Join Our Membership

Advertisement Section
Read Time:8 Minute, 32 Second

سید عتیق الرحمن


تحریک آزادی کشمیر دنیا کی طویل ترین تحریک ہے ،1585ءمیں‌شہنشاہ اکبر کے ہاتھوں آخری خودمختار حکمران یوسف شاہ چک کی گرفتاری اور معزولی سے جس داستان کی ابتداء ہوئی

1751 میں درانیوں‌ اور 1819ء سے رنجیت سنگھ کی حکمرانی کے خلاف مقامی مزاحمت کا سلسلہ جاری رہا ،لیکن 1931ء سے اس تحریک میں خون کی لالی شامل ہوگئی ،جب خانقاہ معلی کے احاطہ میں‌سیاسی حقوق مانگنے والے نہتے مظاہرین کو ڈوگرہ فوج نے خاک و خون میں نہلا دیا .

یہ تحریک آزادی کشمیر کا ایک نیا موڑ تھا ،جس نے شمع آزادی کے متوالوں‌کو نئی جہت عطا کی ،عام روایات کیمطابق اس روز یعنی 21جون 1931 کو باغیانہ تقریر کرنے کے جرم میں‌عبدالقدیر نامی شخص کے خلاف 13 جولائی کو مقدمہ کی سماعت تھی جسے سننے کیلئے ہزاروں‌کی تعداد میں‌مسلمان وہاں موجودتھے ،

کہ اس دوران ظہر کا وقت ہوگیا اور ایک شخص نے کھڑے ہو کر اذان دینا شروع کردی ،جسے وہاں‌موجود ڈوگرہ فوج کے ایک سپاہی نے گولی مار دی ،بجائے اس کے کہ وہاں‌موجود لوگ بھاگ جاتے گرنے والے موذن کی جگہ دوسرا شخص کھڑا ہوگیا اور اس نے ادھوری اذان پوری کرنا شروع کی

سپاہیوں‌نے اسے بھی گولی مار دی یوں‌یہ اذان یکے بعد دیگر ے 22لوگ اذان کے لئے قربان ہوگئے ،یہ اسلام کی تاریخ‌کی واحد اذان تھی جسے مکمل ہونے میں‌ 22افراد نے جام شہادت نوش کیا .یہ واقعہ آج بھی تاریخ‌جدوجہدآزادی کشمیر کا اہم حصہ ہے جسے ہر سال حدمتارکہ کے دونوں‌اطراف عقیدت و احترام سے منایاجاتا ہے .

1931ء میں سرینگر سے تحریک آزادی کشمیرکی ابتداء ہوئی ۔ اسی سال سرینگر میں مہاراجہ کی فوج نے مسلمانوں پر فائرنگ کی جس میں بائیس افراد صرف اذان دیتے ہوئے شہید ہوئے تھے ۔


یہ بھی پڑھیں

  1. غلام مصطفی شاہ ،تحریک آزادی کشمیر کا اہم کردار،جو اپنوں‌بیگانوں‌کی بے اعتنائی کا شکار ہوا
  2. مقبوضہ کشمیر میں‌ ڈرون حملے ،حریت پسندوں کی بدلتی حکمت عملی کا اظہار؟
  3. حریت کے بغیر بھارت کا کشمیری قیادت سے رابطہ کیا معنی رکھتا ہے ؟
  4. ٹوئٹرپر بھارت نوازی کا الزام،کشمیریوں کی آواز متعدد اکائونٹس معطل

1930ء تک تواتر سے مسلمانوں کو مظالم کا نشانہ بنائے جانے کے واقعات رونما ہوتے رہے۔شیخ عبداللہ کی کتاب آتش چنار اوررشید تاثیر کی کتاب تاریخ‌حریت کے مطابق ہری سنگھ یورپ سے واپس آیا تو اپنے انگریز وزیر کے مشورے پر مذاکرات کے لیئے مسلمان نمائندوں کو مدعو کرنے کا فیصلہ کیا ۔

