مزاحمت کا استعارہ سمجھے جانے والے سید علی گیلانی کی پاکستان کے قومی پرچم میں لپٹی میت ان کے کمرے میں رکھی تھی جہاں دروازے کے باہر پولیس اور سیکورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد کمرے میں داخل ہوکر میت حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف تھی ،جبکہ کمرے کے اندرموجود بچے ،خواتین اور مرد انہیں کمرے میں داخل ہونے سے ہرممکن روکنے کی تگ و دو میں تھے ۔

اسی کشمکش میں دھڑام سے دروازہ ٹوٹ گیا اور درجنوں سیکورٹی اہلکار خواتین کی پرواہ کئے بغیر کمرے میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے

سید علی گیلانی کا جس رات وصال ہوا اس وقت کیا صورتحال تھی؟اس بارے میں سید علی گیلانی کے بیٹے نسیم گیلانی نے روداد بیان کی ۔

ان کے بقول اس وقت کمرے میں گھر کی خواتین ،چھوٹے بچے اور چند مرد موجودتھے ،جب کمرے کے باہر موجود سیکورٹی اہلکار زبردستی کمرے میں داخل ہونے کی کوشش کرنے لگے ،جس پر ہم نے دروازہ اندر سے بند کردیا ،اور سارے مردوخواتین دروازے کے پیچھے کھڑے ہوگئے تاکہ انہیں اندرآنے سے روکا جاسکے جو سیدگیلانی کی میت کو زبردستی چھین کر لے جانا چاہتے تھے

لیکن اس کشمکش میں دروازہ ٹوٹ کر زمین پر آن گرا اور سیکورٹی اہلکار کمرے میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے اس دوران دوسرے دروازے سے بھی اہلکار کمرے میں پہنچ گئے


یہ بھی پڑھیں


انہوں نے میت کو چھیننے کیلئے دھکم پیل شروع کردی اور خواتین کا بھی لحاظ نہ کیا ،ہم نے ہرممکن مزاحمت کی لیکن بالاآخر وہ میت کو لے جانے میں کامیاب ہوگئے

نعیم گیلانی بتاتے ہیں کہ 2 ستمبر کو اس وقت صبح کے 3 بج کر 10 منٹ ہوئے تھے جب سیکورٹی اہلکار میت کو زبردستی چھین کر گھر سے نکلے اورمرکزی دروازے کے قریب کھڑی ایمبولینس میں رکھ دی

حالانکہ اہل خانہ نے ان کی تجہیز و تکفین کیلئے کوئی انتظام نہیں کیا تھا لیکن انتظامیہ نے تابوت ،کفن ،غسل سمیت اپنے انتظامات مکمل کر رکھے تھے ،اس وقت سیدعلی گیلانی کےبڑے بیٹے جو کہ دل کے عارضے میں مبتلا تھے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے اور پولیس سے کہا یا تو ہمیں غسل اور کفن کرنے دیں یا طاقت کے زور پر جو مرضی کرو

اس دوران جب سینکڑوں اہلکار سید علی گیلانی کی میت کو اپنے گھیرے میں لیکر اندھیرے میں گم ہوگئے تواس وقت فضا بھارت مخالف نعروں سے گونج اٹھی

 والد کے ساتھ گزرے چند لمحے اور دم آخریں

نسیم گیلانی بتاتے ہیں کہ یکم ستمبر کی شام کو سید علی گیلانی کے معاون نے حسب معمول ان کی خدمت کی ،وہ رات نو بجے کے قریب کام سے واپس آئے تو اپنے والد کے پاس جا کر بیٹھ گئے تو انہوں نے ان کا اور بچوں کا حال احوال پوچھا

اس وقت ان کی حالت کافی بہتر دکھائی دے رہی تھی ، جب میں نے ان سے پوچھا کہ ان کی طبعیت کیسی ہے ؟جس پر انہوں نے جواب دیا الحمد للہ میں ٹھیک ہوں

اس وقت کوئی ایسے آثار نہ تھے جن سے ہمیں کوئی پریشانی ہوتی اور ہم ان کے پاس رک جاتے ۔ میں تھوڑی دیر ان کے پاس رکنے کے بعدمیں نماز پڑھنے چلا آیا

