جہانداد خان تنولی 

                                   محقق و تاریخ داں 


بلند پہاڑوں میں گھرے موجودہ مالاکنڈ ڈویژن کے علاقے بونیر کا تاریخ میں تناول کے خطے اور تنولی قبیلے سے گہرا اور دلچسپ تعلق رہا ہے  تاریخ کے صفحات میں دفن ان گم گشتہ ابواب کا مطالعہ ہمیں گذشتہ صدیوں کے دوران تنولی قبیلے کی ہجرت اور سیاسی نشوونما کے بارے میں دلچسپ حقائق سے روشناس کرسکتا ہے ۔

گذشتہ نصف صدی کے دوران بونیر اور تنولی قبیلے کے تعلق کے حوالے سے متعدد کتابیں لکھی گئیں جن کا ماخذ زیادہ ترسینہ بہ سینہ چلتی مقامی روایات اور لوک داستانیں ہیں ۔لیکن اکثر لوک داستانوں میں زیب داستاں کے واسطے ردوبدل کا احتمال ضرور رہتا ہے ۔

لیکن ہم بونیر کی تنولی تاریخ کے ان ہی حصوں کا جائزہ لیں گے جن کا ہمیں کوئی تحریر اور ٹھوس ثبوت مل سکتاہے

1535 سے 1592 کے درمیان واقعات

مہابن یعنی بڑا جنگل اس علاقے کے پندرہویں صدی کے اواخر میں سواتی قبائل کے ہاتھوں تنولی قبائل کو پہلی بار بے دخل کیا گیا ۔تصویر بشکریہ ambstate.com

اگرچہ اس وقت تنولی قبیلے کی اکثریت دریائے سندھ کے مشرقی کنارے پر آباد ہے ،لیکن یوسفزئی قبیلے کی آمد اور حملے سے قبل تنولی قبائل کا دائرہ اثر دریائے سندھ کے مغربی کناروں سے آگے صوابی ،گدون امازئی اور بونیر تک پھیلا ہوا تھا

اخونددرویزہ کی کتاب تذکرہ ابراروالاشرار کے مطابق 1530 میں یوسف زئی سردار ملک احمد تنولی قبیلہ کو کوہ تنول کے علاقوں سے نکالنے میں ناکام رہا

جبکہ سیتھانہ کے سید عبدالجبار شاہ کے مطابق تنولی قبیلے اور ملک احمد کے درمیان بونیر کے مہابن (مہابن سنسکرت کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں بڑا جنگل )پہاڑوں پر مقابلہ ہوا ۔جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس وقت مہابن بونیر پر تنولی قبیلے کا غلبہ اور قبضہ موجود تھا ۔

سید عبدالجبار شا ہ نے لکھا اس واقعہ کے تقریبا 60 سال بعد یعنی 1592 میں یوسفزئی سردار علی اصغر تنولی قبیلے کو مہابن اور صوابی کی پٹیوں گدون امازئی و اتمان زئی کے علاقوں سے نکالنے میں کامیاب ہوا


یہ بھی پڑھیں


ان کے اس دعوے کی تصدیق سولہویں صدی کی اخونددرویزہ کی تحریروں سے بھی ہوتی ہے ،اور اس لحاظ سے بھی مستند تصور کی جاسکتی ہے کہ سید عبدالجبار شاہ کے جد امجد حضرت سید علی ترمذی رحمۃ اللہ المعروف پیر بابا بھی اس وقت ان واقعات کا سرگرم حصہ اور خطے کی اہم سیاسی و مذہبی شخصیت تھے

مقامی تنولی روایات کے مطابق جس وقت تنولیوں کو بونیرچمالہ سے نکالا گیا اس وقت ان کے سردار کا نام فروش خان تھا

نواب خان زمان خان تنولی اپنے لشکر کے ہمراہ تصویر بشکریہ ambstate.com

لیکن ان روایات پر سوال بھی اٹھایا جاسکتا ہے کیوں کہ زبانی داستانیں ان واقعات کا عرصہ 1472 بتاتی ہیں ۔جیسا کہ ہم نے اخونددرویزہ اور سید عبدالجبار شاہ کی تحریروں کا ذکر کیا جس میں تنولی قبیلے کے بونیرپر قبضے کی تصدیق ہوتی ہے اور یوسفزئی حملوں کا زمانہ 1592 بتایا گیا ہے

1952 میں دریائے سندھ کے مغربی علاقوں کو یوسفزئیوں کے ہاتھوں کھونے کے بعد تنولی قبیلے کی ایک اور آزمائش شروع ہوگئی ،جب راجگان پکھلی سرکار نے اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تنولی قبائل سے دریائے سندھ کا مشرق حصہ بھی چھین لیا ۔