شیخ محمد عبداللہ کے مطابق جموں میں مسلم ینگ مینز نامی تنظیم نے چوہدری غلام عباس وغیرہ پر مشتمل چار رکنی وفد نامزد کیا ۔ کشمیر سے بھی وفد کے لیئے سات ارکان کو نامزد کرنا تھا۔ کشمیر کے وفد کو ایک عوامی اجتماع کے ذریعے منتخب کرنے کا فیصلہ ہوا۔

اس مقصد کے لیئے 21جون 1931ء کو مسلمانوں کا ایک جلسہ عام خانقاہ معلیٰ درگاہ شاہ ہمدان میں بلایا گیا۔ یہ وہی روز تھا جب ایک گمنام مقرر نے تحریک آزادی کی شمع کو روشن کیا۔ اسی مقام پر شاہ ہمدان نے بھی آٹھویں صدی ہجری میں اسلام کی شمع کو منور کیا تھا ۔ خانقاہ معلیٰ میں 21 جون کو ہونے والے جلسہ عام میں عوام کی کثیر تعداد سمیت تمام مسلمان راہنمائوں نے شرکت کی۔

اس جلسے میں کشمیر سے سات ممبران کو مسلمانوں کی قیادت کے لیئے منتخب کیا گیا جن میں دونوں میر واعظ اور شیخ عبداللہ وغیرہ شامل تھے. جلسے کے اختتام کے بعد وہیں جلسہ گاہ میں ڈوگرہ حکمرانوں کے مسلمانوں پر مظالم کے خلاف تقاریر ہوئیں ۔

مگر ایک تقریر ایسی تھی جس نے اپنے سحر میں مجمعے کو جکڑ لیا ۔ وہ تقریر کرنے والا کون تھا؟

تقریر کرنیوالا عبداللہ یا مولانا غلام مصطفیٰ شاہ

اس سوال کا جواب شیخ محمد عبداللہ اپنی سوانح حیات ” آتش چنار ” میں لکھتے ہیں کہ ” انہی دنوں پشاور میں تعینات یارک شائر رجمنٹ کا ایک انگریز میجر چھٹیاں گزارنے سرینگر آیا ہوا تھا ۔

وہ نسیم باغ میں ایک ہائوس بوٹ میں قیام پزیر تھا جہاں ساتھ اس کا خانسامہ عبدالقدیر بھی موجود تھا ۔ عبدالقدیر کو شیخ عبداللہ نے ایک ان پڑھ غیر ریاستی باشندہ لکھا ہے۔ وہ خانقاہ معلیٰ میں نماز پڑھنے آیا کرتا تھا ۔ آتش چنار کے مطابق جب ہم چائے نوشی کے لیئے چلے گئے تو اس نے اپنا دفتر کھول لیا۔

عوام جوش کے عالم میں تھے لہذا اس کے گرد جھرمٹ لگ گیا۔ دوران تقریر کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کا مقابلہ کرنے کی ترغیب دی اور کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے۔

کشمیر اسمبلی پرجا سبھا کے سابق ممبر مولانا غلام مصطفیٰ شاہ کے فرزند عبداللہ شاہ مسعودی ایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ سرینگر کے اس جلسے میں جوشیلا خطاب کرنے والے عبدالقدیر نہیں بلکہ مولانا غلام مصطفیٰ شاہ تھے

اس نے دریا کی دوسری جانب موجود راج محل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دو ” سی آئی ڈی کے اہلکاروں نے اس کی تقریر رپورٹ کی اس پر بغاوت اور غداری کا مقدمہ قائم کرتے ہوئے عبدالقدیر کو ہائوس بوٹ سے ہی گرفتار کر لیا گیا۔

شیخ محمد عبداللہ کے مطابق جس تقریر پر مقدمہ بنا اس تقریر کے وقت میں جلسہ گاہ میں موجود نہیں تھا۔ مگر مقدمہ عبدالقدیر پر بنا تو مجھے معلوم ہوا کہ تقریر عبدالقدیر نے کی ۔