تھوڑی دیر گزری ہوگی کہ مجھے ان کے خادم کی گبھرائی ہوئی آواز سنائی دی ، جو مجھے بلارہے تھے ،انہوں نے کہا نسیم جلدی آجائو مجھے (گیلانی صاحب کی )حالت کچھ اچھی نہیں لگ رہی،میں وہاں پہنچا تو گیلانی صاحب کو جھٹکا سا لگا


یہ بھی پڑھیں


یہ 9:55 کا وقت ہوگا جب ہم نے انہیں ان کے بستر پر لٹا یا اور انہیں آکسیجن لگادی ،لیکن ان کے اعصاب جواب دے رہے تھے اور نبض بھی ڈوب رہی تھی ان کی حالت دیکھتے ہوئے ان کے ساتھ کئی سال سےوابستہ رہنے والے طبی معاون کو بھی احساس ہوگیا کہ حالت کچھ بگڑ رہی ہے

نسیم نے فوری طور پر اپنے بھائی نعیم اور بہنوئی کو بھی بلایا ،اس وقت سب نے بلندآواز میں کلمہ طیبہ کا ورد شروع کردیا جس کے جواب میں ان کے ہونٹ بھی ہلتے ہوئے محسوس ہوئے

رات 10 بجے کا وقت تھا جب کشمیر میں ہندوستان کی مخالفت میں اٹھنے والی سب سے مضبوط اور توانا آواز ہمیشہ کیلئے خاموش ہوگئی ۔

خاندان کو غم کی اس گھڑی میں ڈوبے ابھی چند ہی لمحے گزرے تھے جب انہیں گھر کے باہر غیر معمولی نقل و حرکت محسوس ہوئی ۔کیوں کہ گذشتہ کئی سالوں سے اپنے گھرمیں نظر بند حریت رہنما کی نگرانی پر مامور اہلکاروں کو بھی معاملات کی سن گن مل گئی اور انہوں نے فوری طور پر اپنے اعلیٰ حکام کو آگاہ کردیاتھاتھوڑی دیر قبل ہی نسیم نے ایک مقامی ہسپتال کو اطلاع دی تھی جہاں سے  ایک ٹیم بھیجی گئی جنہوں نے آکر سید علی گیلانی کی موت کی تصدیق کردی ۔اس دوران شیرکشمیر انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے ڈائریکٹر بھی موقع پر پہنچ گئے جنہیں انتظامیہ نے بھیجا تھا

نسیم بتاتے ہیں کہ انہوں نے کشمیر کے دیگر علاقوں میں موجود اپنے عزیزواقارب کو بھی فوتگی کی اطلاع دی اور انہیں فوری طور پر سرینگر آنے کو کہا ۔ان میں سے کئی لوگوں نے آنے کی کوشش کی لیکن پولیس نے انہیں آنے سے روک دیا

اسی دوران بابا کی موت کی اطلاع پورے کشمیر میں پھیل گئی اور ان کی تصویریں سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگیں ۔ اور اس کے ساتھ ہی سیکورٹی اہلکاروں نے رہائش گاہ کے علاقے حیدرپورہ کو اپنے محاصرے میں لینا شروع کردیا ،ذرائع ابلاغ کا علاقے میں داخلہ بند کردیا گیا ،فون اور انٹرنیٹ سروسز بند کردی گئیں

طویل شب غم اور سکوت میں ڈوبی وادی

سید گیلانی کے اہلخانہ کے مطابق ان کی خواہش تھی کہ ان کی تدفین عیدگاہ میں واقع شہدائے کشمیر قبرستان میں ان سینکڑوں شہیدوں کیساتھ کی جائے جو بھارتی حکومت کے خلاف مزاحمت اور مظاہروں میں مارے گئے ۔جہاں ان کے جنازوں میں ہزارہا لوگ شرکت کرتے تھے

لیکن انتظامیہ اس کو ہر قیمت پر روکنا چاہتی تھی اور نئی دہلی سرکار براہ راست تمام معاملات کو دیکھ رہی تھی۔انتظامیہ جائے تدفین کے معاملے پر مکمل خاموش تھی رہائش گاہ پر موجود ماسوائے چند افسران کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا کہ انہیں کہاں دفن کیا جائے گا

کیونکہ 2020 کے بعد سے انتظامیہ نے جنگجوئوں یا جھڑپوں میں مارے جانے والے عام شہریوں کی میتیں شہریوں کے حوالے کرنے کا سلسلہ بند کردیا تھا ،جس کا مقصد لوگوں کے بڑے اجتماعات کو روکنا تھا اب سوال یہ تھا سید گیلانی کی تدفین کہاں ہوگی ؟