ان واقعات نے تنولی قبائل کی قوت کو منتشر کرکے رکھ دیا ،جسے بحال اور مجتمع کرنے اور راجگان سے اپنا غصب علاقوں کو دوبارہ واپس حاصل کرنے میں انہیں مزید چالیس سال بیت گئے

اس بارے میں میں اپنی گذشتہ تحریر پائندہ خان تنولی اور بونیر 1833 میں تفصیلی طور پر ذکر کرچکا ہےتنولی تاریخ کے ابواب میں دوسری مرتبہ بونیر کا ذکر اس وقت دوبارہ آتا ہے جب ان واقعات کے 240 سال بعد تنولی اور یوسفزئی قبائل لاہور دربار کے طاقتور حکمران مہاراجہ رنجیت سنگھ کی فوجوں سے برسرپیکار ہوئے

سید احمد بریلوی کی شہادت کے بعد یوسفزئی اور منادرقبائل کے بارسوخ سرداروں نے پائندہ خان تنولی کو پنجتر کے سربراہ خدوخیل سردار کو نکالنے اور بونیر پر قبضے کی دعوت دی

اس وقت سید احمد بریلوی کے ایک رفیق مولوی نصیر الدین جو پائندہ خان کی حمایت سے اگرور میں آباد ہوئے بونیر میں ہونے والے واقعات کے عینی شاہد تھے

پائندہ خان تنولی اور پنج تار کے سردار فتح خان کو معروف تاریخ داں ہری رام گپتا نے مہاراجہ رنجیت سنگھ کا سب سے بڑا دشمن لکھا ہے ۔دونوں سرداروں کی سکھ سرکار کے خلاف بغاوت ومزاحمت کے باوجود اصل مسئلہ دونوں کا آپس میں عدم اعتماد تھا ۔

پائندہ خان و فتح خان سکھ سرکار کے باغی جن کے درمیان باہمی عدم اعتماد برقرار رہا

جس کی بنیادی یہ تھی کہ پائندہ خان تنولی نے فتح خان کے والد سے اشرہ کا علاقہ چھین لیا تھا جسے وہ تنول کا حصہ قرار دیتے تھے ۔جس کے جواب میں فتح خان نے سید احمد بریلوی کی قیادت میں بننے والے دربار مخالف اتحاد میں پائندہ خان کے تمام سیاسی و خاندانی مخالفین کو مدعو کیا اور اپنے آبائی گائوں پنج تار بونیر کو مرکز قرار دیا

شیر گڑھ قلعہ کا بیرونی منظر

جبکہ سید احمد بریلوی نے فتح خان کو خدوخیل قبائل سے عشر و دیگر محصولات وصول کرنے کا اختیار دیدیا
لیکن بالاکوٹ میں سید احمد بریلوی کی شہادت کے بعد صوابی اور منادر کے قبائل جو کہ فتح خان کو عشر ادائیگی سے پہلے ہی تنگ تھے ،فتح خان کے ہاتھوں باجابام خیل کے سردار کے قتل کے بعد انہوں نے پائندہ خان سے مدد حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ۔

پائندہ خان نے اس موقع کو اپنے کھوئے علاقے واپس حاصل کرنے ،دیرینہ حریف اوربونیر پر اپنی دوبارہ مضبوط گرفت کا سنہری موقع سمجھتے ہوئے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کرلیا

مولوی نصیر الدین کے مطابق قبائل سے اتحاد کے وعدے کے تین روز بعد پائندہ خان 7 ہزار فوج کیساتھ امب سے روانہ ہوگئے ۔البتہ مولوی نصیر الدین نے دونوں سرداروں کے مابین خونریزی اور ٹکرائو سے بچنے کیلئے ہر ممکن کردار ادا کیا

ایک خط میں مولوی نصیر الدین نے لکھا

پائندہ خان تنولی کوصوابی میں بونیر میں جنڈابوکا کے قصبوں میں مدعو کیا گیا جہاں مقامی قبائل نے اپنی وفاداری کا انہیں یقین دلایا

جب پائندہ خان اپنے لشکر کے ہمراہ پنج تار سے پانچ کلومیٹر کی دوری پر تھے تو انہیں اطلاع ملی کہ فتح خان لڑائی کیلئے اپنی فوجیں جنڈابوکا کے قریب جمع کررہے ہیں ۔پائندہ گھوڑے پر سوار ہاتھ میں نیزے اٹھائے اپنے لشکر کی ہمت بڑھاتے رہے ،

ضلع مانسہرہ کے علاقے بفہ میں موجود ترک راجگان کے اقتدار کی آخری نشانی ،دہلی سلطنت اور تنولی قبائل کے مابین کئی دہائیوں تک چپقلش جاری رہی