تاہم کشمیر اسمبلی پرجا سبھا کے سابق ممبر مولانا غلام مصطفیٰ شاہ کے فرزند عبداللہ شاہ مسعودی ایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ سرینگر کے اس جلسے میں جوشیلا خطاب کرنے والے عبدالقدیر نہیں بلکہ مولانا غلام مصطفیٰ شاہ تھے ۔

اور انہیں جلسے کے بعد پناہ دینے والے راجہ حیدر خان تھے ۔ عبداللہ شاہ مسعودی کے مطابق ” میرے والد خطاب کر ہی رہے تھے کہ ڈوگرہ فوج سنگینیں اور رائفلیں لیئے پنڈال میں داخل ہوئی ۔

مجمع میں ہڑبونگ مچ گئی لوگ ادھر ادھر بھاگنے لگے ۔ ” راجہ فاروق حیدر کے والد راجہ حیدر خان کی ڈائری کے مطابق وہ 1931ء میں ایس پی کالج سرینگر میں میٹرک کے طالبعلم تھے ۔ ڈوگرہ سرکار کے کارندوں کو صرف عبدالقدیر کا نام معلوم ہو سکا ۔

عبداللہ شاہ مسعودی کے مطابق ان کے والد کے ایک دوست اس وقت پولیس میں تھے جو وہیں ڈیوٹی پر موجود تھے ۔ انہوں نے مولانا کو فرار ہونے میں مدد دی ” ۔ عبداللہ شاہ مسعودی ایڈوکیٹ کے مطابق یہ بات انہیں خود راجہ فاروق حیدر کی زبانی معلوم ہوئی.ان کے فرزند کی گواہی اس لحاظ سے بھی قرین قیاس ہے کیوں‌کہ غلام مصطفی شاہ کے شعلہ بیاں‌مقرر ہونے کی گواہی ان کے تعلیمی و تدریسی ریکارڈ سے بھی ملتی ہے .

یکم اپریل 1935ء کو گورنمنٹ ہائی سکول جلال پور جٹاں کے صدر معلم نے انہیں ایک تعریفی سرٹیفکیٹ جاری کیا جس میں لکھا ہے کہ "سید غلام مصطفیٰ فاضل دیوبند و ڈابھیل اعلی علم اور ادراک رکھتے ہیں ۔ وہ فارسی ، عربی ، اردو، جغرافیہ ، اور تاریخ کی علمیت وسیع اور مطالعہ عمیق رکھتے ہیں ۔

ایسا لگتا ہے کہ اس نے ان مضامین کے اصل ماخذوں کے یکے بعد دیگرے کئی کئی جلدوں کا مطالعہ کر رکھا ہے ۔ وہ ایک قیمتی ہیرا ہے۔ ” آگے چل کر لکھا کے کہ "خطابت کی تمام صلاحیتیں اس میں موجود ہیں ۔ وہ ہزاروں سامعین کو مسحور کر سکتا ہے ۔

یہ عبارت جامشورو یونیورسٹی کے سکالر ڈاکٹر خواجہ عبدالغنی نے اپنے پی ایچ ڈی کے مقالے بعنوان "علامہ انور شاہ کشمیری کے متوسلین اور تلامذہ کی خدمات زبان اردو” میں نقل کی ہے ۔ فاضل مقالہ نگار نے مولانا غلام مصطفیٰ شاہ کے ایک شاگرد جسٹس ریٹائرڈ محمد اکرم خان کا انٹرویو بھی کیا

جس میں مولانا کی تقریری صلاحیتوں کا بیان یوں نقل کیا گیا ہے کہ ” مولانا جب تقریر کرتے تو چادر اتار پھینکتے ۔ پھر زور بیان میں آستینیں چڑھانا شروع کر دیتے ۔ ان کی تقریر اردو ، عربی ، اور فارسی اشعار سے مزین ہوتی تھی وہ کئی کئی گھنٹے تک مسلسل تقریر کرتے۔”

