آزادی نیوز


پاک فوج نے محفوظ راہداری اور پناہ طلب کرنے والے افغان نیشنل آرمی (اردو ملی )کے پانچ افسران سمیت 46 اہلکاروں کو افغان حکام کے حوالے کردیا

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ افغان نیشنل آرمی اور سرحدی پولیس کے 46 اہلکاروں جن میں 5 افسران بھی شامل تھے ،نے 25 جولائی کو چترال میں اروند وکے مقام پر پاک افغان سرحد سے محفوظ راہداری کیلئے درخواست کی تھی ،جو ضروری قانونی کاروائی کے بعد اپنے اسلحہ اور مواصلاتی آلات کے ہمراہ پاکستان کی حدود میں داخل ہوئے

جہاں پاک فوج کی جانب سے انہیں ابتدائی علاج معالجہ اورخوراک فراہم کی گئی جنہیں آج ان کے سازوسامان کے ہمراہ باعزت طور پر افغان حکام کے حوالے کردیا گیا ہے


یہ بھی پڑھیں 

  1. افغان فوج کے پانچ افسران اور 41 اہلکاروں‌ کو پاکستان نے پناہ دیدی
  2. طالبان کی رفت و آمد مکمل داستان
  3. ڈیورنڈ معاہدہ اورافغانستان کے زیر قبضہ پاکستان کے علاقے جن پر کوئی بات نہیں‌کرتا
  4. طالبان پاکستان کی سرحد پر پہنچ گئے ،سپین بولدک پر قبضہ ،کابل انتظامیہ کی تردید

واضح رہے کہ اس واقعہ سے دور روز قبل آئی ایس پی آر کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ طالبان کے ہاتھوں اپنی چوکی چھن جانے والے افغان فوج کے اہلکاروں کو پناہ اور راہداری فراہم کی گئی ہے

کیوں کہ افغان نیشنل آرمی کے اروندو چترال سرحد کے بالمقابل افغان سرحدی چوکی کے کمانڈر نے مدد کی درخواست کی تھی ،کیوں کہ مذکورہ دستہ طالبان کی مزاحمت نہیں کرپارہا تھا

امراللہ صالح کا منفی ردعمل

پاکستان کی جانب سے ایک مثبت اور قابل تعریف عمل کے باوجود افغانستان کے نائب صدر امراللہ صالح نے تعریف کے بجائے ایک بار پھر منفی ردعمل اورپاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی روش کو برقرار رکھا

اپنے ایک ٹوئٹ میں افغان نائب صدر نے کہا
پروپیگنڈا کے ذریعے میرے ملک میں پاکستان کا امیج بہتر نہیں ہوسکتا اور نہ ہی حققیت تبدیل ہوسکتی ہے ۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ میرے ملک میں ہونے والی دہشت گردی اور قبضے کااصل منصوبہ ساز پاکستان ہے اور 40 سیکنڈز کاویڈیو کلپ حقیقت کو تبدیل نہیں کرسکتا

قبل ازیں آئی ایس پی آر کی جانب سے افغان فوج کے اہلکاروں کی پاکستان سے مدد کی درخواست کے حوالے سے خبروں کی افغان حکومت نے سخت الفاظ میں تردید کی ۔اور اپنے فوجیوں کی پاکستان میں موجودگی کے حوالے سے خبروں کو بے بنیاد قراردیا

تاہم جب آئی ایس پی آر نے ان اہلکاروں کی ویڈیوز اور تصاویر جاری کیں تو افغان حکام اور بالخصوص نائب صدر امرللہ صالح نے اس کا خیرمقدم اور اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بجائے ایک بار پھر پاکستان کو ہی مورد الزام ٹھہرا دیا

Translate »