سیدعتیق الرحمن،ایبٹ آباد 


اسرائیل کے مغرب میں مصر واقع ہے۔ اس وقت غزہ کے علاقے کا انتظام مصر ہی کے پاس ہے یا یوں کہیے کہ غزہ کو مصر نے محصور کر رکھا ہے ۔ اس کی بڑی وجہ مصر میں آمریت ہے ۔ یروشلم پر قبضے کے لیئے ناگزیر تھا کہ مصر پر ایسی حکومت ہو جو مغربی ممالک کی پالیسیوں پر عمل درآمد میں یا تو معاونت کرے یا پھر کم از کم رکاوٹ نہ بنے ۔

یہی وجہ ہے کہ سات سال قبل راتوں رات مصر میں اخوان المسلمون کے منتخب صدر محمد مرسی کو جنرل عبد الفتاح السیسی نے اقتدار سے بے دخل کر کے جیل میں ڈال دیا ۔جیل میں ان کا انتقال ہو گیا جب کہ آمریت کو نہ صرف مغرب کی سپورٹ ملتی رہی بلکہ سعودی عرب نے سب سے بڑھ کر اسے سہارا دیا ۔

یہ کوئی نئی بات نہیں اس سے قبل بھی جب جب یروشلم یا فلسطین پر قبضے کو ممکن بنانے کے لیئے پہلے مصر کو مطیع بنایا گیا اور پھر کاروائیاں کی گئیں ۔

ایک سو چالیس سال پہلے 1882ء میں بھی مصر پر برطانیہ نے قبضہ کیا تھا ۔ یہ قبضہ کیسے اور کن حالات میں کیا گیا تھا آیئے جانتے ہیں۔

یورپی حکومتوں نے معاہدہ پیرس 1856ء کے تحت خلافت عثمانیہ کی سالمیت،آزادی،تحفظ اور ان کے معاملات میں عدم مداخلت کی ضمانت دی ہوئی تھی ۔ جنگ کریمیا میں روس کی شکست کے بعد سات یورپی ممالک نے یہ معاہدہ کیا تھا ۔

اس معاہدے میں انگلستان ، روس ، فرانس، آسٹریا، جرمنی ، سارڈینیا اور خلافت عثمانیہ فریق تھے۔ اسی معاہدے کے تحت دولت عثمانیہ کو دولت یورپ کی ممبر شپ بھی دی گئی ساتھ ہی تمام عثمانی مقبوضات میں عدم مداخلت کی یقین دہانی بھی کروائی گئی ۔

مگر نہر سویز بن جانے کے بعد مصر اور شام اچانک دنیا کے سب سے اہم تجارتی راستے بن گئے ۔ تو برطانیہ اور فرانس نے اس پر قبضے کی ٹھان لی ۔ نہر سویز خدیو مصر اسماعیل پاشا نے فرانس اور برطانیہ سے پیسے لے کر بنوائی تھی ۔


یہ بھی پڑھیں 

اسرائیل کے زیراثرمغربی دنیا کا بیانیہ اور مزاحمت کرنے والی فسلطینی تنظیمیں

غزہ کا دنیا کے قدیم وخوشحال ترین شہرسے ایک محصور پٹی کا سفر

آل یہود بابل کی اسیری سے صیہونی ریاست کے قیام تک(حصہ اول)


1869ء میں نہر کے افتتاح سے پہلے ہی مصری خزانہ خالی ہو گیا اور عثمانیوں کی مصری ولایت فرانس کے قرضوں میں جکڑی گئی ۔اس موقع پر نہر سویز میں مصر کا حصہ برطانوی وزیر اعظم لارڈ بیکنز نے خدیو مصر سے خرید لیا۔

1875ء میں قرضوں کی واپسی کا تقاضا اتنا شدید ہوا کہ خدیو کو ریاست فرانس کے پاس گروی رکھنا پڑی ۔ مصر کے پاس دو آپشن تھے یا تو خود کو دیوالیہ قرار دے یا پھر مزید قرضے حاصل کر کے سود ادا کرے ۔