یہ بھی پڑھیں


نسیم ان واقعات کو یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں وہ اپنے بھائی اور بچوں کو لینے گھر گئے تو پولیس ان کی رہائش گاہ کی طرف جانے والے راستوں کو خاردارتاریں لگا کر بند کرچکی تھی ۔جب ہم نے اپنا تعارف کروایا تو ان کی گاڑی کو جانے کی اجازت ملی

جب میں کمرے میں داخل ہوا جہاں میت رکھی تھی تو اس وقت کشمیر پولیس کے چیف وجے کمار بھی پہنچ چکے تھے ،جنہوں نے میرے بھائی نعیم سے کہا تدفین کا عمل جلد مکمل ہونا چاہیے کیوں کہ سیکورٹی خدشات موجود ہیں

جبکہ اہل خانہ چاہتے تھے کہ دیگر عزیز و اقارب بھی پہنچ جائیں جس پر میں نے پولیس چیف سے کہا کہ صبح آٹھ بجے تک تدفین ہوجائے گی تاکہ ہمارے دیگر عزیز رشتہ دار بھی پہنچ جائیں اور وہ آخری دیدار کرلیں اور کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوگا کیوں کہ پابندی لگنے کی وجہ سے دیگر لوگ نہیں آسکیں گے ۔

جس پر وجے کمار نے کہا نہیں باقی لوگ بھی آسکتے ہیں

نعیم گیلانی جو کہ سید علی گیلانی کے بڑے بیٹے ہیں پولیس حکام کے ساتھ رابطے میں تھے ۔سب سے پہلے پولیس چیف نے ان سے ان کے والد کی وفات پر تعزیت کی اور کہا کہ وہ کوئی تنازعہ نہیں کھڑا ہونے دینا چاہتے اور نہ ہی خون ریزی چاہتے ہیں ۔

جس کے جواب میں میں نے انہیں کہا ہم نہتے لوگ ہیں جبکہ ہتھیار آپ کے پاس ہیں ہم خونریزی کیسے چاہتے ہیں اور نہ ہی یہ ہم ہونے دینا چاہتے ہیں ۔

ہم پرامن طریقے سے تدفین کرنا چاہتے ہیں ہم آپ کے ساتھ بھرپور تعاون کریں گے لیکن ہمیں کچھ وقت دیں

جس پر آئی جی نے کہا دیکھتے ہیں آپ کو کتنا وقت لگے گا؟

تاہم ان کے ساتھ موجود ایک ایس ایس پی رینک کا آفیسرکافی جارحانہ مزاج میں تھا ،اس نے مجھے کہا کہ آپ یہ سب کچھ ایک گھنٹے میں مکمل کریں

میں جواب دیا کہ ایک گھنٹے میں سب کچھ کیسے ہوسکتا ہے ؟اور کیا آپ ہمیں یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم انہیں رات کی تاریکی میں دفن کردیں ۔اللہ معاف کرے وہ کوئی غلط انسان تھے جو ہم ایسا کریں ،نہیں ہم انہیں دن کی روشنی میں دفن کریں گے

گھر کے اندر کمرے میں پاکستان کے پرچم میں لپٹی سید علی گیلانی کی میت رکھی ہوئی تھی کیوں کہ وہ پاکستان کے شدید حامی تھے جنہوں نے آج ہر ایک زبان پر موجود نعرہ متعارف کروایا تھا

ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے

تھوڑی دیرگزری ہوگی کہ پولیس افسر دوبارہ آئے اور میت کو دفن کرنے کے لئے ان کے حوالے کرنے کاحکم
دیا ۔جس کے جواب میں نسیم نے دوبارہ ان کے اعلیٰ افسران سے بات کرنے کا مطالبہ کیا ۔

نسیم کے مطابق اس وقت گھر کے صحن میں بڑی تعداد میں سیکورٹی اہلکارکھڑے تھے اور کمرے میں پولیس داخل ہوچکی تھی

جب وہ ہم سے میت چھیننے کی کوشش کررہے تھے تو کمرے میں آہ بکا کا عالم تھا اور بچے و خواتین خوفزدہ تھے ۔ہم بھرپور مزاحمت کررہے تھے ،اس دوران ایک پولیس اہلکار جو بجلی کے بورڈ کے پاس کھڑا تھا بار بار کمرے کا بلب بند کردیتا

