شاہدہ چوہدری

سلیقے سے ہوائوں میں جو خوشبو گھول سکتے ہیں
ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اردو بول سکتے ہیں
اردو پاکستان کی قومی زبان ہے جو برصغیر کے مسلمانوں کے روشن اور خوش کن مستقبل اور تابناک ماضی کی آئینہ دار بھی ہے . قائد اعظم محمد علی جناح نے مختلف مواقع پر اردو زبان کی اہمیت ، افادیت اور اس کی ترویج و اشاعت کے حوالے سے جو ارشادات فرمائے ان میں سے چند فرمودات درج ذیل ہیں.
قائد کا پہلا بیان 1942 پاکستان مسلم انڈیا دیباچے میں کچھ یوں درج ہے ” پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہو گی”

دوسرا بیان 10 اپریل 1946 کو آل انڈیا مسلم لیگ کے دہلی اجلاس کا ہے جس میں آپ نے فرمایا “میں اعلان کرتا ہوں پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہو گی ” اسی طرح ایک بیان 24 مارچ 1948ء کا ہے جسے سرکاری فرمان کا درجہ حاصل ہے جس میں قائد نے فرمایا
”اگر پاکستان کے مختلف حصوں کو باہم متحد ہو کر ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہونا ہے تو ان کی سرکاری زبان ایک ہی ہو سکتی ہے اور وہ میری ذاتی رائے میں اردو اور صرف اردو ہے
اگر ان فرمودات کو مد نظر رکھا جائے تو بانی پاکستان کے یہ فرمودات ہمارے لیئے آئین و دستور کی سی حیثیت رکھتے ہیں
اسی طرح 1956ء ، 1962ء ، اور 1973ء کے دساتیر میں میں بھی اردو کو قومی اور دفتری زبان قرار دیتے ہوئے پندرہ سال کی مہلت دی گئی کہ حکومت تمام امور قومی زبان میں منتقل کرے یہ مدت 14 اگست 1988ء کو ختم ہو گئی .
عدالتی سطح پر اس کے خلاف 2002ء میں نفاذ اردو کا مقدمہ دائر ہوا جس پر تیرہ سال بعد 8 ستمبر 2015ء کو سپریم کورٹ نے فیصلہ دیتے ہوئے قومی زبان کے نفاذ کو بنیادی انسانی حق قرار دیا اور اس کے فوری نفاذ کا حکم سنایا مگر عدلیہ کی حکم عدالی کا سلسلہ جاری رہا اور یوں عدلیہ کا تقدس پامال ہو رہا ہے.
اردو ترکی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی لشکر یا چھائونی ہیں . علامہ آئی آئی قاضی کے مطابق اردو ترکی زبان کا لفظ نہیں ان کے مطابق عام سندھی بول چال میں اردو ڈھیر یا اشیاء کے ذخیروں اور انسانوں کے اجتماع کو کہتے ہیں . ان کا خیال ہے کہ لفظ ارد سندھ یا ہند میں پیدا نہیں‌ہوا . یہ لفظ آریائی زبان کے قدیم ترین الفاظ میں سے ہے جو آریائی تہذیب اور اس کی خاصٰیت یعنی انسانی معاشرت کا مظہر بھی ہے یہی لفظ اردو کا ماخذ ہے جس کے معنی ایسی زبان کے ہیں جو انسانوں کا مجمع بولتا ہو جن میں ہر قسم کے لوگ شامل ہوں .
علاقائی اعتبار سے اردو مختلف ادوار میں مختلف صوبوں اور علاقوں کی رعایت سے دکنی ، گوجری، گجراتی، اور پنجابی وغیرہ کہلاتی رہی

یہ بھی پڑھیں

بقول مولوی عبدالحق یہ زبان دکن میں آئی اور اس میں دکنی الفاظ اور لہجہ داخل ہوا تو دکنی کہلائی اور گجرات پہنچی تو اسی خصوصیت کی بنا پر گوجری یا گجراتی کہلائی .
حافظ محمود شیرانی کا کہنا ہے کہ اہالی دکن نے اردو کا نام دکنی رکھا . اہالی گجرات نے اس کا نام گجراتی یا گوجری رکھا .
ڈاکٹر شوکت سبزواری نے اردو کے نام دہلوی، گوجری، یا گجروی اور دکنی کے نام گنوائے ہیں.
ہندوستان کی مناسبت سے اردو کو ہندی یا ہندوستانی بھی کہا جاتا رہا
اردو زبان کی ابتداء سے متعلق ڈاکٹر مائیٹ ہرجنٹ نے اپنے ایک انگریزی مقالہ میں لکھا ہے کہ اردو زبان کی ابتدائ شہنشاہ اکبر کے عہد سے ہوئی . آگرہ اور دہلی شہروں کے درمیان اضلاع کی زبان مغربی ہندی کی ایک چھوٹی سی شاخ تھی جس کو برج بھاشا کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے
ڈاکٹر گل کرائسٹ کا کہنا ہے کہ اردو زبان کی ابتداء ہندوستاب پر امیر تیمور کے حملے سے ہوئی

شاعر نے کیا خوب کہا ہے
نہیں کھیل اے داغ ، یاروں سے کہہ دو
کہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے
اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے

اردو زبان کی ابتداء اور لفظی واصطلاحی حیثیت کی مطابقت دیکھنے کے بعد یہ بات ذہن میں ضرور آتی ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح دور اندیش راہنما تھے انہوں نے نہایت ہی دوٹوک الفاظ میں اردو زبان کی قومی و سرکاری اہمیت و حیثیت کو سمجھا انہوں نے اردو کے شاندار ماضی کو خراج تحسین پیش کیا اور اس زبان کو پاکستان کی یگانگت ، اتحاد اور یکجہتی کی علامت قرار دیا

