0 0
Read Time:5 Minute, 33 Second

آزادی ڈیسک


اگر پاکستان امریکہ کو افغانستان میں کاروائی کیلئے اڈے فراہم کرنے پر رضامند ہوتا ہے تو خانہ جنگی کی صورت میں دہشت گرد پاکستان کو نشانہ بنا سکتے ہیں،عمران خان

اور اب ہم اس کے متحمل نہیں ہوسکتے ،کیوں کہ ہم پہلے ہی بھاری قیمت چکا چکے ہیں ۔اگر امریکہ 20 سال تک افغانستان کے اندررہتے ہوئے جدید مشینری کے باوجود جنگ نہیں جیت پایا تو وہ پاکستان میں بیٹھ کر کیا کرپائے گا ؟

وزیر اعظم عمران خان نے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والی ایک تحریر میں لکھا
پاکستان افغانستان میں امن کیلئے امریکہ کے ساتھ تعاون پر تعاون پر تیار تھا لیکن امریکی انخلاء کی صورت میں ہم مزید کسی تصادم کے متحمل نہیں ہوسکتے

انہوں نے مزید لکھا افغانستان کے حوالے سے پاکستان اور امریکہ کے مفادات ایک جیسے ہیں ،کیوں کہ دونوں ممالک عرصہ دراز سے جنگ سے متاثرہ ملک میں سیاسی استحکام ،اقتصادی ترقی اور دہشت گردوں کی پناہ گاہ نہ بننے دینے کی خواہش رکھتے ہیں


یہ بھی پڑھیں 

  1. پاکستان افغانستان کے اندرونی مسائل کا ذمہ دار نہیں،شاہ محمود قریشی
  2. ماضی کو بھول جائیں ،اب پاکستان محفوظ ہاتھوں میں ہے
  3. ڈرون حملوں‌کیلئے پاکستان کے انکار کے بعد امریکا کے پاس متبادل کیا ہے ؟
  4. بھارت نے افغان طالبان قیادت کیساتھ روابط بڑھانے کی کوششیں تیز کردیں

ہم بزور طاقت افغانستان پر کسی کے حاوی ہونے کی حمایت نہیں کرتے ،کیوں کہ طالبان پورے ملک پر قبضہ نہیں کرسکتے اس سے ملک میں خانہ جنگی کا ایک نیا اور طویل سلسلہ شروع ہوجائے گا ،اس لئے انہیں حکومتی عمل میں شامل کئے جانے کی ضرورت ہے

عمران خان نے مزید لکھا ماضی پاکستان نے مختلف افغان دھڑوں کا انتخاب کرکے غلطی کا ارتکاب کیا ،لیکن ہم نے ماضی کے تجربات سے سیکھا ہے ۔اب ہمارا کوئی بھی پسندیدہ نہیں اور ہم ہر اس حکومت کیساتھ ملکر کام کریں گے جسے افغان عوام کا اعتماد حاصل ہوا ۔

تاریخ نے ایک بار پھر ثابت کردیا کہ افغانستان کو باہر سے آ کر کبھی قابو نہیں کیا جاسکتا

افغانستان میں ہونے والی جنگ سے پاکستان کو پہنچنے والے نقصان کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے لکھا

اب تک ستر ہزار سے زائد پاکستانی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ،امریکہ نے پاکستان کو 20 ارب ڈالر امداد دی جبکہ پاکستان کی معیشت کو ڈیڑھ سو ارب ڈالر کا نقصان پہنچا ۔سیاحت اور سرمایہ کاری ختم ہو کر رہ گئی

شہری آبادیوں کی تباہی پر ردعمل میں پاکستانی فوج پر خودکش حملوں کا آغاز ہوا ،اور اس کے نتیجے میں اتنے زیادہ فوجی افسران مارے گئے جتنے امریکی فوجی افغانستان اور عراق میں جنگوں کے دوران نہیں مارے گئے تھے

امریکی دبائو پر قبائلی علاقوں میں فوج بھیجی گئی ،عمران خان

امریکہ کے ساتھ معاونت پر پاکستان کو خصوصی ہدف بنایا گیا ،جس کے نتیجے میں ملک میں تحریک طالبان پاکستان اور دوسرے گروپوں کی جانب سے دہشت گردانہ کاروائیوں کا آغاز ہوا،ڈرون حملوں سے جن کی میں نے ہمیشہ مخالفت کی جنگ جیتنے میں کوئی مدد نہیں ملی ۔لیکن ان کی وجہ سے امریکیوں کے خلاف نفرت میں اضافہ ہوا ۔اور دونوں ممالک کے خلا ف دہشت گرد تنظیموں کی کاروائیاں بڑھیں

