شیریں ؔپریشم

ابو ظہبی

ایک بہت ہی خوبصورت پردہ آنکھوں پر پڑا تھا یا سامنے اسٹیج پر ذرا سمجھ سے باہر تھا۔ لیکن لوگ اس پردے کی خوبصورتی بیان کرنے میں یوں مصروف تھے کہ سب کا اولین فرض ہو۔پردہ جس قدر خوبصورت تھا اسی خوبصورت سبک رفتاری سے دونوں جانب (دائیں بائیں ) پیچھے سِرک رہا تھا ۔ جیسے ہی پردہ ہٹاآنکھوں کا تھا یا اسٹیج کا وہاں ایک شاندار شاہانہ ویل چئیر رکھی نظر آئی ۔

لوگ ویل چئیر کی خوبصورتی گنوانے میں ایسے مگن ہوئے کہ انہیں خیال ہی نہ رہا کہ یہ چیئر نہیں ویل چیئرہے۔کرسی کو چاروں طرف سے گھما گھما کر دکھایا جا رہا تھا جس کی بناوٹ رنگ روغن دید کے قابل تھا ۔ لوگ اسے دیکھ دیکھ کر رشک کر رہے تھے ۔ہر ایک اس کا خواہاں نظر آتا تھا۔ یوں لگتا تھا کہ کرسی نیلامی کے لیے رکھی گئی ہےاور جس کے پاس اس کی منہ مانگی قیمت ہو گی وہ پا لے گا۔

لوگ اسی نظارے میں محو تھے کہ کچھ لوگ ایک اجنبی شخص کو پکڑ کر کرسی کی طرف لا رہے تھے ۔ اس شخص کی شکل اور حُلیہ اتنا بھیانک تھا کہ لوگ چیخ مارتے مارتے بچے ۔ جیسے کوئی حسین خواب نہ صرف ٹوٹا ہو بلکہ چکنا چور ہو گیا ہو۔

اس اجنبی کی آنکھیں اتنی اوپر چڑھی ہوئی تھیں کہ آنکھوںکی صرف سفیدی دکھائی دے رہی تھی جو اس کے نابینا ہونے کا پتہ دے رہی تھی ۔

منہ سے رال ٹپک رہی تھی کان بہت زخمی تھے اور ان پر خون آلود پٹیاں بندھی تھیں۔ اس کے دونوں بازو اور ہاتھ اندر کی طرف مڑے ہوئے تھے اور ٹانگیں باہر کی طرف ۔۔

یہ شخص مکمل طور پر معذوری کا شکار دکھائی دیتا تھا۔

یہ بھی بھی پڑھیں

 

اس کے ارد گرد کچھ لوگ موجود تھے جو شاید ڈاکٹر تھے اور ابھی ابھی اسے آپریشن تھیٹر سے لے کر آئے تھے ۔
یہ لوگ اس شخص کو کرسی پر بٹھانا چاہتے تھے لیکن جوں ہی بٹھانے لگتے کرسی پیچھے ہو جاتی یا شاید پیچھے کھڑے لوگ اسے پیچھے کھینچ لیتے ۔ کچھ دیر یہی تگ و دو جاری رہی ۔ اب اس شخص کے چہرے سے بے چینی ظاہر ہو رہی تھی ۔ وہ جلد از جلد کرسی پر ڈھیر ہو جانا چاہتا تھا۔

اسی اثنا میں اس کی آنکھوں سے پانی بہہ نکلا ۔ سمجھنا مشکل تھا کہ خوشی سے بہہ رہا ہے یا غم میں ۔اوپر کھڑے لوگوں نے تالیاں بجانا شروع کر دیں تو پورے مجمع نے بندر کی ٹوپی والی کہانی دہرا ڈالی۔ تالیوں کی گونج نے اس اجنبی چہرے کو ہشاش بشاش کر دیا ۔لوگوں میں چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں ۔اس کرسی کے لیے یہ شخص۔۔۔۔۔زور ”اس ”اور” یہ” پر تھا۔

ایک بولا:۔ کرسی اپنی جگہ لا جواب اور عالیشان سہی لیکن ہے تو ویل چیئر !
دوسرا بولا: اندھوں میں کانا راجہ تو سنا تھا پر یہ تو راجہ ہی اندھا ہے۔بولیاں شروع ہو گئیں ہر ایک اپنا نظریہ بیان کر کے خود کو قابل ظاہر کر رہا تھا۔

ایک اور نے لقمہ دیا میاں! چھوڑو ساری باتیں وہ دیکھو کرسی کی خوبصورتی نے اس کے سارے عیب چھپا لیےہیں ۔اس کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے جواب آیا دیکھو اب وہ خود بھی خوبصورت لگ رہا ہے۔ واقعی یار اب تو کہیں سے معذور بھی نہیں لگ رہا ۔

ارے میاں کرسی نے ساری کَلیں سیدھی کر دیں ۔قہقہے کا شور گونجا۔۔۔۔واہ بھئی آنکھیں تو دیکھو اب تو سفیدی کی جگہ سیاہی پھیل گئی ہے۔ کس قدر توانا لگ رہا ہے بھئی۔ ارے دیکھو اب تو کرسی سے بھی زیادہ خوبصورت لگ رہا ہے۔

نہ کر یار ۔۔۔۔۔ہاں خود دیکھ لو۔۔۔۔ارے ہاں جادو ہے یار کرسی میں۔۔۔

ارے وہ دیکھو اس کا دماغ اوپر لگی مشین کے ہاتھوں میں ہے ۔

مجھے تو یہ کرسی کرنٹ والی کرسی لگتی ہے۔بھئی خدا بچائے ایسی کرسی سے۔

تمہیں کیا پتہ دقیانوسی کہیں کے ۔۔۔۔جدید ٹیکنالوجی کا شاہکار ہے یہ کرسی۔
دیکھو جسم کے ہر ہر عضو کو کیسے کارآمد بنا دیا۔

مجھے تو اس شخص پر ترس آرہا ہے ۔بھئی میں تو کانوں کو ہاتھ لگاتا ہوں خدا بچائے ایسی معذوری سے جو دوسروں کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی بنا کر رکھ دے۔

کیسی محتاجی ۔۔۔۔شان ، مزے اورٹھاٹھ باٹھ تو دیکھو۔۔۔

ان لوگوں کو دیکھو جو ترسی ہوئی نظروں سے دیکھ رہے ہیں کہ ایک بٹن کے نیچے ساری دنیا ہے۔
ترسی ہوئی نہیں ترس اور ہمدردی کی نظر سے ۔۔۔ایک مرتبہ پھر تالیوں کی گونج سنائی دی ۔

لوگوں کو اس شخص سے ہمدردی ہو رہی تھی جو بڑھتے بڑھتے عزت اور پھر خوف میں تبدیل ہو گئی ۔
کرسی پر براجمان اجنبی وقت کا حکمران تھا جو ابھی ابھی آپریشن تھیٹر سے مکمل معذور ہو کر نکلا تھا۔

Translate »