قیام پاکستان کے بعد جب کچھ عناصر نے اردو کی بجائے بنگالی کو قومی زبان کے طور پر رائج کرنے کا نعرہ لگایا تو قائد اعظم نے نہایت سختی کے ساتھ اس رویئے کی مخالفت کی انہوں نے واضح اور دوٹوک انداز میں فرمایا کہ پاکستان کی قومی ، سرکاری اور دفتری زبان اردو اور صرف اردو ہو گی . اور یہی زبان پاکستانی عوام کی امنگوں کی ترجمان بھی ہے اور ان کے ثقافتی اور تہذیبی رویوں کی آئینہ دار بھی

اردو زبان پاکستان کے تمام صوبوں کے درمیان رابطے کی زبان کا کام کرتی ہے اور ملی و قومی سالمیت کا اظہار بھی بنتی ہے قائد نے تحریک آزادی کے لئے بے پناہ جدوجہد کی اور انگریزوں اور ہندوئوں سے مسلمان قوم کو آزاد کروایا ان کی دور اندیشی اور مستقبل شناسی پر کسی کو کیا شک ہو سکتا ہے؟

یوں تو ہم پاکستانی قائد اعظم کے ایام ولادت و وفات سرکاری طور پر مناتے ہیں . حکومت نے سرکاری طور پر قائد اعظم کی سوانح عمری تیار کروائی ہے . تمام کرنسی نوٹوں پر قائد کی تصویر ہوتی ہے لیکن اقتدار میں آنے والے قائد اعظم کے فرامین کی ہمیشہ سے خلاف ورزی کرتے چلے آ رہے ہیں

قائد اعظم نے 21 اکتوبر 1939ء کو آل انڈیا مسلم لیگ کونسل کے اجلاس میں فرمایا کہ ” میری زندگی کی واحد تمنا یہ ہے کہ مسلمانوں کو آزاد اور سربلند دیکھوں . میں چاہتا ہوں جب میں‌مروں تو تو یہ یقین اور اطمینان لے کر مروں کہ میرا ضمیر اور میرا خدا گواہی دے رہا ہو کہ جناح نے اسلام سے خیانت اور غداری نہیں کی اور مسلمانوں کی آزادی ، تنظیم اور مدافعت میں اپنا فرض ادا کیا”

جہاں ہم اپنی ذات پات اور نسلی تفاخرات اور تحفظات کی فکر کرتے ہیں کیا ہی اچھا ہو کہ ایک پاکستانی ہونے کے ناطے اپنی قوم و ملت کی سالمیت اور استحکام کی خاطر اس زبان کی ترقی اور نفاذ میں بھی دلچسپی لیں .

اگر کسی سیاسی جماعت اور سیاسی راہنما کے لیئے ایک پرچم کے نیچے جمع ہوا جا سکتا ہے تو اردو زبان کے فروغ کے لیئے ہم اکٹھے کیوں نہیں ہو سکتے؟

جب ہم پاکستان کا مطلب کیا ؟ لا الٰہ الا اللہ سمجھتے ہیں تو مسلمانون ہونے کے ناطے ہمارا فرض ہے کہ علامہ محمد اقبال کے اس فرمان کو مد نظر رکھیں جو بانگ درا جیسی اعلیٰ مرتبت شعری مجموعہ میں ہے
منفعت ایک ہے اس قوم کی نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایک
حرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک

جب ہمارا فائدہ نقصان اللہ ، رسول ، کلام اللہ ، قبلہ کعبہ سب کچھ ایک ہے تو ہم مسلمان اپنے مذہب اور قومی وقار کو ترجیح دیتے ہوئے ایک جان کیوں نہیں ہو پا رہے ؟ سرکاری دفاتر اور تعلیمی ادارے اردو کو رائج کرنے میں ہچکچا کیوں رہے ہیں؟

دنیا میں‌ہر ملک اور قوم کی اپنی زبان ہے جو کہ اس کے تشخص کی محافظ ہے . دیگر زبانوں میں تعلیم حاصل کرنے یا انہیں سیکھنے میں‌کوئی حرج نہیں کیوں کہ ہمیں غیر ملکی حالات اور دشمنان اسلام کی سازشوں کا مقابلہ بھی کرنا ہے مگر جب تک اردو زبان کو صوبائی اور علاقائی سطح پر اہمیت نہ دی جائے اور تعلیمی اداروں میں انگریزی کی بجائے اردو تعلیم کا رجحان نہ پیدا کیا جائے تب تک اس شیریں و لشکری زبان کا نفاذ نہیں‌ہو سکتا .

اردو زبان میں ہمارا قومی اور تاریخی وتہذیبی ورثی شعری، نثری، تقریری اور ادبی سرمائے کے لحاظ سے مکمل موجود ہے . یہ زبان اتنی چاشنی اور تاثیر رکھتی ہے کہ اس کے درست تلفظ اور لب و لہجہ کا معیار اس کو دیگر زبانوں سے ممتاز و منفرد مقام دیتا ہے .

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بحیثیت پاکستانی اردو کو دفتری ، تعلیمی ، ذرائع ابلاغ ، مجالس و تقاریب میں اردو کے فروغ اور نفاذ کے لیئے رضاکارانہ طور پر کوشاں رہیں . کیوں کہ

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

5/5

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Translate »