لیکن جلد ہی یہ اطلاع غلط ثابت ہوئی اور فتح خان نے اپنا لشکر میدان میں اتارنے سے انکار کردیا
اور پائندہ خان کچھ عرصہ وہاں قیام کے بعد امب لوٹ آئے ،اگرچہ اس مہم میں کسی زمین پر قبضہ تو نہ ہوا لیکن یہ واقعہ 1592 میں ان علاقوں سے تنولی قبائل کو نکالے جانے کے بعد سے پائندہ خان کے دور میں پختون قبائل کے درمیان تنولی قبیلے کی اہمیت و افادیت کو اجاگر کرتا ہے

معروف تاریخ داں غلام نبی خان تنولی نے ضلع بونیر کے علاقے تنولو ڈھیرے میں مقیم تنولی قبیلے کے لوگوں سے ملاقات کی ،جن کا تعلق قبیلے کی ذیلی شاخوں متیال ،پجال اور سڑیال سے تھا ۔

غلام نبی خان کے مطابق ان قبائل کے بزرگوں کا دعویٰ تھا کہ ان کے بڑے پائندہ خان تنولی کے لشکر کے ساتھ اس علاقے میں آئے تھے ۔

حالیہ ڈی این اے کی تحقیقات کے دوران بونیر کے تنولیوں کی جنیاتی ساخت مقامی پختون قبائل سے مختلف اور تناول کے تنولی قبائل سے قریب تر ہے

1923 میں ریاست امب کا بونیر پر قبضہ

نوآبادیاتی قوانین کے تحت ریاست امب دربند کو 1858 میں الگ ریاست تسلیم کرلیا گیا ،جس کے بعد 1895 میں چترال ،1897 میں دیر اور 1915 میں سوات کو یہ درجہ ملا ۔ سوات اور ریاست امب دربند کے مابین یہ مفاہمت طے پائی کہ بونیر ،خدوخیل ،گدون امازئی ،چغرزئی اور تورغر کے آزاد علاقے دونوں ریاستوں کے درمیان بفرزون کے طور پر موجود رہیں گے

لیکن اس مفاہمت کے درمیان 1920 میں اس وقت رخنہ پڑ گیا جب ریاست سوات کے حکمران میاں گل عبدالودود نے حمزاللہ میاں کی قیادت میں ایک چھوٹے سے لشکر کی مدد سے بونیر کے علاقے کلیل بانڈہ پرقبضہ کرلیا
اس کے ردعمل میں نواب امب دربند نے استھانہ کے سید عبدالجبار شاہ کو اپنا وزیر مقرر کرنے کی شرط پر جوابی کاروائی کیلئے آمادہ کرلیا

شیرگڑھ قلعہ کے باہر نصب توپیں ۔یہ توپیں مقامی ساختہ ہیں ،جو ریاست کی عسکری طاقت میں اضافے کا اہم ذریعہ رہی ہیں

استھانہ کے شاہ عبدالجبار نے سوات کےخلاف ریاست امب اور نواب دیر شاہ جہان خان کے درمیان اتحاد قائم کرنے کی کوشش کی جو کہ رشتے میں والی سوات کا عم زاد تھا

1923 میں والی سوات نے کمشنر مالاکنڈ کو لکھا کہ وہ تناول پر حملہ کرنے کیلئے خود کو آزادسمجھتے ہیں ۔جولائی 1923 میں نواب امب نے میاں گل کی جمع کردہ فوج کو بونیر کے علاقے چمالہ میں آزمانے کا فیصلہ کیا

اگرچہ سوات کے تاریخ دانوں اللہ بخش یوسفی اور خان روشن خان نے سوات کو ملنے والی شکست کا مبہم انداز میں ذکر کرتے ہوئے ملنے والے دھچکے کو کم کرنے کی کوشش کی ہے ۔تاہم ریاست سوات 1915 سے 1969 نامی کتاب کے مصنف ڈاکٹر سلطان روم نے لکھا

ابتدائی جھڑپوں میں ملنے والے نقصان نے سواتی لشکر کے حوصلے پست کردیئے اور انہوں نے ہتھیار پھینک دیئے جس پر انہیں واپس سوات جانے کی اجازت دیدی گئی

تنولو ڈھیرے کے تنولی قبائل

جولائی 1923 میں ہونے والی اس جنگ کے بارے میں نواب آف امب کے فوجی ریکارڈ سے بھی ہمیں مزید اور گہرا مشاہدہ کرنے میں مدد ملتی

نواب خان زمان خان تنولی کے بیٹے نوابزادہ اورنگزیب خان تنولی کے بیان کے مطابق تنولی لشکر آٹھ ہزار سپاہیوں اور توپخانہ پر مشتمل تھا

تنولی لشکر نے بونیر کے علاقے تنولو ڈھیرے میں پڑائو ڈالا جہاں موجود تنولی قبائل نے معلومات سمیت ہر طرح کی مدد فراہم کی ۔تنولوڈھیرے کے سامنے واقع نواگئی قلعے پر تنولی لشکر نے توپوں سے گولہ باری شروع کردی لیکن زیادہ تر فوج کو کوریا گائوں کے جنگل میں چھپا دیا گیا ۔