میں نے اسے کہا تم ایسا کیوں کررہے ہو؟کمرے میں خواتین بھی موجود ہیں

گھر کے باہر بھی گہرا اندھیرا چھایا ہوا تھا اور تھوڑی دوری پر روکے جانے والے میڈیا کے لوگ بھی گھر کے اندر ہونے والے معاملات سے بے خبر تھے ۔

آخر کار وہ میت کو لے گئے

رات تین بجے کا وقت ہوگا جب پولیس نے میت کو حاصل کرنے کی آخری کوشش کی تھی ،وہ زبردستی کمرے میں داخل ہونا چاہتے تھے ،جبکہ کمرے میں موجود لوگ دروازے کو کھلنے سے بچانا کے کیلئے زور لگارہے تھے ،اس دوران دروازہ ٹوٹ کر فرش پر آن گرا اور پھر دیگر اہلکار بھی کمرے میں داخل ہوئے اور انہوں نے میت کو اٹھالیا ،ہم نے پوری مزاحمت کی لیکن انہوں نے ہمارے ساتھ خواتین کو بھی دھکے دیئے

کمرے میں اندھیرا ہونے کی وجہ سے کسی کو معلوم نہیں ہورہا تھا کہ کون کس کو مار رہا ہے ،ہم نے انہیں کہا تم لوگوں کو شرم نہیں آتی ایسا کرتے ہوئے ؟اس کے بعد کمرے کی بتی جلا دی گئی
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں نعیم گیلانی کو کہتے سنا جاسکتا ہے جس میں وہ اہلکاروں سے الجھ رہے ہیں اور انہیں کہتے سنائی دیتے ہیں

ہم اس(جنازے )میں شرکت نہیں کریں گے ،تمہاری مرضی جو کرو کیوں کہ تمہارے پاس طاقت اور اختیار ہے اور ہم بے بس ہیں

جبکہ ایک خاتون کی آواز سنائی دیتی اللہ تمہیں اس کی سزا دے

رات 3 بج کر 10 منٹ پر سیکورٹی اہلکار سید علی گیلانی کی میت کو زبردستی چھین کر کمرے سے نکل گئے ۔دونوں بھائیوں نعیم گیلانی اور نسیم گیلانی نے اپنے الگ الگ انٹرویو میں بتایا کہ جب وہ میت لیکر چلے گئے تو اہلخانہ میں سے کوئی بھی ان کے ساتھ نہیں گیا ۔ہمیں اگلی صبح علم ہوا کہ انہوں نے حیدر پورہ میں تدفین کی ہے

نعیم گیلانی کے مطابق انہیں یقین ہے کہ سرکار نے ان کے والد کی تدفین کے حوالے سے پہلے سے ہی منصوبہ بندی کررکھی تھی اور اس حوالے سے گذشتہ پانچ سالوں سے وہ فرضی مشقیں بھی کرتے رہے ہیں ۔خاص طور پر 5 اگست 2019 کے بعد وہ ہر ماہ باقاعدگی کیساتھ ایسا کرتے آرہے تھے

۔رہائش کے علاقے یعنی حیدر پورہ کومسلسل محاصرے میں رکھا گیا تھا کیوں کہ انہیں علم تھا کہ اگرگیلانی صاحب کو کچھ ہوگیا تو بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوں گے

بعدازاں پولیس نے ایک بیان جاری کیا جس میں سید علی گیلانی کی میت چھیننے کے حوالے سے اہل خانہ کے لگائے گئے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا گیا کہ پولیس نے اہلخانہ کو تجہیزوتدفین میں معاونت فراہم کی تاکہ شرپسند عناصر اس موقع سے فائدہ نہ اٹھا سکیں

نسیم کے بقول اگلی صبح وہ اپنے خاندان کیساتھ قبر دیکھنے گئے ،جہاں گذشتہ رات جنازہ میں شرکت کرنے والے ایک مقامی شخص نے قبر تک ان کی رہنمائی کی جس پر ابھی بھی پولیس کا پہرا ہے ۔اس مقامی شخص نے نسیم کو بتایا کہ جنازہ میں چند مقامی لوگوں کے علاوہ باقی تمام لوگ انتظامیہ اور پولیس اہلکار تھے

 

Translate »