عمران خان نے اپنی تحریر میں لکھا امریکہ نے غلط توقعات پر پاکستان کو افغان سرحد کے ساتھ اپنے قبائلی علاقوں میں پہلی بار فوج بھیجنے پر دبائو ڈالے کہ اس طرح شورش پر قابو پانے میں مدد ملے گیلیکن ایسا نہ ہوا ،بلکہ اس کے نتیجے میں قبائلی علاقوں کی آدھی آبادی دربدر ہوگئی ،جن میں دس لاکھ لوگ صرف شمالی وزیرستان کے شامل تھے ۔ اس کے نتیجے میں اربوں ڈالر کا نقصان ہوا اور پورے پورے گائوں ملیامیٹ ہوگئے ۔

شہری آبادیوں کی تباہی پر ردعمل میں پاکستانی فوج پر خودکش حملوں کا آغاز ہوا ،اور اس کے نتیجے میں اتنے زیادہ فوجی افسران مارے گئے جتنے امریکی فوجی افغانستان اور عراق میں جنگوں کے دوران نہیں مارے گئے تھے ۔بلکہ ان واقعات کی وجہ سے ہمارے خلاف دہشت گردوں کی ایک نئی نسل تیار ہوگئی ۔صرف خیبرپختونخواہ میں 5 سو زائد پولیس اہلکار وافسران ماردیئے گئے

عمران خان نے اپنی تحریر میں مزید لکھا
اگرسیاسی مفاہمت کے بجائے افغانستان میں خانہ جنگی شروع ہوتی ہے تو پاکستان پر مہاجرین کا دبائو مزید بڑھ جائے گا

ہماری اور امریکہ کی افغانستان کے حوالے سے سوچ یکساں تھی ،کیوں ہم وہاں خانہ جنگی کے بجائے مذاکرات کے ذریعے امن چاہتے ہیں ۔ہمیں وہاں استحکام چاہیے تاکہ دہشت گردی کا خاتمہ ہو۔ہم ایسے معاہدے کی حمایت کرتے ہیں جس کے تحت افغانستان میں گزشتہ دو عشروں کے دوران ہونے والی پیش رفت کو تحفظ مل سکے ۔

ہم اقتصادی ترقی چاہتے ہیں ،تجارت کو فروغ اور وسط ایشیا تک رسائی کے خواہاں ہیں ،تاکہ ہماری معیشت آگے بڑھے ۔لیکن اگر وہاں ایک بار پھر خانہ جنگی شروع ہوجاتی ہے تو ہم مزید پیچھے چلے جائیں گے

طالبان کو مذاکرات پر آمادگی کیلئے بھرپور کردار ادا کیا

عمران خان نے اپنی تحریر میں مزید لکھا ،انہی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے طالبان کو پہلے امریکہ اور پھر افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کی میز پرلانے کیلئے بھرپور سفارتی کوششیں کیں ۔کیونکہ ہم سمجھتے تھے اگر طالبان نے بزور طاقت فتح حاصل کرلی تو خونریزی کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوجائے گا

ہمیں امید ہے کہ افغان حکومت بھی مذاکرات میں مزید لچک کا مظاہرہ کریگی ،اور پاکستان پر الزام تراشی کا سلسلہ بند کردیگی اور جیسا ہم سب کچھ کررہے ہیں

یہی وجہ ہے کہ پاکستان روس ،چین اور امریکہ کے سہہ فریقی مشترکہ بیان کا حصہ تھا جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ مذکورہ چاروں ممالک کابل میں کسی زبردستی حکومت کی کوشش کی مخالفت کرینگے

اور افغانستان کے پڑوسی ممالک کی جانب سے یہ بیان اس بات کا اظہار ہے کہ معاملہ کا سیاسی حل نکالا جائے ۔یہ خطے کی ترقی اور امن کی راہیں کھول سکتا ہے ،جس میں افغان حکومت کیساتھ دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کےلئے معلومات کا تبادلہ اور تعاون بھی شامل کیا جا سکتا ہے

افغانستان کے پڑوسی ممالک کوبھی اس بات کی ضمانت دینا ہو گی کہ ان کی سرزمین افغانستان یا کسی بھی دیگر ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی اوریہی ضمانت افغانستان کو بھی دینا ہوگی ۔اور یہ اتحاد افغانستان کی تعمیر و ترقی و بحالی میں معاون ہوگا

وزیر اعظم نے اپنی تحریر میں کہا اقتصادی روابط اور تجارت کا فروغ ہی افغانستان میں پائیدارامن کی بنیاد ہے اور کوئی بھی فوجی عمل بیکار ہے

اگر ہم سب مل کر اپنی ذمہ داریاں ادا کریں تو وہی افغانستان جوعلاقائی ریشہ دوانیوں اور عالمی کھیل کا مرکز بنا ہوا ہے ،علاقائی امن و تعاون کا نمونہ بن کر بھی سامنے آسکتا ہے

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
Translate »