مصر نے دوسرا راستہ چنا اور برطانیہ سے کسی مالیاتی ماہر کو بھیجنے کی درخواست کی جو اس مسئلے کو حل کرے ۔ برطانیہ نے سٹیفن کیو کو مصر بھیجا جس نے رپورٹ دی کہ مصر کو دیوالیئے سے بچانے کے لیئے برطانیہ کی مداخلت ناگزیر ہے ۔

1878ء کی وزارت میں برطانیہ نے ریورس ولسن کو مصر کا وزیر وزیر مالیات بنا کر مالیاتی امور اپنی تحویل میں لے لیئے جس پر فوج نے عرابی پاشا کی قیادت میں خدیو مصر سے بغاوت کر دی ۔ خدیو اسماعیل پاشا نے فوج کے دبائو پر برطانوی اور فرانسیسی وزیروں کو برطرف کیا تو برطانیہ اور فرانس نے جون 1879ء میں باب عالی سے اسماعیل پاشا کو معزول کروا کے اس کے بیٹے توفیق کو خدیو مصر بنا دیا۔

توفیق کی جگہ اصل حکمرانی برطانیہ اور فرانس نے سنبھال رکھی تھی ۔ یورپیوں نے سب سے پہلے مصر کی فوج کو پچاس ہزار سے کم کر کے پندرہ ہزار کر دیا۔ اب یورپینز عہدیداروں نے مصر آ کر دولت لوٹنا شروع کی ۔

سید جمال الدین افغانی اور شیوخ ازہر کے افکار پر قائم مصر کی قومی جماعت ( وطنی تحریک) نے غیر ملکی تسلط کی مخالفت کی۔ وزیر جنگ عرابی پاشا بھی یورپی مداخلت کے خلاف تھا اس لیئے برطانوی اور فرانسیسی حکومتوں نے توفیق کو جنوری 1882ء میں ایک مراسلہ بھیجا جس میں قومی جماعت کے خلاف توفیق کو مدد دینے کی یقین دہانی کروائی گئی تھی ۔

سلطان عبد الحمید ثانی نے اس کی مذمت کی، لندن اور پیرس میں موجود اپنے سفیروں کے ذریعے انگلستان اور برطانیہ کو بتایا کہ مصر سلطنت عثمانیہ کا صوبہ ہے ۔ اس لیئے مصر کے ساتھ کوئی بھی معاملت باب عالی کی مشاورت کے بغیر نہ کی جائے ۔

برطانیہ اور فرانس نے جوابی رد عمل میں مئی 1882ء میں اپنا بحری بیڑا مصر کی بندرگاہ اسکندریہ میں لا کھڑا کر دیا ۔ اور خدیو کو اپنے بحری بیڑے میں پناہ دینے کی پیشکش کی۔ خدیو توفیق نے کوئی جواب دیئے بغیر رملہ میں واقع اپنے محل میں پناہ لی جو اسکندریہ سے آٹھ میل کے فاصلے پر تھا۔

10 جولائی کو بحری بیڑے نے اسکندریہ پر گولا باری شروع کر دی ۔ وقتی بہانہ یہ تھا کہ اسکندریہ میں فسادات ہوئے ۔ پس منظر یہ تھا کہ خدیو کے گورنر اسکندریہ لطفی پاشا کے مقابلے میں یونانیوں کو ایک سرمایہ دار نے مسلح کیا۔

تاریخ دولت عثمانیہ کے مصنف ڈاکٹر محمد عزیر کے مطابق یہ یونانی ساہوکار صیہونی راہنما روتھ چائلڈز کا مصر میں ایجنٹ تھا۔ ان فسادات میں پانچ سو لوگ مرے جن میں زیادہ یورپی تھے۔ برطانیہ نے اسے جواز بنا کر اسکندریہ پر 10 جولائی 1882 ء کو حملہ کر دیا۔ اسکندریہ پر قبضے کے بعد توفیق نے خود کو انگریز امیر البحر کے حوالے کیا تو قاہرہ میں مجلس عمومی نے قومی حکومت قائم کر کے توفیق کے احکام کو معطل کر دیا۔