سوارا گائوں میں تنولی لشکر پر حملہ کرنے کیلئے موجود سواتی فوج کو اندازہ نہیں ہورہا تھا کہ ان پر حملہ کس نے کیا ہے ۔علی الصبح شروع ہونے والے شدید حملے میں سواتی لشکرکی تین ٹکڑیاں ختم ہو کر رہ گئیں اور اندازاً ان کے پندرہ سو کے قریب لوگ مارے گئے

نوآبادیاتی قوانین کے تحت ریاست امب دربند کو 1858 میں الگ ریاست تسلیم کرلیا گیا اور 1970 تک ریاست کی آزادانہ حیثیت برقرار رہی

پہلے ہی حملے نے سواتی لشکر کے حوصلے توڑ دئیے اور وہ پسپا ہونا شروع ہوگئے ۔جس کے نتیجے میں لشکر نے بونیر اور سوات کی سرحد پر واقع درہ کراکر تک کے علاقے پر انتہائی تیزی سے قبضہ کر لیا

اس حملے کے نتیجے میں سوات کو ہونے والے نقصان اور پریشانی کا اندازہ والی سوات کے کمشنر مالاکنڈ کو لکھے گئے ایک خط سے بھی ہوتا ہے

26 جولائی 1923 کو بھیجے گئے اس خط میں والی سوات نے بونیر کا علاقہ ریاست امب دربند کے حوالے کرنے پر رضامندی ظاہر کی ،لیکن اس کے بدلے انگریز حکومت کو سوات پر ریاست امب کے حملہ نہ کرنے کی ضمانت دینا ہوگی

امب فوج درہ کراکر پر پورا ایک ماہ قیام پذیر رہتے ہوئے نواب دیر کے وعدے کی تکمیل کی منتظر رہی ،جس کے تحت انہو ں نے سوات پر مل کر حملہ کرنا تھا ۔لیکن 17 اگست تک تنولی لشکر پر یہ واضح ہوگیا گیا کہ نواب دیر اپنے وعدے سے مخلص نہیں ہے

جس پر تنولی لشکر نے رضاکارانہ طور پر واپسی شروع کردی

اگرچہ بعدمیں والی سوات نے دعویٰ کیا کہ ان کی فوج نے تنولی لشکر کو شکست دیکر بونیر سے نکال دیا ،لیکن اس طرح کے کسی واقعہ یا لڑائی کی کوئی شہادت نہیں ملتی

ریاست امب کے لشکر کی واپسی اور حلیف قبائل پر کڑا وقت

تاہم تنولی لشکر کی واپسی کے بعد والی سوات نے فوری طور پر بونیر اور اس کے گردونواح علاقوں پر دوبارہ قبضہ کرلیا ۔بونیر پر قبضے کے بعد والی سوات نے تنولی لشکر کا ساتھ دینے والے قبائل کے خلاف بھرپور کاروائی کرنے اور انہیں نشان عبرت بنانے کافیصلہ کیا

جس کے تحت ڈیڑھ سو سواتی سپاہیوں کو مارنے والے سالارزئی قبیلے کے خلاف انتقامی کاروائی معروف ہے ۔
سلطان روم نے اس حوالے سے لکھا ہے ۔

والی سوات نے اردگرد علاقوں سے لشکر جمع کیا اور سالارزئی قبیلہ پر چاروں اطراف سے حملہ کردیا۔جس میں قبیلے کے زیادہ تر لوگ مارے گئے ،اور ان کی خواتین اور مال مویشیوں کو سوات بھیج دیا گیا ،کچھ لوگ مردان کی طرف فرار ہو کر پناہ گزیں ہوگئے ۔یہ ماردھاڑتین روز تک جاری رہی۔

اس طرح تنولوڈھیرے کے تنولی قبائل پر سوات میں تمام سرکاری ملازمتوں پر ہمیشہ کیلئے دروازے بند کردیئے گئے

ان واقعات کے بعد برٹش سرکار نے مداخلت کی اور دونوں ریاستوں کو اپنی اپنی حدود میں رہنے اور ایک دوسرے کی سرحدی سالمیت کا احترام کرنے پر مجبور کردیا ۔

اگرچہ یہ واقعات ماضی کا حصہ ہیں ،جب برٹش راج کے دوران میں دوریاستیں آپس میں خونریز تصادم میں مبتلا ہوئیں اور کس طرح ایک چھوٹی سی ریاست نے اپنے سے پانچ گنا بڑی ریاست کو زیر کرنے اور اسے اپنی حدود کے اندر رہنے پر مجبور کیا

Translate »