۔ ان کی تقریر کی صلاحیتوں کو مد نظر رکھا جائے تو 21 جون کو خانقاہ معلیٰ سرینگر میں کی جانیوالی تقریر کو مولانا غلام مصطفیٰ شاہ سے منسوب کرنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں ۔

عین ممکن ہے کہ وہ اس وقت سرینگر میں موجود ہوں ۔ عبدالقدیر کی گرفتاری کے بعد سارا الزام اسی پر ڈال دیا گیا ۔ عبدالقدیر کو اگلے چند روز میں نسیم باغ کی اس ہائوس بوٹ سے گرفتار کر لیا گیا۔

شیخ محمد عبداللہ کے مطابق انہیں عبدالقدیر کا نام اور گرفتاری کی خبر 27 جون کو ملی ۔ عبدالقدیر کے خلاف بغاوت اور غداری کا مقدمہ بنا ۔ 13 جولائی 1931ء کو اس مقدمے کی سماعت کی تاریخ مقرر ہوئی جسے دیکھنے کے لیئے مسلمانوں کی کثیر تعداد سنٹرل جیل پہنچی جہاں مقدمے کی سماعت ہونا تھی ۔

لوگوں کا ہجوم امڈ آیا ۔ جیل کا دروازہ کھلتے ہی ہجوم میں سے سینکڑوں لوگ جیل میں داخل ہو گئے ۔

عبدالقدیر کے مقدمہ کی کاروائی اور اذان پر گولی چلنے کا واقعہ

انتظامی افسران نے ڈوگرہ سرکار کے گورنر کشمیر رائے ترلوک چند کو مطلع کیا تو وہ مذید نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچے ۔ گورنر نے لوگوں کا ہجوم جیل میں دیکھا تو وہ مشتعل ہوئے ۔ جیل کے باہر بھی ہزاروں کا مجمع تھا ۔

جب گورنر رائے ترلوک چند کے حکم پر ڈوگرہ فوج نے گولی چلانا شروع کی اس وقت اذان دی جا رہی تھی ۔ ایک شخص اونچی جگہ پر کھڑا ہو کر اذان دے رہا تھا۔

ڈوگرہ سپاہیوں نے ازان دینے والے کے سینے پر گولی ماری ۔ اس کے نیچے گرتے ہی دوسرا شخص وہیں چڑھا اور ازان وہیں سے شروع کی جہاں سے پہلا مؤذن گرا تھا۔ یوں ازان کے دوران ایک شخص گولی کھا کر گرتا تو دوسرا اس کی جگہ لے لیتا اذان دیتے ہوئے یکے بعد دیگرے بائیس افراد کے سینے ڈوگرہ فوجی اہلکاروں نے گولیوں سے چھلنی کر دیئے یہ شائد تاریخ کی انوکھی ترین ازان تھی جس کی مکمل ادائیگی کی قیمت بائیس مسلمانوں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے ادا کی ۔

اس جذبے کے پیچھے یقینی طور پر کوئی ایسا خطیبانہ جوہر تھا جس کی توقع عبدالقدیر سے ذیادہ مولانا غلام مصطفیٰ شاہ سے کی جا سکتی ہے۔ یا کم از کم جو احوال و کوائف عبدالقدیر کے شیخ محمد عبداللہ نے بیان کیئے ہیں ان کے تناظر میں یہ بعید از قیاس ہے کہ وہ تقریر بھی کر سکتا ہو۔ یہ سانحہ جلیانوالہ باغ کے بعد دوسرا بڑا سانحہ تھا ۔ کوئی شہید ایسا نہیں تھا جسے پیٹھ پر گولی لگی ہو سب کے سینے پر گولیاں لگی ہوئی تھیں ۔

 

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
Previous post وادی نیلم میں‌ سیلابی ریلے میں‌ میاں‌بیوی جاں‌بحق ،درجنوں‌مکانات بہہ گئے
Next post طالبان کی جانب سے ترکی اور پاکستان کو دوٹوک جواب ؟؟؟
Translate »