برطانیہ نے مصر پر نہر سویز کے ذریعے حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا اس صورت میں نہر کے مشرق و مغرب میں برطانیہ کو اپنے حامی درکار تھے ۔ برطانوی وزیر بحریہ نے کیمبرج یونیورسٹی میں مشرقی زبانوں کے پروفیسر ایڈورڈ پامر کو حمایتی ڈھونڈنے کا کام سونپا ان کے لیئے بیس ہزار پونڈ کا بجٹ مختص کیا اور نہر کے مشرقی علاقوں (فلسطین) میں بسنے والے عرب قبائل کی حمایت حاصل کرنے کا ہدف دیا ۔

پروفیسر نے اپنی ڈائری میں لکھا کہ بیس ہزار پونڈ سے چالیس ہزار عربوں کو خریدا جا سکتا ہے۔ تیاحہ اس علاقے میں سب سے طاقتور قبیلہ تھا جس کے شیخ نے برطانیہ کی حمایت کا وعدہ کیا۔ حیوتیہ اور حونیہ قبائل کے بدوئوں کو معلوم ہوا کہ پروفیسر پامر تیاحہ قبیلے کے لیئے رقم لے کر جا رہے ہیں تو انہیں پکڑ کر لوٹ لیا۔

پروفیسر کے ساتھ دو برطانوی فوجی افسر بھی تھے جن کا مشن لیبیا، شام اور مصر کے درمیان تار کے نظام کو تباہ کرنا تھا ۔ پامر تین سے پانچ ہزار پائونڈ برآمد ہوئے ۔ بدوئوں نے تینوں مغویوں کو اگست 1882ء میں قتل کر دیا ۔

اسکندریہ پر قبضے کے بعد برطانوی فوج نے اسماعیلیہ پر قبضہ کیا پھر تل کبیر کی آخری جنگ میں مصر کی قومی فوج کو شکست ہوئی۔ ستمبر 1882ء میں عرابی پاشا نے شکست کے بعد ہتھیار ڈالے جسے پہلے سزائے موت سنائی گئی مگر بعد میں سفارش پر سیلون (سری لنکا) میں جلاوطن کر دیا گیا ۔

برطانوی فوج نے توفیق کو قاہرہ لا کر دوبارہ اس کی تاج پوشی کی اس کے مخالفین کو پھانسیاں دیں ۔ اس جنگ میں مصر کی وطنی فوج کو سب سے ذیادہ نقصان غداروں نے پہنچایا۔ قومی فوج کے اندر غداروں میں وزیر جنگ عرابی پاشا کا معتمد بدو شیخ سعود التہاوی بھی تھا جو پانچ ہزار کرائون (انگریزی سکہ ۔ پانچ شلنگ کا ایک کرائون تھا) کے عوض خدیو مصر توفیق کا فوج میں ایجنٹ تھا ۔

وہ عرابی پاشا کو یہی مشورہ دیتا رہا کہ جنگ نہ کرنا ۔ حملے سے پہلے تک یہی کہتا کہ برطانیہ حملہ نہیں کرے گا۔ برطانیہ نے اس جیسے بے شمار غداروں کی مدد حاصل کی ۔ سویز کے مغرب یعنی مصر میں سرداروں تک رقم پہنچانے کی ذمہ داری گل کی تھی ۔

تل کبیر کی شکست کا باعث بھی یوسف اور عبدالرحمان جیسے غدار تھے ۔ 1882 کے دو سال بعد تک مصر کا نظم و نسق انگریزوں نے سنبھالے رکھا اور آخر کار 1884 ء میں برطانیہ نے مصر کو اپنا صوبہ بنا لیا اور فرانس کی بھی یہاں مداخلت کو ختم کرنے کی کوششیں کرنے لگا ۔

یوں معاہدہ پیرس کے ذریعے خلافت عثمانیہ کو دی گئی ضمانت پچیس سال بعد جھوٹ ثابت ہوئی۔
یونہی مغرب کے معاہدات ہمیشہ وقتی مفادات کے تحت وجود میں آتے رہے اور مفاد کے بعد ان معاہدات کو پامال کیا جاتا رہا

یہ آج ہی نہیں ہو رہا بلکہ کئی صدیوں سے یہ سلسلہ جاری ہے ۔ اور تب تک جاری رہے گا جب تک کہ اسے روکنے کے لیئے کوئی ایسی طاقت سامنے نہیں آتی جو اسے روکنے کی طاقت رکھتی ہو

Translate »