آزادی ڈیسک


سعودی عرب کے شہر تبوک سے تعلق رکھنے والے نوخیز جوڑے کو ملنے والی پہلی خوشی نے اس کے عزیز واقارب سمیت سوشل میڈیا پر بھی ہزاروں لوگوں کو مبارکباد پیش کرنے پر مجبور کردیا ،کیوں کہ تبوک شہر سے تعلق رکھنے والے 14 سالہ علی القیسی کے ہاں پہلے بیٹے کی پیدائش اس لحاظ سے بھی بڑی خبر ہے کیوں کہ شادی کے وقت ان کی اہلیہ کی عمر صرف 13 سال تھی ۔شادی کے ڈیڑھ سال بعد ان کے ہاں پہلے بیٹے کی پیدائش ہوئی ہے

ایک سعودی ویب سائیٹ لائف ان سعودی عربیہ کے مطابق علی شاید اپنے شہر کے کم عمرترین نوجوان ہیں جو والد بننے کا اعزاز حاصل کرچکے ہیں

واقعات کے مطابق جب وہ زچگی کیلئے اپنی اہلیہ کو لیکر ہسپتال گئے تو ہسپتال کی انتظامیہ نے ان دونوں کی عمر کو دیکھتے ہوئے نوجوان خاتون کو داخل کرنے سے انکار کردیا ،اور اصرار کیا کہ اپنے بڑوں کو ساتھ لیکر آئیں


یہ بھی پڑھیں:


علی القیسی کے بقول جب وہ اپنی اہلیہ کو ہسپتال لیکر پہنچے تو وہاں موجود ڈاکٹروں اور عملے نے ان کا علاج کرنے سے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ خاتون کی عمر 18 سال سے کم ہے لہذا وہ جب تک لڑکی کا والد خود آکر ہسپتال کے فارم پر دستخط نہیں وہ داخلہ نہیں دیں گے

کیوں کہ ممکنہ طور پر مریضہ کو آپریشن کی ضرورت پڑسکتی ہے ،تاہم بعدازاں نارمل ڈیلیوری کے ذریعے بچے کی پیدائش ہوگئی ۔علی القیسی نے بیٹے کا نام اپنے والد پر محمد رکھا ہے ،

واضح رہے کہ سعودی شوریٰ کونسل شادی کی کم از کم عمر 18 مقرر کرنے کےلئے اقدامات کر رہی ہے تاہم اب بھی سعودی عرب میں ہر 7 میں سے ایک لڑکی کی شادی 18 سال سے کم عمر میں ہوجاتی ہے

Translate »