مسرت اللہ جان۔پشاور


افغانستان میں امریکی افواج کیساتھ کام کرنے والے دو سو سے زائد افغانیوں کو امریکہ میں سیٹل کرانے کیلئے پہلی فلائٹ افغانستان سے روانہ ہوگئی جبکہ سات سو مزید ویزے لینے کیلئے تیار ہیں

ان افغان شہریوں نے افغانستان میں امریکی افواج کیساتھ بطور مترجم کام کیا تھا اور انہیں خطرہ تھا کہ دوسری حکومت آنے کے بعد انہیں قتل کردیا جائیگا جس کے بعد انہوں نے امریکی ویزہ کیلئے درخواستیں دی تھیں

پہلی فلائٹ میں سپیشل ویزہ پر آنیوالے ان افغانیوں کی تعداد 221 ہے جن میں 57 بچے اور 15 کم سن بھی شامل ہیں افغانستان سے امریکہ جانیوالی یہ فلائٹ ورجینا،ڈلاس کیلئے تھی

افغان ذرائع کے مطابق مذکورہ افراد نے افغانستان پر امریکی قبضے کے بعد 20 سال تک امریکی اور دیگر غیرملکی فوجوں کیساتھ 20 سال تک بطور مترجم کام کیا اور امریکی افواج کے مختلف مشنز میں ان کیساتھ کام کرتے رہے تھے


یہ بھی پڑھیں:


جن میں لوگوں سے معلومات حاصل کرنے سمیت جیل میں قید افغانیوں سے متعلق بھی شامل تھی جنہیں وہ تفتیش کاروں کودوران تفتیش ترجمہ کرکے بتاتے تھے افغان ذرائع کے مطابق سپیشل ویزہ پروگرام کیلئے امریکی افواج نے حکام سے رابطہ کیا تھاجنہوں نے 8000 ویزوں سمیت ان افراد کو آباد کرنے کیلئے 500 ملین ڈالر کی رقم بھی مختص کی تھی

مذکورہ افراد نے افغانستان پر امریکی قبضے کے بعد 20 سال تک امریکی اور دیگر غیرملکی فوجوں کیساتھ 20 سال تک بطور مترجم کام کیا اور امریکی افواج کے مختلف مشنز میں ان کیساتھ کام کرتے رہے تھے

افغانستان سے جانیوالے یہ 221 افراد ان سات ہزار افراد میں شامل ہوگئے ہیں جنہیں سال 2008 سے لیکر اب تک امریکہ نے سپیشل ویزہ پروگرام میں امریکہ سیٹل کروایا ہے ذرائع کے مطابق اب بھی افغانستان میں سات سو کے قریب مزید افراد ایسے ہیں جنہیں ویزے ملنے ہیں

اور انہیں بھی امریکہ اپنے ساتھ وفاداری کے طور پر افغانستان سے امریکہ سیٹل کروائے گا ذرائع کے مطابق افغانستان سے امریکہ جانیوالے ان افغانیوں کا میڈیکل ٹیسٹ سمیت انکے کرونا ٹیسٹ بھی کئے جائینگے

اور کم و بیش ایک ہفتے کے بعد ٹیسٹ کلیئر ہونے پر انہیں ورجینیا سمیت امریکہ کے مختلف ریاستوں میں آباد کیاجائیگا جس کیلئے ری سیٹلمنٹ کرنے والے مختلف غیر سرکاری تنظیموں سے امریکی ادارے رابطوں میں ہیں ذرائع کے مطابق ان افراد کو مختلف جگہوں پر روزگار بھی فراہم کئے جائیں گے

Translate »